مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
بیرونس وارثی نے غلط کہا: ڈاکٹر چوہان، مغرب ہمارے حقوق دے:نائلہ خانین، یورپی پارلیمنٹ جاگے: راجہ نجابت
لندن ... بیرونس سعیدہ وارثی کی طرف سے پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کے بیان پر سابق صدر یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس ڈاکٹر اشرف چوہان نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بیان کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ بیان اسلام کے نظریئے کے منافی اور برعکس ہے، انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو سنگین خطرات کا سامنا ہے، چند روز قبل ہی مسلمانوں کوبیدردی سے ذبح کیاگیا اور اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ گھناؤنا فعل کس کا ہے، حکومت اس میں غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کرسکی ہے، انھوں نے کہا ہے کہ بیرونس سعیدہ وارثی کے بیان سے صرف یہ ظاہرہوتا ہے کہ مسیحیت کوخطرات لاحق ہیں، جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کاجینا دوبھر کیاجاچکا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ علما اورمذہبی سکالر پہلے ہی دہشت گردی اورغیراسلامی غیر انسانی عمل سے لاتعلقی کااظہار کرچکے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مسیحیوں کو خطرہ کہاں سے لاحق ہے جبکہ دہشت گردی کی سرگرمیوں سے صرف مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچ رہاہے۔ واضع رہے کہ ڈاکتر اشرف چوہان کچھ عرسہ قبل ہی ٹوری پارٹی چھور کر لیبر میں شامل ہوئے، اسی ماہ انہوں نے ٹوری منسٹر سے سٹار آف پاکستان کا ایوارڈ بھی وصول کیا اس سلسلے میں انکا کہنا ہے کہ وہ کسی شخصیت یا پارٹی کے خلاف نہیں لیکن حقائق سے برخلاف بات پر ان کا رد عمل فطری ہے۔ ******************************* مانچسٹر ...قوم پرست کشمیری پارٹی یوکے پی این پی کی وایس چیئر پرسن نائلہ خانین نے کہا ہےکہ یوکے پی این پی کے کارکنان قائد تحریک سردار شوکت علی کشمیری کی قیادت میں یورپ کے ایوانوں میں مادر وطن کشمیر کی آزادی اور حقوق کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ یوکے پی این پی مانچسٹر برانچ کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کارکنان سے ان کا کہنا تھا کہ آپ دنیا کے اس حصے میں رہ رہے ہیں جو پوری دنیا کی سیاست کا مرکز ہے ہمیں مغرب کو یہ بات باور کروانی ہوگی کہ وہ ہمارے حقوق و آزادی کے حصول میں ہمارا ساتھ دے۔ اس سے قبل انہوں نے یوکے پی این پی مانچسٹر برانچ کے عہدیداران سے حلف لیا جن میں صدر ٹکا خان طاہر، سیکرٹری جنرل محمد اشتیاق خان، نائب صدر احمد فاروق، آرگنائزر اظہر حسین شاہ، سیکرٹری نشرواشاعت کامران اصغر، سیکرٹری فنانس عبدالحمید، ڈپٹی سیکرٹری محمد وسیم، جوائنٹ سیکرٹری محمد ارسلان شامل تھے۔ پروگرام سے یوکے پی این پی برطانیہ کے صدر عثمان کیانی، صدر یوکے پی این پی نواب امجد یوسف، آرگنائزر ثاقب رفیق، سیکرٹری نشرواشاعات یوکے پی این پی برطانیہ قمر ضیاء، آصف محمود، وائس پریذیڈنٹ لندن برانچ صدر یوکے پی این پی ضیاء مصطفٰی، میڈیا کوآرڈینیٹر یوکے پی این پی سردار اسد خان نے بھی خطاب کیا۔ ****************************** بریڈ فورڈ ... یورپی پارلیمنٹ میں ای سی آر گروپ کے چیئرمین اور نارتھ ایسٹ آف انگلینڈ سے کنزرویٹو ممبر یورپی پارلیمنٹ مارٹن کلینن نے تحریک حق خودارادیت یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین کو یقین دلایا ہے کہ ان کا گروپ یورپی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے ایک موثر وکیل کے طور پر حق خودارادیت کا کیس اجاگر کررہا ہے اور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور برٹش کشمیریوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اسے ہر سطح پر اٹھانے میں اپنی معاونت جاری رکھے گا، جبکہ وہ ذاتی طور پر اپنے ریجن میں کشمیری کمیونٹی سے مل کر ان کے رشتے داروں پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھی آواز بلند کریں گے اور بہت جلد نیو کاسل میں ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ راجہ نجابت حسین نے مارٹن کلینن سے ایک خصوصی ملاقات کرکے انہیں برطانیہ بھر میں کشمیری کمیونٹی کی طرف سے کشمیری عوام کے بنیادی اور دیرینہ مطالبہ حق خودارادیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانے کے لیے اپنی اور ان کی گروپ کے دیگر یورپی ممالک سے ارکان کو کشمیریوں کے جذبات پہنچانے کی درخواست کی تھی۔ راجہ نجابت حسین نے ممبر یورپی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے گروپ کے علاوہ یورپی پارلیمنٹ کے 28 ممالک کے ارکان اور یورپی کمیشن خصوصاً بیرونس ایشٹن سے مسئلہ کشمیر کے حل میں مداخلت کا مطالبہ کریں۔