مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی حکام نے ڈیل کےتحت اپنےشہریوں کی معلومات امریکی سیکورٹی ادارےکوفراہم کیں:سنوڈن
لندن ...معروف برطانوی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے لندن حکومت کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کے تحت برطانوی شہریوں کا بہت زیادہ ذاتی نوعیت کا الیکٹرانک ڈیٹا اپنے ہاں محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ بات امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے میڈیا کو فراہم کی گئی فائلوں کے حوالے سے بتائی گئی جن کی تفصیلات برطانوی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹوں میں بتائیں۔ اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق برطانوی حکام کی 2007ء میں امریکا کے ساتھ اس بارے میں مفاہمت ہو گئی تھی کہ برطانوی شہریوں کے ٹیلی فون پر گفتگو کے ریکارڈ، انٹرنیٹ ڈیٹا اور ای میلز کو این ایس اے کے اہلکار اپنے پاس محفوظ رکھ سکتے ہیں اور بوقت ضرورت انہیں اپنے تجزیوں کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ برطانوی روزنامے گارڈین اور چینل فور نامی ٹیلی وژن کی رپورٹوں کے مطابق 2007ء سے قبل امریکی حکام کے لیے برٹش عوام کے اس طرح کے پرسنل الیکٹرانک ڈیٹا کی حیثیت ایک ’ممنوعہ علاقے‘ کی سی تھی لیکن پھر لندن کی طرف سے این ایس اے کو اس کی اجازت دے دی گئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ انکشافات امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے دوست ملکوں میں جاسوسی کے اس اسکینڈل کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں، جو این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر سنوڈن کی طرف سے میڈیا کو بہت سی خفیہ معلومات کی فراہمی کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔ گارڈین اور چینل فور نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے مئی 2007ء میں جاری کیے گئے ایک ایسے میمو کا حوالہ دیا ہے، جس میں برطانوی شہریوں کے ذاتی الیکٹرانک ڈیٹا کو محفوظ رکھنے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میمو میں لکھا ہے،سگنلز انٹیلیجنس یا Sigint پالیسی کے سلسلے میں برطانیہ کے رابطہ دفتر اور واشنگٹن میں این ایس اے نے مل کر کوششیں کرنے کے بعد ایک ایسی نئی حکمت عملی تیار کی ہے، جس کے تحت اتفاقیہ بنیادوں پر جمع کردہ برطانوی ڈیٹا کو محدود کیے بغیر تجزیوں کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی کو وسعت دی جاتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ امریکی برطانوی مفاہمت Five Eyes کہلانے والے اس معاہدے کے باوجود عمل میں آئی، جس کے تحت انگریزی زبان بولنے والے پانچ ملکوں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ان میں سے ہر ملک باقی چار ممالک کے عام شہریوں کے خلاف جاسوسی سے اجتناب کرے گا۔ اب تک اس موضوع پر برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں پر امریکی اور برطانوی حکام نے کسی بھی طرح کے ردعمل سے پرہیز کیا ہے۔