مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے اہل اختیار اپنی دنیا میں محو ہیں انہیں عوامی و ریاستی مشکلات کا ادراک نہیں: سجاد کریم
بری ... یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کے حوالے سے عوام میں زیر بحث جی ایس پلس پاکستان کے معاشی استحکام میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ فرینڈز ٓف پاکستان کے پلیٹ فارم سے وطن عزیز پاکستان کی معیشت کی مضبوطی کیلئے بہت کام کیا گیا۔برطانیہ کی حکمران پارٹی بہترین پالیسیوں کی حامل جماعت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممبر یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں معروف سماجی و کاروباری شخصیت چوہدری محمد منیر گورسی جے پی آف بری کی رہائش گاہ پر ایک نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاجہاں کمیونٹی کے حوالے سے حالات حاضرہ اور یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان و دیگر جنوبی ایشیاء سے متعلق معاملات پربھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر طانوی اٹارنی جنرل ڈومینک گریو کے پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے دئیے گئے ایک بیان اور بعدازاں ان کی معذرت کر لینا بھی زیر بحث رہااور رکن یورپی پارلیمنٹ سجاد کریم نے جی ایس پی پلس کی اہمیت اورپاکستان کی معیشت پر اس کی منظوری سے مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے مفصل گفتگو کی اور حاضرین کے سوالات تسلی بخش جواب دئے۔سجاد کریم نے کہا کہ وہ 2004 ء میں جب پہلی بار رکن یورپی پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے تو اس وقت سے اس پر کام کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی دی اور اس طویل سفر میں اگرچہ مشکلات آئیں اور یورپی پارلیمنٹ میں سوشلسٹ گروپ مخالف تھا مگر بر طانیہ سے لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹ کے تما م اراکین یورپی پارلیمنٹ کی انہیں حمایت حاصل رہی اور وہ ان سب کے شکر گزار بھی ہیں انہوں نے بتایا کہ کمیٹی ووٹنگ سے تو پاکستان کو حمایت حاصل ہوگئی ہے اب مخالفین کی جانب سے اس کے خلاف اعتراضات داخل کرانے کی مہلت میں اب ایک دن کی مہلت رہ گئی ہے سجاد کریم نے اٹارنی جنرل کے متنازعہ بیان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلاجواز تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا عمل کنزر ویٹو پارٹی کی کسی پالیسی کا حصہ ہے جبکہ اسے غلط ثابت کرنے کے لئے کیا یہ کافی نہیں کہ اٹارنی جنرل اس حوالے سے تنہا رہ گئے پارٹی کے اند ر اور باہر میڈیا پرمیری مخالفت کا انہیں سامنا کرنا پڑا اور بلا تاخیر معافی مانگنی پڑی. افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے ارباب بست و کشاد تو اپنے اللے تللوں میں محو ہیں اور انہیں ریاست پر آنے والی مشکلات کا ادراک ہی نہیں۔ یہ نادیدہ قوتیں پاکستان کے ان حمائیتیوں کو ان خیر خواہوں کو کمزور اور ختم کرنا چاہتی ہیں جو بیرون ملک رہتے ہوئے پاکستان کی متعدد ذرائع سے مدد امداد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں مختلف ملکوں کے فرینڈز گروپ ہیں میں جب منتخب ہو کر یورپی پارلیمنٹ میں گیا تو مجھے یہ کمی محسوس ہوئی اور میں نے ساتھیوں کو ساتھ ملا کر فرینڈز ااف پاکستان گروپ تشکیل دیا دوسرے ملکوں کے فرینڈز گروپ مثلاً انڈیا فرینڈز گروپ ، بنگلا دیش ، سری لنکا یا دوسرے بہت سے ممالک کے فرینڈز گروپ ہیں جنہیں متعلقہ ملک سپورٹ کرتے ہیں جبکہ پاکستان گروپ کی ’کفالت‘ میں کرتا ہوں اگر میں وہاں نہ ہوں تو گروپ ختم بھی ہو سکتا ہے اس لئے میری خواہش ہے کہ اس نو سالہ گروپ کو پاکستان سنبھال لے اپنی مرضی کا سربراہ لے آئے جو اس کے مفاد میں ہے ۔اس موقع پر راجہ آفتاب شریف ، بیرسٹر محمد خان، راجہ محمد اظہر خان ،چوہدری اعجاز احمد اور اکرم بیگ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اس نمائندہ اجلاس میں مقررین کے علاوہ چوہدری حاکم علی ، چوہدری عنصر علی ، ، چوہدری عبد الباری ، چوہدری شمریز اقبال ، چوہدری غلام سرور ، چوہدری الیاس آف مرالہ ، چوہدری محمد فاروق ، معروف صحافی راجہ خورشید حمید ، چوہدری محمد اشرف اور چوہدری اظہر علی کے علاوہ نیلسن سے حاجی صغیر احمد ،کونسلر عبد العزیز، محمد عبد اللہ زیداور شہزاد انور موجود تھے۔ اس اجلاس کے شرکاء نے سجاد کریم کو آنے والے انتخابات میں خود بھی تعاون کرنے کا یقین دلایا اور بری میں ان کی انتخابی مہم چلانے کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیاتاکہ انتخابی مہم مؤثر طور پر کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔