مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اغیار کی یلغار سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ مسجد سے تعلق کو مضبوط کیا جائے: مولانا طارق جمیل
لیسٹر ... ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی نہیں مانتے جس کے باعث عالمگیر سطح پر آج مسلمان بے توقیری کا شکار ہیں۔ یہ سراسر لمحہ فکریہ ہے اگر ہم اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرتے ہوئے اپنے سارے معاملات اس کے سپرد کردیں تو دیگر اقوام کے مقابلے میں اہم اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف سکالرمولانا طارق جمیل نے جامع مسجد لیسٹر میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا برطانیہ اور یورپ میں آباد مسلمانوں پر اپنے مذہبی و ثقافتی ورثے کی حفاظت کے حوالے سے اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اسلام کی اصل تصویر پیش نہیں کررہے۔ ایک مسلمان اگر مسلمانی کا دعویٰ بھی کرے اور سود، زنا کاری اور شراب جیسے کاروبار سے بھی منسلک ہو، یہ اس کے شایان شان نہیں بلکہ اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ و استغفار کرکے اپنے معاملات زندگی بہتر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں پر اغیار کی یلغار جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ مسجد سے تعلق کو مضبوط کیا جائے۔ پاکستان میں بڑی بڑی کوٹھیاں تعمیر کرنے کی بجائے اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر یہاں کی مساجد اور اسلامی اداروں کی معاونت و سرپرستی کریں۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہاں کی قومی و مقامی حکومتیں آپ کی فلاح و بہود پر بڑی فیاضی سے خرچ کرتی ہیں۔ لیکن یہ آپ کا بھی فریضہ ہے کہ آپ اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس دیانتداری سے ادا کریں۔ آج برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے لیے خواتین کا استحصال کیا جارہا ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے یہ احساس کرلیں کہ یہ بھی کسی بہن یا بیٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کم و بیش تبلیغ کے حوالے سے چھ براعظم گھوم چکے ہیں۔ بے شمار نمازی اور پرہیزگار لوگوں سے واسطہ پڑا لیکن حسرت ہی رہی کہ کوئی اچھے اخلاق کا مالک مل سکے۔ ہم نے بدقسمتی سے اپنی ڈکشنری میں لفظ معاف کو ہی نکال دیا ہے اور ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف کینہ، بغض اور کدورت پالتے ہوئے انتقامی سوچیں پالتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام سراسر سلامتی کا دین ہے۔ لہٰذا اس کے ماننے والوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر کا باعث بنیں۔