مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اخلاقیات کا فاتح کون،مشرق یا مغرب؟ گوگل اور بنگ کاغیراخلاقی تصاویر پر پابندی کا فیصلہ
لندن ... برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر عریانیت پر مبنی مواد دیکھنے کیلئے یہ امر ضروری ہونا چاہئے کہ اس گھر میں رہنے والوں یا کم از کم زندگی کے ساتھی کو پتہ ہونا چاہئے کہ ان کے کمپیوٹر پر کیا دیکھا جا رہا ہے۔ گوگل اور مائکروسافٹ کے سرچ انجن بنگ کے درمیان بچوں کی عریاں تصاویر کے حوالے سے سخت ضابطہ اخلاق طے پانے کے بعد برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے ایسا بیان خوش آئند ہے جو اس سے قبل چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف ایک بڑے متحرک لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ دنیا کی دو بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں گوگل اور بنگ نے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا تھا جسکے تحت انٹرنیٹ پر بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر کی تلاش انتہائی مشکل بنانے کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ اس پرعمل بھی ہونا چاہیے ورنہ وہ اس سلسلے میں نیا قانون لا سکتے ہیں۔ گوگل اور مائیکروسافٹ نے ایسے نئے پروگرام کی ہدایات متعارف کروائی ہیں جن کی مدد سے ایسی تصاویر کی تلاش کا عمل روکا جا سکے گا۔ معروف برطانوی اخبار ڈیلی میل میں اپنے مضمون میں گوگل کے چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ نے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق ایک لاکھ سے زیادہ سوالات کے نتائج حذف کر دیے گئے ہیں اور جلد ہی 150 سے زیادہ زبانوں میں ان تبدیلیوں کو لاگو کر دیا جائے گا چنانچہ اس کا اثر ساری دنیا پر پڑے گا۔ گوگل اور مائیکروسافٹ نے ایسے مواد فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی اور انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی مدد کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ اقدامات کے تحت اب اس بارے میں ایک لاکھ سے زیادہ الفاظ اگر ’گوگل‘ اور ’بنگ‘ سرچ انجنوں پر تلاش کیے جائیں گے تو ڈھونڈنے والے فرد کو نہ صرف کوئی معلومات نہ مل سکیں گی بلکہ اسے یہ تنبیہ بھی کی جائے گی کہ بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر غیرقانونی ہیں۔