مقبول خبریں
چوہدری مطلوب کی رہائشگاہ پر جشن عیدمیلادالنبیؐ کی محفل ،نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا حل ہے: چوہدری فواد حسین
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
نواز علی کی رہائش گاہ پرحضرت غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے سالانہ عرس پرمحفل کا انعقاد
مرغی آنڈے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کے ایچ خورشید کے پروگرام کے علاوہ متبادل راستہ موجود نہیں :ڈاکٹر مسفر
برنلے:جموں کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے جو پروگرام کے ایچ خورشید نے1962میں جموں کشمیر لبریشن لیگ کے قیام کے موقع پر دیا تھا اس تجویز کے علاوہ کوئی ممکنہ حل اس مسئلے کا منصفانہ حل موجود نہیں،آزادی کے نعرے لگانے والی تنظیم حکومت پاکستان کی ایما پر خورشید کے پیش کردہ حل کی اہمیت اور افادیت کو کم کرنے کی سازشیں تھیں جو گزرتے وقت کے ساتھ اپنی افادیت کھو چکی،الحاق پاکستان کا نعرہ محض ذاتی اقتدار کے حصول کا ذریعہ تھا جو اپنی موت آپ مر چکا،مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق جموں کشمیر کے عوام ہیں اس لئے آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی اصطلاح محض قوم کو گمراہ کرنے کے طریقے ہیں ان خیالات کا اظہار لبریشن لیگ برطانیہ و یورپ ڈاکٹر مسفر حسن نے جموں کشمیر لبریشن لیگ کے قیام کے 56ویں یوم تاسیس کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ لبریشن لیگ کے بانی صدر کے ایچ خورشید نے جموں کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے جو پروگرام1962میں دیا تھا اس پروگرام کے علاوہ اس مسئلے کے منصفانہ حل کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں،کے ایچ خورشید نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے معاہدہ کراچی میں وضع کردہ کالے قوانین ’’رولز آف بزنس ‘‘کو ختم کرنے کے اور نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو حقیقی آزادی کے معنی اور مطالب سے آگاہ کیا بلکہ انہوں نے عوام کو ووٹ کا حق دے کر اس آزادی کا مطلب بھی سمجھانے کی کوشش کی،انہوں نے کہا کہ مظفر آباد کی حکومت1961سے1964تک با اختیار اور نمائندہ حکومت تھی جس میں بشمول گلگت بلتستان جموں کشمیر کے تمام علاقہ جات کے عوام کو بذریعہ اسٹیٹ کونسل نمائندگی حاصل تھی،اس حکومت کی حیثیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وزیر امور کشمیر صدر ریاست سے ملاقات کیلئے آتا تو اسے پہلے با ضابطہ ملاقات کا وقت طے کرنا ہوتا تھا اگر1962کے ہند چین سرحدی تنازعے کے وقت خورشید کی تجویز پاکستان کے حکمرانوں نے مان لی ہوتی تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا،آج اس مسئلے کی وجہ سے لاکھوں انسانی جانوں کا ضیا ہوا ہے وہاں برصغیر میں اباد دنیا کی ایک تہائی آبادی بے شمار مسائل کا سامنا کر رہی ہے جن میں تعلیم کی کمی،صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی،رہائشی سہولتوں کا نہ ہونا اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر