مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
اغیار کی یلغار سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ مسجد سے تعلق کو مضبوط کیا جائے: مولانا طارق جمیل
لیسٹر ... ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی نہیں مانتے جس کے باعث عالمگیر سطح پر آج مسلمان بے توقیری کا شکار ہیں۔ یہ سراسر لمحہ فکریہ ہے اگر ہم اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کرتے ہوئے اپنے سارے معاملات اس کے سپرد کردیں تو دیگر اقوام کے مقابلے میں اہم اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف سکالرمولانا طارق جمیل نے جامع مسجد لیسٹر میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا برطانیہ اور یورپ میں آباد مسلمانوں پر اپنے مذہبی و ثقافتی ورثے کی حفاظت کے حوالے سے اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ اسلام کی اصل تصویر پیش نہیں کررہے۔ ایک مسلمان اگر مسلمانی کا دعویٰ بھی کرے اور سود، زنا کاری اور شراب جیسے کاروبار سے بھی منسلک ہو، یہ اس کے شایان شان نہیں بلکہ اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ و استغفار کرکے اپنے معاملات زندگی بہتر بنائے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں پر اغیار کی یلغار جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ مسجد سے تعلق کو مضبوط کیا جائے۔ پاکستان میں بڑی بڑی کوٹھیاں تعمیر کرنے کی بجائے اپنی آنے والی نسلوں کی خاطر یہاں کی مساجد اور اسلامی اداروں کی معاونت و سرپرستی کریں۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہاں کی قومی و مقامی حکومتیں آپ کی فلاح و بہود پر بڑی فیاضی سے خرچ کرتی ہیں۔ لیکن یہ آپ کا بھی فریضہ ہے کہ آپ اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس دیانتداری سے ادا کریں۔ آج برطانیہ کی شہریت حاصل کرنے کے لیے خواتین کا استحصال کیا جارہا ہے۔ اس قسم کا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے یہ احساس کرلیں کہ یہ بھی کسی بہن یا بیٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کم و بیش تبلیغ کے حوالے سے چھ براعظم گھوم چکے ہیں۔ بے شمار نمازی اور پرہیزگار لوگوں سے واسطہ پڑا لیکن حسرت ہی رہی کہ کوئی اچھے اخلاق کا مالک مل سکے۔ ہم نے بدقسمتی سے اپنی ڈکشنری میں لفظ معاف کو ہی نکال دیا ہے اور ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف کینہ، بغض اور کدورت پالتے ہوئے انتقامی سوچیں پالتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام سراسر سلامتی کا دین ہے۔ لہٰذا اس کے ماننے والوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے سلامتی اور خیر کا باعث بنیں۔