مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برٹش مسلم پروفیشنلزکا شام کا رضاکارانہ دورہ پرخطرعلاقوں میں کیمپ قائم کرکے امداد مہیا کی !!
لیسٹر ... برطانیہ میں عام طور پر لمبی داڑھی رکھ کر پانچوں وقت کی نماز ادا کرنے والے نوجوان کو انتہا پسندی کی نظر سے ہی دیکھا جاتا ہے لیکن مڈلینڈز سے تعلق رکھنے والے تین لڑکوں اور خاتون نے عملی طور پر اس تاثر کو زائل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ انہوں نے مصیبت میں گھرے شام جا کر انسانی خدمات کی مثالیں قائم کر دی ہیں۔جسوقت شام میں خونریز جنگ جاری تھی اور کوئی شورش زدہ علاقے میں جانے کو تیار نہ تھا ان چاروں نے اپنی گاڑیاں تیار کیں اور پرخطر راستوں پر نکل پڑے اور بذریعہ سڑک شام کے شمالی شہر حلب تک پہنچ کر ہسپتالوں کو ضروری طبی امداد پہنچائی۔ مانچسٹر سے حلب تک سفر کرنے والے ماجد فری مین کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہم اب شام کے شہریوں کے لیے صرف دعا ہی کر سکتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہمیں اس صورتِ حال میں تبدیلی لانی ہے اور ہم فنڈ اکٹھے کر کے ادویات ضرورت مندوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ 25 سالہ ماجد فری مین کا تعلق لیسٹر سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے کریڈٹ ایڈوائزر ہیں۔ ماجد فری مین پانچ ایمبولیسنوں کےایک قافلے کو لے کر 3200 میل کا سفر طے کر حلب پہنچے۔ مانچسٹر سے چلنے والا یہ قافلہ فرانس، بیلجیئم، لگسمبرگ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، یونان اور ترکی سے ہوتا ہوا شمالی شام کے شہر حلب تک پہنچا۔ 4 لوگوں کے اس قافلے نے اپنے سفر کے دوران سروس سٹیشنوں کی پارکنگ میں اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے وہیں آرام کیا۔ اس قافلے میں ایک ڈاکٹر، ایک فارماسسٹ اور ایک ہوٹل کے مالک بھی شامل تھے۔ 14 رکنی اس قافلے کے چار افراد نے انتہائی خطرناک علاقوں میں پہنچ کر حلب کے ہسپتالوں کو طبی امداد فراہم کی۔ماجد فری مین بتاتے ہیں کہ حلب کے جس ہسپتال میں انہوں نے قیام کیا وہاں بم پھٹنے کی آوازیں معمول کی بات ہے وہ بہت جلد ہی اس کے عادی ہو گئے تھے: ’ہمارے پاس خوفزدہ ہونے کا وقت ہی نہیں تھا۔ ہم بھی انسان ہیں۔ بعض اوقات اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘ ہسپتالوں میں امداد فراہم کرنے کے لیے انہوں نے ایک مقامی ڈرائیور کی خدمات حاصل کیں جو نشانہ بازوں سے بچنے کےلیےگاڑی کو انتہائی تیز رفتاری سے چلاتا تھا۔ مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر شمیلا ذوالفقار اس قافلے میں شامل واحد ڈاکٹر تھیں۔ انھوں نے اپنے چار بچوں کو مانچسٹر میں چھوڑ کر شام جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ بھی ان چار افراد میں شامل تھیں جو انتہائی خطرناک علاقوں میں جانے کے لیے تیار ہوئے تھے۔ وہ کہتی ہیں ہم فرنٹ لائن کے بہت قریب پہنچ گئےتھے۔ اب میں سوچتی ہوں کہ شاید ہمیں فرنٹ لائن کے اتنا قریب نہیں جانا چاہیے تھا۔ ماجد فری مین کہتے ہیں کہ برطانیہ سے روانہ ہوتے ہوئے جب وہ اپنی ماں کو خدا حافظ کہہ رہے تھے تو وہ بہت جذباتی تھے، لیکن جب وہ واپسی کے لیے شام سے رخصت ہونے لگے تو وہ برطانیہ سے راونگی کے وقت سے بھی زیادہ جذباتی تھے: ’میں ان لوگوں کے ساتھ رہا۔ وہ میرے بہن اور بھائیوں کے طرح تھے۔ مجھے ایسا لگا کہ میں انہیں چھوڑ کر ان سے غداری کر رہا ہوں۔ ہمیں ان کی مدد کرنی ہے۔