مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ایرانی رہبر اعلی کا سخت موقف، ڈیوڈ کیمرون کا ایرانی صدر کو فون، مزاکراتی عمل آگے بڑہنا چاہئے
لندن ... برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کرکے جینیوا میں ایرانی ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے دوبارہ شروع ہونے والے مزاکرات پر پات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ٹین ڈائوننگ سٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون وہ پہلے برطانوی وزیرِاعظم ہیں جنھوں نے ایک عشرے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی کو ٹیلی فون کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہی بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی اور دونوں جانب سے اس خواہش کا ظہار کیا گیا کہ دوبارہ شروع ہونے والے مذاکرات میں اس پیش رفت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ برطانیہ اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہییں۔ قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے غیر ضروری مطالبات نہ کریں۔ جبکہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات سے قبل خبردار کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے ذرّہ بھر بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ وہ ان مذاکرات میں براہِ راست مداخلت نہیں کریں گے مگر انھوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے حدودمتعین کردی ہیں۔ واضع رہے کہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے پاس ایران کے جوہری معاملات سے متعلق حتمی اختیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی قوم عالمی طاقتوں کی عزت کرتی ہے مگر ہم جارحیت کرنے والے کے منھ پر اس طرح طمانچہ ماریں گے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔