مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
بلوچستان زلزلہ کےبعدبحیرہ عرب میں نمودار ہونے والا "زلزلہ جزیرہ" آہستہ آہستہ غائب ہونے لگا
گوادر ... ایک تحقیق کے مطابق ترقی پزیر ممالک کے عوام مصائب کے بوجھ تلے اتنا دب جاتے ہیں کہ انہیں حقیقت سے دلچسپی نہیں رہتی اور وہ سنسنی خیز دنیا میں رہنا پسند کرنے لگتے ہیں۔ یہ امر اس حوالے سے حقیقت لگتا ہے کہ دو ماہ قبل ستمبر میں بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں بحیرہ عرب میں ابھرنے والے جزیرے کو پاکستان کے زیادہ تر عوام بھول چکے ہیں۔ مقامی طور پر اسے زلزلہ جزیرہ کا نام دیا گیا تھا۔ جو اس وقت گوادر کی بندرگاہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کی مسافت پر سمندر کی سطح سے اوپر ابھر آیا تھا۔ سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ یہ سمندر کی سطح سے 18 میٹر بلند ہے۔ جزیرے کی لمبائی 152 میٹر جبکہ اس کی چوڑائی 182 میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔ ورلڈ وائڈ فنڈ پاکستان سے منسلک ماہر حیاتیات کا کہنا ہے کہ جب سے یہ جزیرہ سمندر میں ابھرا ہے اس کے بعد سے یہ تین میٹر تک اندر دھنس چکا ہے اور یہ عمل جاری ہے۔ ناسا کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق بھی یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ جزیرہ حجم میں سکڑ رہا ہے۔