مقبول خبریں
چوہدری مطلوب کی رہائشگاہ پر جشن عیدمیلادالنبیؐ کی محفل ،نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
نواز علی کی رہائش گاہ پرحضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے سالانہ عرس پرمحفل کا انعقاد
مرغی آنڈے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
لندن ( خصوصی رپورٹ اکرم عابد چوہدری ) برطانوی پارلیمنٹ میں آل پارٹیز کشمیر کانفرنس کا انعقاد ، برطانوی پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں آل پارٹیر کشمیر کانفرنس کے مہمان خصوصی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ، اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین ، چئیرمین آل پارٹیز کشمیر گروپ ایم پی کرس لیزلی تھے ۔ کانفرنس میں برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی ، اپوزیشن پارٹی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ، کمیونٹی رہنماؤں ، مختلف تنظیموں کے رہنماؤں ،سول سوسائٹی کے ارکان ، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔کانفرنس کا اہتمام تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل نے کیا تھا، کانفرنس پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد کی گئی ۔ کانفرنس میں آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ زیر بحث لائی گئی ، اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم برطانو ی ممبران پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے بھارتی بربریت کا شکار کشمیریوں کی آواز بلند کی اور ترجمانی کرتے ہوئے ایک جامع رپورٹ پیش کی ۔ اقوام عالم اور انسانی حقوق کے اداروں کو کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ بڑھانا ہو گا ۔آئے روز کشمیر میں ظلم و بربریت کی حدیں پار کی جا رہی ہیں ۔ بھارتی فورسز کے جانب سے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے ہزاروں کشمیری زخمی و بینائی سے محروم ہو گئے ہیں ۔ بھارت ایک منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ کشمیری اپنے حق خود ارادیت کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں جسے اقوام عالم نے بھی تسلیم کر رکھا ہے ۔کالے قوانین کے تحت حریت قیادت و لیڈران کو جیلوں میں قید اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں لاقانونیت کا دور دورہ ، ایسا کوئی حق انسانی یا حق آزادی نہیں جس کی پامالی مقبوضہ کشمیر میں نہ کی گئی ہو غرض کہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ بن چکا ہے ۔ برطانیہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک انسانی حقوق ، مساوات کی بات کرتے ہیں اور اس کے علمبردار ہیں ۔کشمیر میں اس وقت انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں جاری ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں ۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین نے کہا کہ کشمیر ی بھارتی ظلم و جبر کا سامنا کرتے ہوئے اپنی تحریک آزادی کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارت اپنا ہر حربہ آزما چکا ہے لیکن وہ کشمیریوں کا جذبہ حریت ختم نہیں کر سکا ۔ برطانوی پارلیمنٹ کی رپورٹ اقوام عالم اور عالمی اداروں کے لیے ایک بڑا ثبوت ہے جس پر کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور حق خود ارادیت دلوانے کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا ۔عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرائے ۔ کانفرنس سے چئیرمین آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ ایم پی کرس لیزلی نے خطاب کرتے ہوئے رپورٹ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے ۔ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور اس پر عالمی اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ سمیت دیگر بڑے ممالک کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ۔ اس موقع پر کانفرنس کے میزبان و تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے چئیرمین راجہ نجابت حسین نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ سمیت اب برطانوی پارلیمنٹ کی رپورٹ بھی منظر عام پر آ گئی ہے اب عالمی اداروں اور اقوام عالم کو مزید کس ثبوت کی ضرورت ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ بڑھائے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے ۔ راجہ نجابت حسین نے کانفرنس کے شرکاء کو سفارتی سطح پر سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور مستقبل قریب میں برطانیہ و یورپ میں کی جانی والی کانفرنسز اور سیمینارز پر بھی روشنی ڈالی ۔ راجہ نجابت حسین نے کہا کہ کشمیری جہاں عمل میدان میں مشکل ترین حالات سے گزر کر تحریک کو پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں وہیں ہماری بھی ذمہ داری دوگناہ جاتی ہے کہ سفارتی سطح پر اس تحریک کو نئی حکمت عملی ، جدید تقاضوں کے مطابق تیز تر کیا جائے ۔ سفارتی سطح پر متحرک افراد ، تنظیموں کے ساتھ مل کر ہم انشاء اللہ ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جنگ ہر دو محاذ پر لڑی جا رہی ہے اور انشا ء االلہ اس کے مثبت نتائج بر آمد ہوں گے ۔ اس موقع پر برطانوی ممبران پارلیمنٹ و شیڈو وزراء ایم پی ناز شاہ ، ایم پی افضل خان، کنزرویٹو فرینڈز آف کشمیر کے چئیرمین ایم پی جیک برئیرٹن ، ایم پی لائن سمتھ، لارڈ قربان حسین ،لارڈ نذیر احمد ،ایم پی فیصل رشید ، ایم پی میکون زئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے پرانہ مسئلہ ہے لیکن 71سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں نے اپنی جدو جہد اور قربانیوں سے اس مسئلہ کو زندہ رکھا ہو ہے ۔ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ۔ برطانیہ مسئلہ کشمیر کی ابتداء کے وقت تنازعہ میں شامل تھا اب برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اس تنازعہ کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کروائے ۔کانفرنس میں ممبران برطانوی پارلیمنٹ اور ممبران ہاؤس آف لارڈ کو یادگاری شیلڈز دی گئیں ۔ آل پارٹیز کشمیر کانفرنس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، بھارتی ظلم و ستم کے خلاف میں قراردادیں بھی منطور کی گئیں ۔ کانفرنس میں شریک ممبران برطانوی پارلیمنٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دیگر ممبران پارلیمنٹ کو کشمیریوں کے حق میں امادہ کرتے ہوئے انہیں آل پارٹیز پارلیمنٹری کشمیر گروپ کا حصہ بنائیں گے ۔ کشمیر کانفرنس میں لیبر پارٹی برطانیہ کی سینئر رہنماء و چئیرپرسن تحریک حق خود ارادیت برطانیہ کونسلر یاسمین ڈار ،ڈاکٹر سید نذیر گیلانی ، کنزرویٹو پارٹی کے رہنماء و تحریک حق خود ارادیت کے ڈائریکٹر پروگرامز ہیری بوٹا ، سیکرٹری جنرل تحریک حق خود ارادیت محمد اعظم ، تحریک لندن کی چئیرپرسن شاہدہ جرال ،مسلم لیگ ن کی رہنماء بلقیس صابر راجہ ، طارق بٹ ، ڈاکٹر صبور جاوید سمیت دیگر بڑ ی تعداد میں اہم شخصیات نے شرکت کی ۔