مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
محبت، عادت یاضرورت
زندگی میں ہر کام مالی منفعت کے لیے نہیں کیا جاتا ،بہت سے کام دل کے سکون اور روح کی کی طمانیت کے لیے بھی کیے جاتے ہیں لیکن تعریف اور ستائش کی خواہش ہر حال میں انسانی جبلت کا حصہ رہتی ہے۔مالک تھپکی نہ دے، کمر پر دھیرے دھیرے نہ سہلائے تو بیل اور گھوڑے جیسے سخت جان جانور بھی اکھڑ جاتے ہیں۔تاہم یہ بات بھی اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دوسروں کی تعریف کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی، صرف اعلیٰ ظرف لوگوں میں ہی دوسروں کی تعریف کا حوصلہ ہوتا ہے۔تعریف اور خوشامد میں ایک باریک سی لکیر ہوا کرتی ہے جسے پہچاننے کے انسان کا ذہین ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ لیکن بڑے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ اصل تعریف تو وہ ہوتی ہے جو غیروں کے منہ سے سننے کو ملے۔ایسی ہی ایک تعریف چند روز پہلے کامن ویلتھ کے آبزرور گروپ نے پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں کی۔مذکورہ رپورٹ کامن ویلتھ آبزرور گروپ کے ان ارکان نے مرتب کی جنہیں گذشتہ جولائی میں پاکستان ہونے والے انتخابی مراحل کو دیکھنے کے لیے بطور مبصر بھیجا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ اس حقیقت کے باوجود کہ دہشت گردوں نے کبھی امیدواروں کو اور کبھی انتخابی جلسوں کو اپنے قہر کا نشانہ بنایا، بہت سی قیمتی جانیں ضائع بھی ہوئیں، لوگ زخمی بھی ہوئے لیکن تمام امیدواروں، ووٹرز، سیاسی جماعتوں، انتخابی عملے،الیکشن کمیشن، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل جل کر ایک ایسا کردار نبھایا جسے دنیا بھر میں مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔سیکیورٹی اداروں نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ ہر امیدوار کو اپنی کنویسنگ کا بھرپور موقعہ ملے اور کسی کو بھی کسی بھی قسم کا خوف سامنا نہ کرنا پڑے‘۔اس رپورٹ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی بھی بھرپور انداز میں تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی ہر حوالے سے بے مثال رہی۔ آبزرور گروپ کا کہنا ہے کہ پولنگ سٹیشنز کے اندر فوجی جوانوں کی تعیناتی کچھ لوگوں کے لیے باعث تشویش ضرور تھی لیکن جب ہم نے ووٹرز اور پولنگ سٹاف سے اس حوالے سے رائے لی تو معلوم ہوا کہ ووٹرز اور پولنگ سٹاف دونوں ہی فوجی جوانوں کی تعیناتی کے حوالے سے حکومت کے مشکور تھے۔کامن آبزرور گروپ کے یہ تعریفی کلمات پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات کی شفافیت پر مہر تصدیق بھی ہیں اور ان انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنانے والے اداروں کے لیے’ ویل ڈن سرٹیفیکیٹ ‘بھی۔کاش تعریف اور توصیف کا یہ حوصلہ ہمارے ہمدم دیرینہ امریکا صاحب بہادر کے پاس بھی ہوتا۔ ہم اکہتر سال کے ہوگئے، اور ان سارے برسوں میں شاید ہی کچھ زمانہ ہو جس میں ہم ذہنی اور عملی طور امریکا سے دور رہے ہوں، امریکا کی خاطر دوستیاں نبھائیں، امریکا کی خاطر دشمن بنائے، امریکا کی جانب سے شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کا حصہ بنے، اپنے ہزاروں فوجی جوانوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، بے شمار پولیس والے شہید ہوئے،ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ شہریوں نے جام شہادت نوش کیا، ہمارا اقتصادی ڈھانچہ ملیامیٹ ہوگیا، ہمارے معاشرتی رویوں پر خوف کی چادر تن گئی مگر اس سب کے باوجود امریکا بہادر ہم سے کبھی راضی نہیں ہوسکا۔ ڈو مور ڈو مور کی صدائیں سنتے سنتے ہمارے کان پک گئے اور نتیجہ صفر بٹا صفر۔اب حال ہی میں امریکی صدر محترم ڈونلڈ ٹرمپ نے حسب توقع پاکستان پر مختلف قسم کی پابندیوں کی صورت اپنا قہر نازل کرنا شروع کر دیا، شاید وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ پاکستان ان کی جانب سے لگائی جانے والی اقتصادی ، سیاسی اور فوجی پابندیوں سے خوفزدہ ہوکر ہر غلط کو سہی کہنے لگے گا لیکن پاکستان نے ٹرمپ کے گرائے ہوئے ان بموں کو شب برات کے پٹاخوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔قابل غور بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں آنے والی حالیہ تبدیلی کے بعد امریکا کا رویہ اور بھی جارحانہ ہوگیا۔پاکستان کے ساتھ جنگی مشقوں کے سلسلے کو بھی روکنے کی دھمکیاں آنے لگیں اور پاکستانی فوجی افسروں کے امریکا میں جاری تربیتی پروگراموں کو بھی روکنے کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ا س سے پیشتر امریکا آئی ایم ایف کو یہ دھمکی بھی دے چکا ہے کہ اگر پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض دیا گیا تو امریکا شدید ردعمل کا مظاہرہ کرے گا۔ا ن امریکی گیدڑ بھبھکیوں کو بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں نے بھی اپنے طور پر خوب اچھالنے کی کوشش کی۔ ہر طرف شور ہونے لگا کہ پاکستان کے لیے اقتصادی طور پر جینا ناممکن ہوجائے گا۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا۔ گذشتہ چند ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان کے زرمبادلہ کے زخائر نہایت شدت کے ساتھ متاثر ہوئے، سٹاک ایکسچینج میں بھی ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا،ادھر قرض کی واپسی کے دن بھی سر پر منڈلانے لگے لیکن تبدیلی کو کامیابی سے ہمکنار دیکھنے کے خواہشمند بیرون ملک پاکستانیوں نے اس موقعے پر اپنے ملک کی مدد کے لیے دھڑا دھڑ سرمایہ پاکستان بھیجنا شروع کردیا۔پاکستان کے زر مبادلہ کے زخائر بہتر ہونے لگے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کو بھی استحکام ملنے لگا۔بیرون ملک پاکستانیوں نے ثابت کردیا کہ وہ کبھی بھی مشکل وقت میں اپنے وطن کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔آج جب نئی جمہوری حکومتیں تشکیل کے مراحل سے گذر رہی ہیں پاکستانیوں کی نظر ایک نئے روشن مستقبل کی طرف ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے ڈیم بنائو مہم بھی زوروشور سے جاری ہے، عوام پر عزم بھی ہیں اور پر امید بھی۔ وہ اندھیرا جس کی امریکا اور بھارت پیش گوئی کر رہے تھے آج پاکستان سے کوسوں دور ہے۔یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ وہ دن بھی دور نہیں جب امریکا کو اس حقیقت کا احساس ہوگا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ اپنے روابط بگاڑ کر کوئی اچھا سودا نہیں کیا۔ رہی بات قرضوں کی ادائیگی اور فوجی تربیت کی تو امریکی بھائیوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ چین نے پاکستان کو اس مشکل سے نکلنے میں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلادیا ہے۔ ادھر روس اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ بھی کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان فوجی تربیت کے موضوع پر حال ہی میں ایک معاہدے پر دستخط بھی ہو چکے ہیں۔JMCCیعنی مشترکہ فوجی مفادات کی کمیٹی کے ایک حالیہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ دونوں ملک باہمی تعاون سے اپنے تعلقات کو مضبوطی کی نئی منزلوں کی جانب لے کر جائیں گے۔امید ہے کہ پاکستان جلد اپنے ہمدرد دیگر ممالک سے بھی تعلقات کے مزید فروغ کے لیے اقدامات کا آغاز کر دے گا۔امریکا کو سمجھنا چاہیے کہ عالمی حوالوں سے کوئی بھی ملک کسی بھی دوسرے ملک کے لیے ناگذیر نہیں ہوتا، عالمی سیاست میں دوستیاں برابری کی بنیاد پر مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہیں۔ اگر امریکا ہمیں اپنا غلام سجھنے کی غلط فہمی کا شکار رہے گا تو اس کے اس طرز عمل سے اور کچھ ہو نہ ہو وہ اپنے ایک قابل بھروسہ اتحادی سے ضرور محروم ہوجائے گا اور اتحادی بھی وہ کہ جس کے ساتھ ساتھ چلنے کی امریکا کو عادت ہو چکی ہے۔محبت عادت بن جائے اور عادت ضرورت کا روپ دھار لے تو پھر جان چھڑانا ممکن نہیں رہتا۔ باقی نام اللہ کا!!!!!!