مقبول خبریں
lets talk گروپ کے زیر اہتمام کمیونٹی کو ذہنی امراض کی آگاہی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد
صادق خان رسوائی کا باعث اور برطانیہ کے دارالحکومت لندن کو تباہ کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایران، اقوام عالم جوہری معاہدہ، کسی کی ہار یا جیت واضع نہ ہوسکی، اسرائیل مضطرب !!
جنیوا ... ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی تجربات کی روک تھام کے حوالے معاہدہ بالآخر طے پاگیا۔ بظاہر ایران بھی خوش دکھائی دیتا ہے اور امریکہ بھی مطمئن مگر اسرائیل اپنے اضطراب کو چھپانے میں ناکام رہا ہے۔ اسرائیل نے اسے تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کا پابند نہیں۔ سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پانچ روزہ بات چیت کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے کے تحت جہاں ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرے گا وہیں اس کے بدلے میں اسے پابندیوں میں نرمی کی بدولت تقریباً سات ارب ڈالر بھی حاصل ہو سکیں گے۔ برطانیہ کے معروف سفارتی تجزیہ نگار جونتھن مارکس نے اس صورتحال پر قابل غور تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پہلے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں اضافے کا مقصد اسے مذاکرات کی میز پر لا کر اس کے جوہری پروگروام پر کوئی سمجھوتہ کرنا تھا۔ اب ایران کے ساتھ مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ اس کے خلاف اسرائیل یا امریکہ یا دونوں کی طرف سے کوئی بھی فوجی کارروائی خوش گوار طریقہ نہیں تھا"۔ بظاہر یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کے نقطۂ نظر سے اچھا دکھائی دیتا ہے جس کی شاید بہت سے تجزیہ کار توقع نہیں کر رہے تھے۔ معاہدہ طے پانے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے ایران میں ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا حق ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا منصوبہ جاری رکھے۔ انہوں نے کہا اس کی جیسے بھی تشریح کی جائے لیکن اِس معاہدے میں یہ واضح طور پر طے کیا گیا ہے کہ ایران اپنا افزودگی کا پروگرام جاری رکھے گا۔ اور اِس مقصد کے لیے میں ایرانی قوم کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی ماضی کی طرح جاری رہے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا پابند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے خطرناک قوم دنیا کے سب سے خطرناک ہتھیار کے حصول کی جانب اہم قدم اٹھانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ انہوں نے بھی واضح کیا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔