مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دنیا میں القاعدہ کوکبھی بھی پاکستان کی مددکےبغیرشکست نہیں ہوسکتی تھی: میجر جنرل آصف غفور
لندن (خصوصی رپورٹ: اکرم عابد) برطانیہ کے سرکاری دورے پر آئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے برٹش پارلیمنٹیرینز کی دعوت پر ہائوس آف لارڈز کا دورہ کیا اس موقع پر لارڈ ویسٹ، لارڈ ایرل، بیرونس سعیدہ وارثی، لارڈ نذیر احمد اور پائولا شیرف ایم پی سمیت دیگر نے انکا استقبال کیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے انہیں دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی جنگ اور قربانیوں سے آگاہ کیا۔ برطانوی پارلیمنٹیرینز کا کہنا تھا کہ اس امر میں وئی شک نہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی جنگ لڑی ہے۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر وارک یونیورسٹی پاکستانی طلبہ سوسائیٹی کی دعوت پر کونٹری گئے اور طلبی و طالبات سے خطاب کیا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی خواہش ہےامریکاافغانستان میں مکمل امن آنےتک رہے کیونکہ پاکستان اورافغانستان کاامن ایک دوسرےسےمشروط ہے۔ انکا کہنا تھا کہ دنیامیں القاعدہ کوکبھی بھی پاکستان کی مددکےبغیرشکست نہیں ہوسکتی تھی۔ پاک فوج کے آپریشن سےدہشتگردوں کی کارروائیاں صفر ہوچکی ہیں اسلیئے دنیا کو دہشت گردی بارے پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ یو این مشن کے تحت پاکستان عالمی امن کیلئے بھی گرانقدر خدمات سے چکاعالمی امن مشن میں افواج پاکستان کے 250 جوان جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ واضع رہے برطانوی دورے کی قیادت آرمی چیف جنرل آصف باجوہ نے کی تھی جو دو روزہ دورے کے بعد وطن واپس روانہ ہوگئے تھے جبکہ میجر جنرل آصف غفور نے اضافی مصروفیات کی وجہ سے مزید دو دن قیام کیا۔