مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آرٹیکلز
پاکستان کی صورتحال اور تارکین وطن
میرا تعلق کشمیر کے ایک دور افتادہ گاؤں سے ہے بچپن میں جب آنکھ کھولی اور ہوش سنبھالا تو اپنے ارد گرد سرسبز و شاداب درختوں کی ہریالی، گھر میں ایک چھوٹا سا کنبہ گائوں کے سیدھے سادھے لوگ تھے۔ بارشی پانی سے کھیتی باڑی لوگوں کا زریعہ معاش تھا دو وقت کی روکھی سوکھی
مرغی آنڈے!!!
یہ وہ صدا ہے جو ہمارے گاوں میں انڈے خریدنے والا لگاتا تھا اور جس جس کے گھر کوئی آنڈہ برا ئےفروخت ہوتا وہ اپنے بچوں کے ہاتھ یا خود آکر اس انڈہ بیوپاری کو دے دیتا جو ہمارے قریبی قصبہ مامونکانجن سے ساییکل پہ آیا کرتا تھا۔ آس کے پاس ایک خاص قسم
تم آگ کا دریا ،میں سمندر کی ہوا ہوں!!!!!!!!!
اسے قسمت کی خرابی کہیے یا پھر مقدر کا لکھا کہ کچھ صورتوں میں سب کچھ اچھا کرنے کے بعد بھی ہماری اچھائی یا پھر حسن سلوک کو ستائش اور پذیرائی نہیں ملتی۔Do good Have goodجیسے مقبول عام مقولے بے جان اور بے حیثیت سے دکھائی دینے لگتے ہیں، ’نیکی کر دریا میں ڈال‘ والا
عمران خان کا اصلی یو ٹرن
وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان کی زندگی کا اصلی یوٹرن وہ ہے، جسکی طرف اسکے مخالفین نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا وہ ہے انکا ایک پلے بواےٓ شہرت کے حامل شخص ہونے سے ایک عاشقِ رسول ہونے کا یو ٹرن۔ اسکے علاوہ کیٓ ایسی باتین جن کو ان کے مخالفین یوٹرن کا نام
محبت کے سفر میں راستے پُرخار ہوتے ہیں!!!!
یہ ستمبر1978 کی بات ہے، مرار جی ڈیسائی تب بھارت کے وزیر اعظم تھے اور جناب اٹل بہاری واجپائی وزیر خارجہ ۔افغانستان میں حفیظ للہ امین کی حکومت تھی، واجپائی صاحب افغانستان کے دورے پر گئے تو حفیظ اللہ امین نے انہیں ایک ایسا مشورہ دیا کہ واجپائی صاحب بھی حیران اور ششدر
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
جب کرائیسز مینیجمنٹ کے لیے وسائل کے ساتھ ساتھ صلاحیتوں کا بھی فقدان ہو تو انتہائی پر امن احتجاجی مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک بلوے میں بدل جاتے ہیں۔لاکھوں کروڑوں کی املاک برباد ہوجاتی ہیں، لوگ مارے بھی جاتے ہیں اور زخمی بھی ہوتے ہیں۔ ۔ پھر یہ
آپ بھی تعصب سے آزاد ہوں
اللہ کی شان جمہوریت کے استاد اب وہ کہلانے لگے ہیں جنہوں نے آمریت کی در در کی خاک چھانی . یہ جو در در کی خاک چھان کر بھی سبق حاصل نہیں کرتے, یہی لیڈر کے سر میں خاک ڈالنے کی وجہ بنتے ہیں اور باعث شرمندگی بھی .... ہم نے مانا
آزادی کشمیر کی خواہش بھی گناہ ہے کیا ؟؟؟؟؟
آزادی کی خواہش اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے دعا اور جدوجہد اگر دہشت گردی ہے تو یقین رکھیے کہ مقبوضہ کشمیر میں دودھ پیتے معصوم بچوں سے لے کر گھروں میں روٹی ہنڈیا کرنے والی عورتوں تک ہر ایک دہشت گرد ہے۔تحریک آزادی ء کشمیر اپنے منطقی انجام کو پہنچنے کے بعد
دو سو ارب ڈالرز کی کہانی
وزیرخزانہ اسد عمر کے منہ سے یہ سن کر ایک دھچکا لگا کہ سوئس بینکوں کے دو سو ارب ڈالرز کی کہانی اب ختم ہی سمجھیں ۔ارشد شریف نے اسد عمر سے پوچھا کہ ان دو سو ارب ڈالرز کا کیا بنا‘ جو سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے تھے؟ اسد عمر نے ایک قہقہہ مارا
زمین پر دیوار چین
جب بھی سی پیک منصوبے کی بات ہوتی ہے، نہ جانے کیوں ہمارے چند تجزیہ کار ہماری قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ جیسے ماضی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر پاک و ہند کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا تھا اسی طرح اس سی پیک منصوبے
میاں جی کی لڑکیاں
میاں جی کو فکر تھی تو صرف اور صرف ان چھ جوان جہان لڑکیوں کی جن کی حفاظت میاںجی کے لیے اپنی زندگی سے بھی کہیں زیادہ اہم تھی۔ سارا شہر آگ کی لپیٹ میں تھا، ہندو انتہا پسند سار ا دن گلیوں میں لمبے لمبے چھرے لہراتے مسلمانوں کی تلاش میں پاگل کتوں
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
یہ کہاوت اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا، لیکن یہ سچائی بھی اپنی جگہ ہمیشہ سے قائم دائم ہے کہ ڈرایا صرف اسی کو جاتا ہے جو ڈرنا چاہتا ہے۔ہمار ا ارادہ، ہماری ہمت اور ہمارا حوصلہ غیر متزلزل ہو تو یقین کیجیے زندگی کے کسی بھی
میں اور عمران خان
عمران خان کے سیاست میں آنے سے پہلے سن1990میں گورنمنٹ کالج میں فنڈ ریزنگ کیلئے عمران کے آنے کی نوید سنی تو میں بھی ان پرستاروں میں سے ایک ہوں جو عمران خان کو بچپن ہی سے اپنا ہیرو تصور کرتا تھا کیونکہ میں خود کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا اور میری ٹیم کنگز کرکٹ
محبت، عادت یاضرورت
زندگی میں ہر کام مالی منفعت کے لیے نہیں کیا جاتا ،بہت سے کام دل کے سکون اور روح کی کی طمانیت کے لیے بھی کیے جاتے ہیں لیکن تعریف اور ستائش کی خواہش ہر حال میں انسانی جبلت کا حصہ رہتی ہے۔مالک تھپکی نہ دے، کمر پر دھیرے دھیرے نہ سہلائے تو
دعائیں دل سے نکلتی ہیں التجا بن کر!!!!!!!!!!!
’My name is Khan and I am not a terrorist‘۔۔۔۔آپ سب کو ’مائی نیم از خان ‘نام کی ہندی فلم کا یہ ڈائیلاگ ضرور یاد ہوگا۔ 2010کے ابتدائی دنوں میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو اپنے اچھوتے موضوع کے حوالے سے بالخصوص مسلمان حلقوں میں بہت سراہا گیا تھا، مسلمان سمجھتے تھے
خدا کے بندوں سے پیار کرنا ہی زندگی ہے!!!!!
آئیے آج آپ کو ایک ایسے شہر کی سیر کرائیں جہاں انسانوں کو مارنے کے نت نئے ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ ہے بھارت کا شہر چالیکرے(Challakere)۔ بنگلور سے کوئی دو سو کلومیٹر فاصلے پر واقع اس شہر کو ایک زمانے میں آئل سٹی اور سائنس سٹی بھی کہا جاتا تھا مگر
خزاں رسیدہ درختوں پے پھل نہیں لگتا!!!!
ابھی چند روز پہلے کی بات ہے، مجھ جیسے غیر سیاسی آدمی کو قومی اسمبلی کے ایک امیدوار نے اپنی کارنر میٹنگ میں شرکت کے لیے بہت اصرار سے مدعو کر لیا۔الیکشن لڑنے والوں کا ایک نفسیاتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ کامیابی سے پہلے ہی خود پر وہ حلیہ مسلط کر لیتے
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
برداشت اور تحمل اصل میں ایک ہی صفت کے دو نام ہیں۔جہاں تک میدان سیاست کا تعلق ہے برداشت اور تحمل کے بغیر اس میدان میں کامیابی کا کوئی تصور ہی نہیں۔ لوگوں کی باتیں ، احسان فراموشیاں،اقرباء کی ناجائز فرمائشیں اور بے جا الزامات کی بارشیں، سیاست دان کی جھولی ان چیزوں سے
وصال و ہجر کا قصہ بہت پرانا ہے
ہم کتابیں لکھ رہے ہیں اور اس بات پر خوش ہورہے ہیں کہ ہماری قوم میں کتب بینی کا رجحان بڑھ رہا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ کتابیں کہیں ان عامیانہ ناولوں کی طرح تو نہیں جو نکمے اور کام چور طالب علم امتحان سے ایک رات پہلے درسی کتابوں کے