مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آپ بھی تعصب سے آزاد ہوں
اللہ کی شان جمہوریت کے استاد اب وہ کہلانے لگے ہیں جنہوں نے آمریت کی در در کی خاک چھانی . یہ جو در در کی خاک چھان کر بھی سبق حاصل نہیں کرتے, یہی لیڈر کے سر میں خاک ڈالنے کی وجہ بنتے ہیں اور باعث شرمندگی بھی .... ہم نے مانا کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے قد و قامت سے بھی بڑھ کر غلطیاں کیں لیکن کچھ کام بھی کئے. جنرل مشرف سے جو لوڈشیڈنگ, پھر بدقسمتی سے عالمی منڈی میں پٹرول اور کوکنگ آئل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں اور ڈالر کی اونچی اڑان زرداری حکومت کو جہیز میں ملے تھے. حکومتی سر منڈاتے ہی خارجی سطح پر اجمل قصاب کیس کے اولے بھی پڑے, باوجود ان چیلنجز کے جنرل مشرف کو چلتا کیا جو بگھتا بھی. تاہم جب گلچھرے بھی اڑائے جاتے تھے , تو اس وقت شاہ محمود قریشی, غلام سرور خان, بابر اعوان, صمصام بخاری, فواد چوہدری فردوس عاشق اعوان جیسے بیسیوں زرداری کا حقہ پانی تازہ کرتے تھے. اب انصافیوں کو یہ یاد ہو کہ نہ یاد ہو ؟ پھر لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کے چیلنجز میاں نواز شریف کا مقدر بھی بنے جو خوب نبردآزما ہوئے. وزیر اعظم کہتے ہیں کان کھول کر سن لو کہ این آر او نہیں ہوگا, اوکے سن لیا (الیکٹ ایبل سے جو این آر او مجبوری بن جاتے ہیں تو میثاق جمہوریت بھی گناہ ناگزیر ہوجائے کرتے ہیں) . سردست آپ کو زرداری کی ہلکی پھلکی موسیقی بری لگی, کہ کہیں واقعی اپوزیشن اکٹھی نہ ہوجائے. سعودی پلٹ تقریر میں غصے کا عنصر بتاتا ہے کہ سرکار کے ہاں بوکھلاہٹ تو ہے. ہمارے ایک دوست جو کل تک عمران خان کی قسمیں کھاتے تھے اب انہوں نے بھی کہہ دیا کہ اگر بیچ میں مقتدرہ قوتیں نہ ہوں تو اپوزیشن متحد ہوکر حکومت کی پل بھر میں چولیں ہلادے. چولوں کے ہلنے کا تو ابھی پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور پتہ چل رہا ہے کہ حکومتی اراکین کا طرز تکلم آج بھی کنٹینر زدہ ہے, شگفتگی اور موسیقیت میں تاحال انداز حزب اختلاف ہے. کیوں آئین اور آئینہ دیکھنے کو رواج نہیں بخشا جارہا ؟ کسی کو الٹا یا سیدھا لٹکانا ہے تو قانون اور آئین نے, خواہشوں نے نہیں! مابدولت آپ کی تقریر سے اتفاق ہے وزارتی تقرریوں ہی پر نہیں الیکٹ ایبل اکٹھے کرنے پر آپ زرادی و نواز سے دو ہاتھ آگے نکل گئے ہیں. الیکٹ ایبل الیکٹ ایبل ہوتا ہے جیسا بھی ہو گزارا کرنا پڑتا ہے. ہم تو یہ بھی ماننے کیلئے تیار ہیں یا سرکار, آپ کے ہاں کسی بلاول و بختاور اور مریم و حسین کے سیاسی پال پوس کا مسئلہ نہیں مگر ان کے تو مسائل ہیں جنہوں نے اپنے مونس الہی و سالک حسین اور زین قریشی ولد شاہ محمود قریشی علاوہ بریں وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور برادر فیصل امین گنڈاپور ایم پی اے, خٹک ازم میں بھائی لیاقت خٹک داماد عمران خٹک ایم این اے اور بیٹا ابراہیم خٹک ایم پی اے کو پالنا ہے! یہ وفاقی وزیر غلام سرور خان و ایم این اے بیٹا منصور حیات اور شاہ فرمان بارہویں کھلاڑی بن کر نہیں کھیلنے آئے, سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی ایم پی اے عاقب اللہ اور شیخ رشید کے بھتیجے و نتیجے ایم این اے اسد شفیق وغیرہ سب عمران کی "موروثیت مخالف" ویژن کی دلکش تصاویر ہیں! اور یہ وہ سب الیکٹ ایبل ہیں بقول آپ کے جن کے بغیر حکومتی کوریڈورز میں ٹہلنا ممکن نہیں. اس موسم " یوٹرنالوجی" کے سو دن میں تو خیر آپ نے کیا کر دکھانا ہے , سال دو سال بعد الیکٹ ایبل اور سلیکٹ ایبل کیا کرتے ہیں, اس کا پتہ لگنا ابھی باقی ہے. رہی آپ کی یہ بات کہ احتجاج کیلئے اپوزیشن کو کنٹینر ہم دیتے ہیں .... یاسرکار! اگر "قوتیں" مہربان ہوجائیں تو کنٹینر کی بھی بھلا ضرورت کہاں پڑتی ہے؟ قاضی حسین احمد ایک دفعہ کار ہی پر اسلام آباد گئے بےنظیر بھٹو کی حکومت فاروق لغاری کو دلوا کے آرام سے منصورہ لاہور واپس آگئے حالانکہ ان کے ہاتھ کچھ آیا نہ مینڈیٹ ہی رکھتے تھے. یہ تو ہم مانتے ہیں کہ احتساب ضروری ہے جو بلا امتیاز ہونا چاہیے. این آر او کی بات جو آپ نے قوم سے تقریر میں کی ہے, ازراہ کرم این آر او والے "اور" ہوتے ہیں اور جب یہ ہونا ہو تو ہوکر رہتا ہے. لیکن یہ احتساب کون کرے گا؟ وزیر یا نیب.... ؟ اب تو عدالت عظمیٰ بھی کہتی ہے کہ نیب میں عیب ہے. ہم تو ہمیشہ سے کہتے ہیں لیکن کہاں توتی کی آواز اور کہاں نقار خانہ. بہرحال ذرا عدالت عظمیٰ کے خیالات پر غور ہوجائے : " نیب کا مقدمات میں ایک جیسا رویہ نہیں, نیب کے بڑوں پر مقدمہ بننا چاہئے. نیب پر قوم کے اربوں خرچ ہوتے ہیں مگر ریکوری کہاں ہے ؟ سیاست زدہ نیب نے کرنا کچھ نہیں سب کو عذاب میں ڈال رکھا ہے!!! " ہم نیب سے باہر نکل کر بھی ذرا دیکھتے ہیں. بائی دا وے, نیب سے باہر نکل کر دیکھنا تو حکومت کو بھی چاہئے کاش پچھلے دنوں سابق وائس چانسلرز اکرم چوہدری اور مجاہد کامران کو لگی ہتھکڑیاں وزیراعظم و وزیراعلیٰ اور چانسلر و پروچانسلر ازخود دیکھتے! باوجود بےشمار بےمزہ باتوں کے, ہم ہی نہیں شاید مخالفین بھی عمران خان کے حوالے سے حسن ظن کی فراوانی رکھتے ہیں لیکن ان کی ٹیم کے حوالے سے بہر حال لوگ انگشت بدنداں ہیں۔ یہ حیرانی بھی اپنی جگہ کہ 2 ماہ قبل عمران خان نے عام انتخابات میں جو نشستیں جیتیں وہ وزیر اعظم عمران خان نے کھو دیں۔ جب کیبنٹ کے قلم دانوں کی سیاہی خشک اور شعلہ بیانیاں جواں ہوں گی، کچھ تو ہوگا۔ یہی نہیں تقاریر کی شیریں بیانیوں اور فیس بک پر قلم بند کارکنان کے ڈائیلاگز میں کچھ تو فرق ہونا ضروری ہے۔ ہمیں معلوم ہے قبل از وزارت عظمٰی اور بعد از حلف کی تقاریر کا بھی، اور سمجھتے ہیں حالیہ خطاب بھی۔ قبلہ ! چاہتے تو ہم بھی ہیں کہ، مخالفین آپ کی باتیں کان کھول کر سنیں، مگر دل ناداں چاہتا ہے کہ آپ کے وزراء کان ہی نہیں آنکھیں بھی کھولیں ورنہ معاملہ ایسے ہی ہوگا کہ بقول غالب : درد کی دوا پائی ، درد لادوا پایا اور بقول متین امروہوی " پوچھئے نہ یہ ہم سے بتکدے میں کیا پایا" چلئے بات ختم کرتے ہیں وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب پر، وزیراعظم کے اپنے ہی سابق بیانوں کو فراموش کرتے ہیں جو ازخود تنقید کے دریچے کھولتے ہیں. بلاشبہ و بلا مبالغہ دورہ سعودی عرب بہت اچھا رہا۔ سرکار خود ہی کہتے تھے قرض کی مے نہیں پینی اور فاقہ مستی سے رنگ لانا ہے لیکن قوم کو تو معلوم تھا، سودوں کے سستے ہونے کی دلفریب جو باتیں اسد عمر کرتے تھے وہ پول بھی عنان اقتدار والوں نے خود ہی کھلوائے، خیر, قرضہ زندہ باد ، وزیر اعظم زندہ باد ! اب دیکھنا یہ ہے کہ، کامیاب دورہ مزید کیسے کامیاب ہوگا ؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ, پاک سعودیہ باہمی مفاد کو اب تقویت ملے. صحافی اور مصنف جمال خاشقجی کے قتل سے شاہی خاندان کو عالمی برادری میں رسوائی کا سامنا ہے. اوپر سے امریکی صدر کا اپنے دوست سعودی عرب کو کھلم کھلا کہہ دینا کہ ہم ہیں, تو سعودی دفاع ہے ورنہ ....... . اس تناؤ میں سعودی عرب کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے, جس کے حوالے سے جناب وزیراعظم پاکستان کہہ بھی چکے کہ, سعودیہ اور یمن میں ثالثی کا کردار ادا کریں گے. اس ضمن میں پاکستان کو ایران کو قائل کرنا ہوگا. کیونکہ سانحہ جمال خاشقجی نائن الیون سا پروپیگنڈہ بنتا جارہا ہے. دوسری جانب محمد بن سلمان کے یمن سے جنگی معاملات اور انسانی حقوق کی علمبردار خواتین کی گرفت جیسی پالیسیوں پر خاصے تحفظات اور خدشات سامنے آئے ہیں ، شاید اسی میک اپ کیلئے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ می سفیر اپنے بھائی خالد بن سلمان کو اینٹیلی جنس کی ذمہ داری کیلئے واپس بلا لیا ہے۔ ممکن ہے وہ نائب ولی عہد کی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں, اس بحران میں شاہ سلمان کو ایک دفعہ پھر خود متحرک ہونا پڑا ہے ۔ اہل نظر کو یاد ہوگا شاہ سلمان جب ریاض کے گورنر تھے تو وہ شہزادوں سے لے کر زمانے تک کو کنٹرول کرنے میں ماہر گنے جاتے۔ 1932 کے بعد سعودی عرب کو اس طرح کے نازک حالات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا ، یہ احساس ہونے چلا ہے کہ دنیا کے گلوبل ولج بن جانے کے بعد معاملات زیادہ حساس ہوگئے ہیں۔ جس کا سامنا سعودی عرب کو بھی ہے. چونکہ سعودی عرب پاکستان کا روحانی و معاشی مخلص دوست ہے چنانچہ پاکستان کو دفاعی اور خارجی و سفارتی سطح پر اس کی مدد کرنا ہوگی ، اور عمران خان یہ سب کر سکتے ہیں ، وہ ذرا تلخ و ترش لہجے سے نکلیں، عالمی سطح پر پاکستان اور اپنی قیادت کا لوہا منوانے کا اور دوستی نبھانے کا یہ اہم موقع ہے۔ غالب امکانات ہیں کہ ایران سے روس تک اور چائنہ سے ترکی تک پاکستان کی بات اور ثالثی کی عزت و تکریم ہوگی بشرطیکہ ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اہمیت اور افادیت کا یہ موقع نازک ضرور ہے مگر اہم بھی۔ جناب عالی! سب کے کان اور آنکھیں تبھی کھلیں گے جب آپ بھی تعصب سے آزاد ہوں گے۔ جمہوری قافیہ و ردیف کی درستی اور اصلاح اپنی بھی کیجئے کہ، اندرون اچھا , تو بیرون زبردست !!