مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
یہاں 120سالوں میں کچھ بھی نہیں بدلا
دنیا میں کچھ لوگ ایسے کام بھی کر جاتے ہیں جن کیلئے انسانیت ہمیشہ انہیں خراج تحسین پیش کرتی رہتی ہے۔ برطانوی فوٹو جرنلسٹ ہیزل تھامسن 2002 میں انڈیا گئیں تو مقصد کچھ اور تھا لیکن اس دورے نے انکی زندگی ایسی بدلی کہ وہ گیارہ سال تک انسانی خدمت کے ایسے منصوبے سے منسلک ہوگئیں جس نے لاتعداد مجبور، لاچار اور بےکس عورتوں اور انکے خاندانوں کو امید بھری زندگی کے ساتھ جینا سکھا دیا۔ بی بی سی کے ایک خصوصی پروگرام میں ہیزل نے بتایا کہ وہ گذشتہ ایک دہائی سے بھارت میں جسم فروشی کے بازار میں لائی جانے والی لڑکیوں کی زندگی پرتحقیق کر رہی ہیں۔ اس تحقیق کو انہوں نے کتاب کی صورت میں محفوظ کرلیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی چیریٹی جوبلی سے مل کر بھارت کی اس انسانیت سوز انڈسٹری کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ اپنے تحقیقی سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گڈّي جب صرف 11 سال کی تھی تو ایک پڑوسی نے اس کے گھر والوں کو اسے ممبئی بھیجنے کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ اس کا گھر ممبئی سے سینکڑوں میل دور مغربی بنگال کے ایک افلاس زدہ گاؤں میں تھا۔ اسے اچھی تنخواہ والی گھریلو ملازمت دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس کے بجائے اسے ایشیا کے سب سے بڑے جسم فروشی کے بازار میں سے ایک میں سیکس ورکر کے طور پر پہنچا دیا گیا۔ وہاں ایک گاہک نے اس کے ساتھ ریپ کیا اور اس کے بعد تین ماہ اسے ہسپتال میں رہنا پڑا۔ دل دہلا دینے والی یہ داستان اکیلی گڈّي کی نہیں ہے بلکہ ہیزل کے مطابق كماٹھی پورا کی 20 ہزار سے زیادہ سیکس ورکروں میں سے بہت سی خواتین کی کہانی ایسی ہی ہے۔ تھامسن کا كماٹھی پورا کا سفر 2002 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب وہ قحبہ خانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی تصاویر لینے گئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے تجربے پر مبنی ای بک "ٹیکن" لکھی ہے۔ ممبئی کا قدیم ترین اور سب سے بڑا یہ جسم فروشی کا بازار چودہ تنگ و تاریک گلیوں پر مشتمل ہے جو کہ ممبئی کی اقتصادی ترقی کی چکاچوند اور فلک بوس عمارتوں میں کہیں گم ہے۔ اسے 150 سال پہلے نو آبادیاتی برطانوی دور حکومت میں برطانوی فوجیوں کی عیش گاہ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ انیسویں صدی کے دوران برطانوی فوج نے پورے بھارت میں اپنے فوجیوں کے لیے کئي قحبہ خانے قائم کیے تھے جہاں گاؤں کے غریب گھرانوں سے کمسن لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے لایا جانے لگا۔ انہیں براہ راست فوج سے پیسے ملتے تھے اور فوج ہی ان کی قیمت طے کیا کرتی تھی۔ 1864 تک ممبئی کے ارد گرد آٹھ ایسی بستیاں تھیں جہاں اسوقت بھی500 سے زیادہ سیکس ورکرز رہتی تھیں۔ تقریبا 60 سال بعد ان میں سے صرف دو بستیاں رہ گئيں اور ان میں كماٹھی پورا سب سے بڑی بستی تھی۔ 1890 کی دہائی میں میں پر تشدد گاہکوں سے بچانے کے لیے پولیس نے ان عورتوں کے لیے کھڑکیاں بنوائیں اور دروازوں پر سلاخیں لگوائی تھی۔ خواتین آج بھی برطانوی افسروں کے ذریعے بنائے گئے ان پنجروں میں رہتی اور کام کرتی ہیں۔ تھامسن کا کہناہے کہ وہاں انسان جتنی مرضی ترقی کے دعوے کرے لیکن گذشتہ 120 سالوں سے بھارت کے كماٹھی پورا میں کچھ نہیں بدلا۔ 11 سال تک میرا وہاں آنا جانا رہا۔ اس دوران مجھے ایسی ایک عورت نہیں ملی جس نے اپنی مرضی سے یہ کام کیا ہو۔ یہ عورتیں یا تو یہیں پیدا ہونے والی تھیں یا اسمگلنگ کے ذریعہ لائی گئی تھیں۔ اپنی کتاب میں انہون نے ایک سیکس ورکر کے وزیٹنگ کارڈ کا عکس بھی چھاپا ہے جو سیاحوں کو لبھانے کیلئے انگلش میں ہے۔ فیس بک پر اپنے پیج پر ہیزل تھامسن نے اپنے چاہنے والوں سے درخواست کی ہے کہ بھارت میں ایسی عورتوں کو ذلت کی اس دلدل سے نکالنے کیلئے اس کا ساتھ دیں اور اس سفر میں اسکے ہم سفر بنیں جسکا آغازاس نے برٹش چیریٹی جوبلی کے ساتھ کیا ہے۔