مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی حکام نے ڈیل کےتحت اپنےشہریوں کی معلومات امریکی سیکورٹی ادارےکوفراہم کیں:سنوڈن
لندن ...معروف برطانوی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے لندن حکومت کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کے تحت برطانوی شہریوں کا بہت زیادہ ذاتی نوعیت کا الیکٹرانک ڈیٹا اپنے ہاں محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ بات امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے میڈیا کو فراہم کی گئی فائلوں کے حوالے سے بتائی گئی جن کی تفصیلات برطانوی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹوں میں بتائیں۔ اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق برطانوی حکام کی 2007ء میں امریکا کے ساتھ اس بارے میں مفاہمت ہو گئی تھی کہ برطانوی شہریوں کے ٹیلی فون پر گفتگو کے ریکارڈ، انٹرنیٹ ڈیٹا اور ای میلز کو این ایس اے کے اہلکار اپنے پاس محفوظ رکھ سکتے ہیں اور بوقت ضرورت انہیں اپنے تجزیوں کے لیے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ برطانوی روزنامے گارڈین اور چینل فور نامی ٹیلی وژن کی رپورٹوں کے مطابق 2007ء سے قبل امریکی حکام کے لیے برٹش عوام کے اس طرح کے پرسنل الیکٹرانک ڈیٹا کی حیثیت ایک ’ممنوعہ علاقے‘ کی سی تھی لیکن پھر لندن کی طرف سے این ایس اے کو اس کی اجازت دے دی گئی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ انکشافات امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے دوست ملکوں میں جاسوسی کے اس اسکینڈل کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہیں، جو این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر سنوڈن کی طرف سے میڈیا کو بہت سی خفیہ معلومات کی فراہمی کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔ گارڈین اور چینل فور نے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے مئی 2007ء میں جاری کیے گئے ایک ایسے میمو کا حوالہ دیا ہے، جس میں برطانوی شہریوں کے ذاتی الیکٹرانک ڈیٹا کو محفوظ رکھنے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میمو میں لکھا ہے،سگنلز انٹیلیجنس یا Sigint پالیسی کے سلسلے میں برطانیہ کے رابطہ دفتر اور واشنگٹن میں این ایس اے نے مل کر کوششیں کرنے کے بعد ایک ایسی نئی حکمت عملی تیار کی ہے، جس کے تحت اتفاقیہ بنیادوں پر جمع کردہ برطانوی ڈیٹا کو محدود کیے بغیر تجزیوں کے لیے استعمال کرنے کی حکمت عملی کو وسعت دی جاتی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ امریکی برطانوی مفاہمت Five Eyes کہلانے والے اس معاہدے کے باوجود عمل میں آئی، جس کے تحت انگریزی زبان بولنے والے پانچ ملکوں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ان میں سے ہر ملک باقی چار ممالک کے عام شہریوں کے خلاف جاسوسی سے اجتناب کرے گا۔ اب تک اس موضوع پر برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں پر امریکی اور برطانوی حکام نے کسی بھی طرح کے ردعمل سے پرہیز کیا ہے۔