مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بلوچستان زلزلہ کےبعدبحیرہ عرب میں نمودار ہونے والا "زلزلہ جزیرہ" آہستہ آہستہ غائب ہونے لگا
گوادر ... ایک تحقیق کے مطابق ترقی پزیر ممالک کے عوام مصائب کے بوجھ تلے اتنا دب جاتے ہیں کہ انہیں حقیقت سے دلچسپی نہیں رہتی اور وہ سنسنی خیز دنیا میں رہنا پسند کرنے لگتے ہیں۔ یہ امر اس حوالے سے حقیقت لگتا ہے کہ دو ماہ قبل ستمبر میں بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں بحیرہ عرب میں ابھرنے والے جزیرے کو پاکستان کے زیادہ تر عوام بھول چکے ہیں۔ مقامی طور پر اسے زلزلہ جزیرہ کا نام دیا گیا تھا۔ جو اس وقت گوادر کی بندرگاہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کی مسافت پر سمندر کی سطح سے اوپر ابھر آیا تھا۔ سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ یہ سمندر کی سطح سے 18 میٹر بلند ہے۔ جزیرے کی لمبائی 152 میٹر جبکہ اس کی چوڑائی 182 میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔ ورلڈ وائڈ فنڈ پاکستان سے منسلک ماہر حیاتیات کا کہنا ہے کہ جب سے یہ جزیرہ سمندر میں ابھرا ہے اس کے بعد سے یہ تین میٹر تک اندر دھنس چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔ ناسا کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق بھی یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ جزیرہ حجم میں سکڑ رہا ہے۔