مقبول خبریں
بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی کلی کھول دی ہے:سردار مسعود خان
ڈیبی ابراھم کی قیادت میں ممبران پارلیمنٹ اور کمیونٹی رہنماؤں کی لارڈ طارق احمد سے ملاقات
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کی وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر سے ملاقات
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
9ستمبر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باہر بھرپور مظاہرہ کرینگے:راجہ نجابت حسین
سوچنے کے موسم میں سوچنا ضروری ہے!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نوجوان نسل کی بہترین تربیت کریں: چوہدری شہباز، محمد ابو بکر
پاکستان سے پاکستانی کئی دہائیوں پہلے برطانیہ آئے،اپنے روزگار کے سلسلے میں مگر برطانیہ میں ہی آباد ہو گئے،وقت گزرتا گیا اولادیں جوان ہوتی گئیں نسلیں پروان چڑھتی رہیں بعض والدین نے اپنی محنت مزدوری کر کے اپنی اولاد کو پڑھایا لکھایا اور ان کی تعلیم و تربیت کرتے رہے مگر بعض والدین کی اولاد بد قسمتی سے پٹری سے اتر گئیں جس کی وجہ سے برطانیہ کی مختلف جیلوں میں قید ہیں،ان خیالات کا اظہار سمائل ایڈ کے چیئرمین چوہدری شہباز سرور اور محمد ابو بکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ برطانیہ کی کل آبادی65ملین ہے،جس میں برٹش مسلم کی تعداد15فیصد ہے،کرسچن کمیوکنٹی61فیصد جبکہ ہندو1.5فیصد اور یہودی0.5فیصد ہے یہ انفارمیشن برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ سالوں میں کی گئی ہے جس میں برطانیہ میں3ملین مسلمان ہیں اور برٹش پاکستانی2ملین ہیں،2ملین مسلمانوں میں پاکستان،عرب ممالک کے دیگر افراد شامل ہیں،انہوں نے برطانوی میڈیا سے انفارمیشن برطانیہ کے جیلوں میں ٹوٹل آبادی کے لحاظ سے13فیصد لوگ قید ہوئے ہیں افسوس ناک بات یہ ہے کہ برٹش پاکستانی تقریباً2ملین برطانیہ میں آباد ہیں جبکہ جیلوں میں15فیصد قید ہیں،ہماری تمام کمیونٹی کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ جیلوں میں جو افراد قید ہیں ان میں خواتین بھی شامل ہیں ان افراد کے کرائم جن میں منی لانڈرنگ،فراڈ،اسلحہ اور دیگر جرائم شامل ہیں،برطانوی نژاد پاکستانی نوجوان کی مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانے انجانے میں چھوٹے بڑے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں بدنامی کا باعث بنتے ہیں برطانیہ میں رہائش پذیر کمیونٹی کو چاہئے کہ کام کاج،کاروبار کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی بہتر تربیت کو بھی اپنی اولین ذمہ داری سمجھنا چاہئے اور برطانیہ میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کی صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت کو بھی اہمیت دینی چاہئے تاکہ مستقبل قریب میں یہ نوجوان برطانوی معاشرے میں مثبت کردار ادا رکر سکیں اس سے نہ صرف برطانیہ میں پاکستان کا نام روشن ہو گا بلکہ پاکستانی کمیونٹی کا سر بھی فخر سے بلند ہو گا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر