مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ کشمیر عالمی برادری کی توجہ کا طلبگار ہے، یورپی پارلیمنٹ میں ’’بین الاقوامی کشمیر کانفرنس‘‘ کا انعقاد
مانچسٹر (خصوصی رپورٹ: فیاض بشیر) جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام یورپی پارلیمنٹ میں ’’بین الاقوامی کشمیر کانفرنس‘‘ کا انعقاد ، یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس میں ممبران یورپی پارلیمنٹ ، دنیا بھر سے مندوبین ،پاکستانی سنیٹرز ، کشمیر سے حریت کانفرنس کے وفد اور تحریک حق خود ارادیت کے عہدیداران و ذمہ داران نے شرکت کی ۔ اس موقع پر کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف بھارت اور پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی برادری کی توجہ کا طلبگار ہے ، بین الالقوامی برادری آنکھیں کھولے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروا کر کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے ،پاکستانی حکومت نے ہر سطح پر تعاون اور کردار کی یقین دہانی کرائی جبکہ بھارتی حکومت بھی مسئلہ کے حل کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کرے اور بین الاقوامی وفود کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کے لیے تعاون اور اجازت دے ،بھارت کا رویہ غیر جمہوری اور ابین الاقوامی اصولوں و قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ،یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر دوست ممبران ہر سطح پر کشمیریوں کی آواز بنیں گے ،پاکستان کی نئی حکومت کے بین الالقوامی سطح پر ہر مثبت قدم پر تعاون کریں گے ، کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی جائے گی ، مقبوضہ کشمیر کی عوام نے لاکھوں شہداء کی قربانیوں اور بھارتی ظلم و جبر کے باوجود تحریک آزادی کو جاری و ساری رکھا ہو ا ہے ۔ کشمیر ایک بڑا انسانی مسئلہ تصور کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری کو اس کے حل کے لیے مؤثر کردارادا کرنا ہو گا ۔ سفارتی سطح پر تحریک آزادی کو منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اندرون کشمیر اور بیرون ممالک مضبوط اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں گے ،یورپی پارلیمنٹ سمیت یورپ کے تمام ممالک کے اہم شہروں میں کانفرنسز ، سیمینارز اور احتجاجی مظاہرے منعقد کروائے جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار یورپی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر کے تعاون سے بین الاقوامی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا ۔ کانفرنس کی صدارت بالترتیب یورپی پارلیمنٹ میں فرینڈز آف کشمیر کی کو چئیر پرسن ایم ای پی اینتھیا میکلن ٹائر، تحریک کے چئیرمین راجہ نجابت حسین اور ایم ای پی رچرڈ کوربٹ نے مترکہ طور پر کی جبکہ کانفرنس میں پاکستان ، برطانیہ ، فرانس ، بیلجئیم سمیت دنیا بھر سے مندوبین نے شرکت کی ۔ کانفرنس میں حریت کانفرنس کے وفد نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اس موقع پر ایم ای پی اینتھیا میکلن ٹائر ،حکومت پاکستان کے نمائندوں سنیٹر فیصل جاوید ، سنیٹر کریم ترین ، بیجلئیم میں پاکستانی ہائی کمشنر نغمانہ ہاشمی ، جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے چئیرمین و میزبان کانفرنس راجہ نجابت حسین ، حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات عبد الحمید لون ، حریت رہنماء سید اعجاز رحمانی ، ڈائریکٹر کشمیر میڈیا سروس شیخ تجمل الاسلام ، جموں و کشمیر انسانی حقوق کونسل جنیوا کے سربراہ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی ، کشمیر کونسل یورپی کے انچارج علی رضا سید ، سیکرٹری اسرار نقوی ، یورپی پارلیمنٹ میں لیبر گروپ لیڈر ایم ای پی رچرڈ کوربٹ ،ممبران یورپی پارلیمنٹ ایم ای پی مس جولی وارڈ ، ایم ای پی الیکس ماہر ،ظفر احمد قریشی چئیرمین کشمیر گلوبل برسلز ، کشمیر فورم فرانس کے صدر نعیم چوہدری ، سیکرٹری کامران بٹ ، پاکستان تحریک انصاف بیلجئیم کے رہنماء سردار صدیق خان اور دیگر نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر کانفرنس انتظامیہ میں تحریک حق خود ارادیت کے سیکرٹری جنرل محمد اعظم خان ، تحریک حق خود ارادیت برطانیہ کی چئیرپرسن کونسلر یاسمین ڈار ، ڈائریکٹر انتظامیہ و تحریک حق خود ارادیت کے رہنماء ہیری بوٹا نے تمام فرائض سر انجام دیے اور بھرپور کاوش کی ۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک بڑا بین الاقوامی مسئلہ ہے جس سے جنوبی ایشیاء کا امن ، استحکام وابستہ ہے ۔ کشمیر میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی جانوں کا مسئلہ ہے کہ ان کے مستقبل اور حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا جائے ۔ یورپی پارلیمنٹ سمیت دنیا کے بڑے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔بھارتی ریاستی دہشتگردی کشمیر میں آئے روز بڑھتی جا رہی ہے ۔ مقررین نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں اور انسانی حقوق کا کا دعویٰ کرنے والے ادارے کشمیر پر اپنی خاموشی کو توڑیں ۔ جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت کے رہنماؤں نے کہا کہ سفارتی سطح پر کشمیر کی تحریک کو تزی تر کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی کے ساتھ فعال کردار ادا کریں گے ۔ کانفرنس کے اختتام پر کشمیر کونسل یورپ کے مرکزی دفتر میں تمام نمائندگان کا اجلاس ہوا جس میں مستقبل کی حکمت عملی اور سفارتی سطح پر سرگرمیوں پر غور کیا گیا۔