مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پرویز مشرف پرآرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کے خلاف لندن میں احتجاجی مظاہرہ
لندن ... سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے حوالے سے پاکستانی حکومت اور عدلیہ کی نئی کاروائی کے خلاف لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہراحتجاجی مطاہرہ کیا گیا۔ جسکی قیادت آصف شہزاد، افضال صدیقی اور پرویز مشرف کے سینکڑوں جانثار ساتھیوں نے کی۔ مظاہرین نے موجودہ حکومت پاکستان اور عدلیہ کی بے انصافی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پاکستان ہائی کمیشن لندن کے باہر ہونے والے اس مطاہرے میں بھرپور تاثر دیا کہ کم از کم لندن میں پرویز مشرف کے چاہنے والے ابھی موجود ہیں۔ مظاہرے کے شرکا نے کہا کہ پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ کرنا محض سیاسی طور پر پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے سب سے زیادہ محب وطن رہنما پر غداری کاالزام عاید کیاجارہا ہے ، انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے پوری زندگی پاکستان کیلئے جنگ لڑی اور عالمی سطح پر ملک کوسرخرو کیا،پرویز مشرف کے دور میں لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوا تھا، پاکستان میں میڈیا کو اتنی آزادی دی گئی جس کااس سے قبل تصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا، لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت لوگوں کو آزادئی اظہار اور جمہوری حق دیاگیا،مظاہرین نے کہا کہ پرویز مشرف پر غداری کاالزام ظلم ہے ۔پرویز مشرف کے سابق پولیٹیکل کوآرڈینیٹر آصف شہزاد نے کہا پرویز مشرف کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں نے قوم کو سب سے پچھلی صف میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ ملک کا ہر فرد قرضوں میں دبا ہوا ہے، معیشت کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض نام نہاد کمیونٹی رہنماؤں نے پرویز مشرف کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمات چلانے کے وعدے پر لاکھوں پونڈ جمع کئے لیکن وہ وہاں نہیں گئے کیونکہ ان وعدوں میں کوئی وزن نہیں تھا اب یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ لوگ پرویز مشرف کے خلاف الزام تراشی کے ذریعہ اپنے مفادات حاصل کررہے تھے موجودہ ماحول میں حکومت ہر طرف سے اندرونی و بیرونی دشمنوں کے دباؤ میں ہے۔ اس کے باوجود پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانا اپنی ناکامی کو دعوت دینا ہے۔ افضال صدیقی نے کہا کہ پرویز مشرف نے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کی جو کہ بہت ضروری تھا اس کے تحت آئین کی بعض دفعات عارضی طورپر معطل کی گئی تھیں، لیکن ان کا یہ عمل کسی طوربھی غداری کے زمرے میں نہیں آتا، انھوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 232 کے تحت صدر کو بعض حالات میں ایمرجنسی نافذ کرنے کااختیار حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف نواز شریف کی کارروائیوں سے پوری دنیا پر عیاں ہوگیا ہے کہ یہ ملک بناناسٹیٹ بنتاجارہاہے جہاں جنگل کاقانون رائج ہے اورجہاں کامن سینس، انصاف، منصف مزاجی اور رواداری کاکوئی دخل نہیں ہے،انھوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ6 کاکسی ایک فرد پر اطلاق ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس عمل میں براہ راست یابالواسطہ طورپر شامل تمام افراد پر مقدمہ چلایاجانا چاہئے، اس موقع پر پاکستان ہائی کمیشن کو ایک احتجاجی یادداشت بھی پیش کی گئی جس میں دستاویزی حوالوں سے ثابت کیا گیا کہ ناصرف پرویز مشرف کا دور حکومت پاکستانی عوام کیلئے مثالی تھا بلکہ ان کے خلاف مقدمات بد نیتی اور ملک دشمنی پر مبنی ہیں۔ اس احتجاجی مظاہرے میں الطاف شاہد، سعید بھٹی، تبریز اورہ، ذیشان شانی، ثمینہ علی، اکرم گل، فہمیدہ عباسی، عثمان شیخ، ڈاکٹر ضیا سمیت متعدد رہنمائوں نے شرکت کی۔