مقبول خبریں
ن لیگی راہنما میاں عبدالغفار کا رکن قومی اسمبلی پیر سیدعمران احمد شاہ کے اعزاز میں عشائیہ
کرالے میں اوورسیزپاکستانیوں کی میٹنگ،مختلف طبقہ ہائے فکر کے افراد کی شرکت
دعوت اسلامی برمنگھم کے زیر اہتمام خراب موسم کے باوجودجشن عید میلاد النبیؐ کا جلوس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سردار عتیق کی قیادت میں جدوجہد آزادی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے:رہنما ایم سی
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
مقبوضہ کشمیرمظالم:عالمی طاقتوں، اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہو گا : ڈاکٹر سجاد کریم
بلقیس بانو زندہ کیوں؟؟؟؟؟
پکچرگیلری
Advertisement
مطالعہ کشمیر بارے رٹ کو سماعت کیلئے منظور کرنا ہائی کورٹ کاتاریخی اقدام: محبوب کاکڑوی
مانچسٹر:اے جے کے نصاب ایکشن کمیٹی کے وائس چیئرمین محبوب کاکڑوی نے اپنے ایک بیان میں کمیٹی کی طرف سے کشمیری تعلیمی اداروں کے نصاب میں مطالعہ کشمیر شامل کروانے کے سلسلے میں دائر ہونے والی رٹ کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کئے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ رٹ کا باقاعدہ سماعت کے لیے منظور ہونا کشمیر ایکشن کمیٹی کے چیئرمین قیوم راجا کی شبانہ روز محنت اور اس عظیم مشن کے ساتھ ان کی سچی لگن کی فتح ہے ۔ انہوں نے نصاب میں مطالعہ کشمیر شامل کروانے کے سلسلے میں دائر ہونے والی رٹ کو ہائی کورٹ میں باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرنا کشمیری عدالت کا احسن اور تاریخی اقدام قرار دیا، جس پر انہوں نے آزاد جموں کشمیر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس آفتاب انجم علوی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ایکشن کمیٹی کے وائس چیئرمین نے کہاکہ کشمیری طلبا و طالبات کو ریاست کی تاریخ بارے بتانا اور پڑھایا جانا ازحد ضروری ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے اباواجداد بارے جان سکیں ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کے بچوں کا یہ بنیادی حق ہوتا ہے کہ ان کے باپ دادا کی تاریخ بارے انہیں پڑھایا اور بتایا جائے ۔محبوب کاکڑوی نے کہاکہ یہ ستم ظریفی ہے کہ کسی قوم کو اس کی تاریخ سے نابلد رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کسی قوم سے اس کی پہچان اور شناخت چھیننے جیسے اقدامات اس وقت اٹھائے جاتے ہیں جب کوئی توسیع پسند ملک یا قوم کسی ریاست پر ناجائز قبضہ کرنا یا برقرار رکھنا چاہتی ہوں اور محکوم ریاست کے وسائل اور ذرائع پر اس کی ناپاک نظر ہو۔ محبوب کاکڑوی نےکہاکہ شومئی قسمت سے ریاستی اسکولوں کے نصاب میں مطالعہ کشمیر کی عدم موجودگی پر ریاست کے دونوں جانب کے نام نہاد حکمرانوں نے خاموشی اختیار کرکے قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔اس کے پیچھے یقینا ان کے ذاتی حقیر مقاصد کارفرما ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی اس عظیم مقصد میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔یہ ان کا قابل مذمت ہی نہیں قابل نفرت فعل ہے ۔محبوب کاکڑوی نے اےجےکے نصاب ایکشن کمیٹی کے سربراہ اور معروف حریت پسند رہنما قیوم راجہ کو نصاب میں مطالعہ کشمیر شامل کروانے کے سلسلہ میں ان کی شبانہ روز محنت پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کے قیوم راجہ نے قومی پہچان اور شناخت برقرار رکھنے کے سلسلہ میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور اپنے محدود وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے ۔آج ہم بجا طور پر ان پر فخر کر سکتے ہیں ۔ایکشن کمیٹی کے وائس چیئرمین نے کہا کہ کسی بھی قوم کی پہچان او شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس قوم کے بچوں کو قومی مقاصد کے تحت زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔آخر میں انہوں نے کشمیری قوم سے اپیل کی ہے کہ قومی شناخت اور پہچان کو برقرار رکھنے کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر