مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دل آزاری پر پاکستانی کمیونٹی سے معافی مانگتا ہوں: برطانوی اٹارنی جنرل ڈومینک گریو
لندن ... برطانوی اٹارنی جنرل ڈومینک گریو نے ایک اخبار کو دئے گئے اپنے انٹرویو میں برٹش پاکستانی کمیونٹی بارے ریمارکس پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی بات کا وہ مقصد نہ تھا جو شائع کیا گیا۔ انہوں نے کہا میرا اخبار سے یہ کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو ملک کی اقلیتی برادریوں میں بدعنوانی کے مسائل کا ادراک کرنے ضرورت ہے۔ اس ضمن میں جب اشارہ پاکستانی کمیونٹی کی طرف ہوا تو اس پر معزرت خواہ ہوں۔ معزرت کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اشارہ کرنا کہ پاکستانی برادری میں بدعنوانی کے مسائل ہیں غلط تھا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا پاکستانی برادری کی دل آزاری کرنے پر معافی مانگتا ہوں۔ اس سے قبل انہوں نے ٹیلیگراف کو انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض لوگ اقربا پروری اور نوازشات والے سماج سے برطانیہ آتے ہیں لیکن انہیں یہ باور کرایا جانا چاہیے کہ برطانیہ میں یہ طرزِ عمل قابل قبول نہیں ہے۔ برطانیہ آنے والے بہت سے مہاجرین ایسے ممالک سے آتے ہیں جہاں بدعنوانی نے وبائی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں سیاستدانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ اس سوال پر کہ کیا ان کا اشارہ پاکستانیوں کی جانب سے ڈومینیک گریو نے کہا کہ ہاں یہ بھارتی نہیں بلکہ زیادہ تر پاکستانی برادری ہی ہے۔ تاہم میں کسی ایک کا نام نہیں لوں گا اور یہ کہنے سے اجتناب کروں گا کہ یہ صرف پاکستانیوں کا مسئلہ ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان نے بعدازاں بی بی سی کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ برطانیہ میں دوسری اقلیتی برادریوں کے ساتھ اختلاط کے عمل نے سب کو فوائد پہنچائے ہیں۔ بدعنوانی کے معاملے پر انھوں نے کہا: ’میرا اس بارے میں واضح موقف ہے کہ یہ مسئلہ کسی خاص برادری سے مخصوص نہیں اور یہ بات میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کیونکہ میں نے کئی سال مختلف برادریوں کو ساتھ مل کر رہنے کی حوصلہ ا‍‌فزائی کی ہے۔