مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان نہیں جا رہا، حلف برداری تقریب کا دعوت نامہ نہیں ملا: عامر خان
ممبئی: بالی وڈ اداکار عامر خان کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری تقریب کا کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا لہٰذا وہ پاکستان نہیں جارہے۔گزشتہ روز خبریں آئی تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق بھارتی کرکٹرز نوجوت سنگھ سدھو، سنیل گواسکر، کپل دیواوراداکارعامر خان کو تقریب حلف برداری میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجا گیا ہے تاہم اداکار عامر خان کی جانب سے انہیں کسی بھی قسم کا دعوت نامہ موصول ہونے کی تردید کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اداکار عامر خان نے انہیں دعوت نامہ موصول ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان نہیں جارہا کیونکہ مجھے کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔دوسری جانب ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق عامر خان نے اس سوال پر کہ وہ فلم کا کتنا معاوضہ وصول کرتے ہیں بتایا کہ وہ فلم کے منافع کی شکل میں اپنا معاوضہ حاصل کرتے ہیں، مگر اس کا فارمولا کافی منفرد ہے اور کئی مواقعوں پر تو ہوسکتا ہے کہ انہیں کچھ بھی نہ ملے۔ انہوں نے کہا میں پروڈیوسر کے کندھوں پر ذمہ داری نہیں ڈالتا، آج کل سٹارز فلم کا 80 فیصد حصہ اپنی فیس کے طور پر حاصل کرتے ہیں، باقی بیس فیصد سے کسی فلم کو کامیاب کیسے بنایا جاسکتا ہے؟انہوں نے اپنے معاوضے کے حوالے سے اپنے ماڈل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا میں جس ماڈل کے تحت کام کرتا ہوں، وہ کچھ اس طرح ہے کہ جیسے اگر ایک فلم کی تیاری پر 100 کروڑ روپے لگتے ہیں، جس میں کاسٹ، عملہ، پروڈکشن کوسٹ، پوسٹ پروڈکشن کوسٹ اور دیگر سب اخراجات شامل ہوتے ہیں، تو میں اس میں سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتا، تو جب فلم ریلیز ہوتی ہے تو مجھے ایک روپیہ بھی نہیں ملا ہوتا، اور جب وہ کمانا شروع کرتی ہے تو سب سے پہلے اس آمدنی سے پروموشنز اور ایڈورٹائنزنگ، جس کا تخمینہ 25 کروڑ روپے رکھ لیں، کو کور کیا جاتا ہے، اس کے بعد جب پروڈیوسر کے پیسے ریکور ہوجاتے ہیں اور ہر ایک کو اپنا معاوضہ مل جاتا ہے، تو پھر میں منافع میں سے اپنا حصہ لیتا ہوں۔