مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اپوزیشن متحد ہو گئی، وزیرِاعظم ،سپیکر، ڈپٹی کیلئے مشترکہ امیدوار لانے کا اعلان
اسلام آباد: پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، ایم ایم اے، اے این پی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ دھاندلی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور احتجاج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔سپیکر سردار ایاز صادق کی رہائشگاہ پر ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی (آل پارٹیز کانفرنس) اے پی سی کے بعد سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اہم فیصلے ہو رہے ہیں، فیصلوں کا باقاعدہ اعلان کمیٹی کرے گی۔شیری رحمان نے کہا کہ آج تیسری اہم میٹنگ سیاسی و جمہوری قوتوں کی ہوئی ہے۔ پاکستان میں ہونے والے انتخابات غیر شفاف، دھاندلی زدہ ہیں، الیکشن کمیشن کو شواہد بھی پیش کر چکے ہیں، اس حوالے سے باقاعدہ وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ اے پی سی اس جعلی الیکشن کو مسترد کرتی ہے۔ کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے ایوان کے اندر جائینگے جبکہ ایوانوں کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک ورکنگ کمیٹی بنا لی ہے جس کی کل بھی میٹنگ ہو گی۔ احتجاج سمیت تمام امور پر حکمت عملی طے کر لی ہے۔ قومی اسمبلی میں متفقہ الیکشن لڑیں گے۔ سپیکر پی پی اور ڈپٹی سپیکر ایم ایم اے سے ہو گا جبکہ لیڈر آف دی ہاؤس کا امیدوار ن لیگ کا ہو گا۔پیپلز پارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم دھاندلی زدہ الیکشن کو نہیں مانتے۔ الیکشن کمیشن کا رزلٹ سسٹم آر ٹی ایس جان بوجھ کر بند کیا گیا۔ اب نادرا بھی واضح کر چکا ہے، جس سطح کی مداخلت کی گئی ہے، اس کا اظہار ہم پہلے ہی ایوان بالا میں بھی کر چکے تھے۔ ہم نے انتخابات کے شفاف، غیر جانبدار کرانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ ہم جمہوری جدوجہد سے گزر کر آئے ہیں، جمہوریت کی جگہ کسی اور کو نہیں لینے دینگے۔ اپنا احتجاج ہم ریکارڈ کراتے رہیں گے۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ کمیٹی میں تمام جماعتوں کے نمائندگان شامل کئے گئے ہیں، میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی حیثیت سے ایوان میں نہیں جا رہے ہیں بلکہ جیت کے جذبے سے جا رہے ہیں، ہم ڈیفنسو نہیں ایفنسیو طور پر ایوان جا رہے ہیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ سب جماعتوں نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا ہے۔ ہم ایوان کے باہر اور اندر مل کر احتجاج ریکارڈ کرائینگے۔ سب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ایوان میں جا کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ ہم متحد ہو کر آئین اور جمہوریت کی حفاظت کریں گے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ تمام بڑی جماعتیں الیکشن کے ایک ہفتے بعد انتخابات کو مسترد کر رہی ہیں۔ ہم متفقہ طور پر پارلیمنٹ کے اندر کٹھ پتلی حکومت کو شکست دیں گے۔ الیکشن میں باقاعدگیاں پاکستان کی بنیاد پر حملہ ہے۔مولانا غفور حیدری نے کہا کہ جے یو آئی نے دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد موقف رکھا کہ ہم حلف نہیں اٹھائیں گے، اس پر اتفاق ایم ایم اے کی جماعتوں نے کیا، بعد ازاں تجویز آئی تو پھر اس کو اے پی سی میں لے کر آئے۔ آج بھی حلف نہ اٹھانے کا معاملہ اے پی سی میں رکھا، تمام جماعتوں کے اتفاق کی وجہ سے حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔