مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایرانی رہبر اعلی کا سخت موقف، ڈیوڈ کیمرون کا ایرانی صدر کو فون، مزاکراتی عمل آگے بڑہنا چاہئے
لندن ... برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کرکے جینیوا میں ایرانی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے دوبارہ شروع ہونے والے مزاکرات پر پات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈائوننگ سٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون وہ پہلے برطانوی وزیرِاعظم ہیں جنھوں نے ایک عشرے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہی بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی اور دونوں جانب سے اس خواہش کا ظہار کیا گیا کہ دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات میں اس پیش رفت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ برطانیہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہییں۔ قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے غیر ضروری مطالبات نہ کریں۔ جبکہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات سے قبل خبردار کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے ذرّہ بھر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ وہ ان مذاکرات میں براہِ راست مداخلت نہیں کریں گے مگر انھوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے حدودمتعین کردی ہیں۔ واضع رہے کہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے پاس ایران کے جوہری معاملات سے متعلق حتمی اختیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی قوم عالمی طاقتوں کی عزت کرتی ہے مگر ہم جارحیت کرنے والے کے منھ پر اس طرح طمانچہ ماریں گے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔