مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دھاندلی کی شکایات والے حلقے کھلوانے کو تیار ہوں، عمران خان کا قوم سے خطاب
اسلام آباد: سربراہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا قوم سے خطاب، کپتان الیکشن میں تاریخی کامیابی پر خوش، منشور اور پروگرام پر عملدرآمد کرنے کا وعدہ، ذات پر حملے کرنے والوں کو بھول چکا، کسی کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی، وزیراعظم ہاؤس کے بجائے منسٹرانکلیو میں رہنے کا اعلان، کہا کہ میں مدینہ کی طرح فلاحی ریاست کا نظام چاہتا ہوں اور میں اس دور کے نظام سے متاثر ہوں۔انتخابات 2018 میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بنی گالہ میں عوام سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، یہ الیکشن تاریخی الیکشن تھا۔ 22 سال بعد نئے پاکستان کا خواب پورا کرنے کا اللہ نے موقع دیا ہے، مجھے اللہ نے سب کچھ دیا تھا، میری بائیس سال کی جدوجہد ہے، اقتدار میں آکر منشور پر عمل کرنے کا وقت آگیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ الیکشن میں دہشت گردی ہوئی، بلوچستان کے لوگوں نے بہت قربانیاں دیں، وہاں کہ لوگ مشکلات کے باوجود ووٹ ڈالنے نکلے، خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پاکستان کے عوام گرمی کے ہوتے ہوئے ووٹ ڈالنےنکلے، جمہوریت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ اکرام گنڈا پور، ہارون بلور شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 10 جگہوں پر مجھے جلسوں کے دوران سیکیورٹی تحفظات تھے، سیکیورٹی فورسز کو داد دینا چاہتا ہوں اور الیکشن کے کامیاب انعقاد پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں مختصریہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں مدینہ کی طرح فلاحی ریاست کا نظام چاہتا ہوں اور میں اس دور کے نظام سے متاثر ہوں۔ مدینہ کی طرح انسانیت کا نظام چاہتا ہوں، ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چل رہا ہے، آدھی آبادی غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہی ہے، میری کوشش ہوگی اور ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ تمام پالیسیاں کمزور طبقے کے لیے بنیں گی۔ غریب کسان سارا سال محنت کرتے ہیں، اصل معاوضہ نہیں ملتا، 45 فیصد پاکستانی بچوں کو مناسب خوراک نہیں ملتی، ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہے۔ گندے پانی کیوجہ سے بچے مرجاتے ہیں، کمزور طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے پورا زور لگاؤں گا۔ چین نے 70 کروڑ لوگوں کوغربت سے نکالا، انہوں نے کہا کہ دنیا کے عظیم لیڈر ہمارے نبی ﷺ تھے۔مدینہ کی ریاست میں قانون کی نظرمیں سب برابرتھے۔عمران خان نے کہا کہ چاہتا ہوں پورا پاکستان متحد ہو، جو کچھ میرے ساتھ ہوا سب کچھ بھول چکا ہوں، میرا مقصد میری ذات سے بہت بڑا ہے، یہ پہلی حکومت ہوگی، کسی مخالف کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرے گی۔ ملک میں قانون کی بالادستی قائم کریں گے۔ اگر کوئی ہمارا بندہ غلط کام کرے گا تو قانون ایکشن لے گا، ریاستی اداروں کو مضبوط کریں گے۔ احتساب میرے سے شروع ہوگا اور نچلی سطح تک جائے گا، کرپشن ملک کو کینسر کی طرح کھا رہی ہے۔ قانون سب کے لیے برابر ہوگا، مثال قائم کریں گے۔ملکی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ گورننس سسٹم کو ٹھیک کریں گے، پاکستان کو آج سب سے بڑا چیلنج اکانومی کا ہے، تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لیے گئے، اداروں کی خرابی کیوجہ سے گورننس سسٹم ٹھیک نہیں، سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہے۔ اوورسیزپاکستانیوں کو گورننس ٹھیک کر کے انہیں کاروبار کے مواقع دیں گے، کرپشن کیوجہ سے پاکستان میں انویسٹمنٹ نہیں آتی۔ ہم پاکستان کو ایسے چلائیں گے جس طرح پہلے نہیں چلایا گیا، اداروں کو ٹھیک کریں گے اور ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے۔ بزنس کمیونٹی کیساتھ ملکر پالیسیاں بنائیں گے۔ نوجوانوں کو نوکریاں دیں گے، ٹیکس کلچرکو ٹھیک کریں گے، عوام کا ٹیکس چوری نہیں ہوگا۔ عوام کے ٹیکس کا صحیح استعمال کیا جائے گا، سارا پیسہ انسانوں پر خرچ کریں گے۔عمران خان نے قوم سے خطاب میں واضح کیا کہ حکومت میں رہ کر سادگی اختیار کریں گے، ارکان اسمبلی کے خرچوں کو کم کریں گے، تمام پارلیمنٹرینز کو ٹھیک کریں گے۔ اداروں کو ٹھیک اور خرچوں کو کم کریں گے۔ آج تک حکمران عوام کے پیسوں سے عیاشیاں کرتے رہے اور بڑے بڑے محلات میں رہتے رہے۔ میرا وعدہ ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کروں گا۔ اپنے اخراجات کو کم کروں گا، آدھی آبادی غربت میں اور مجھے شرم آئے گی کہ وزیراعظم ہاؤس جا کر رہوں، وزیراعظم ہاؤس کے بجائے منسٹر انکلیو میں جا کر رہوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤسز کو عوامی استعمال کیلئے بنائیں گے، پورے ملک میں سادگی کا نظام لائیں گے، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے کو مضبوط کریں گے۔خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ فاران پالیسی بہت بڑا چیلنج ہے، اگر کسی ملک کو اس وقت امن کی ضرورت ہے تو وہ پاکستان ہے، تمام ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، چین سے تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے، کرپشن پر قابو پانے کا طریقہ بھی چین سے سیکھیں گے۔افغانستان کے حوالے بات کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ افغانستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھائیں، افغانستان کو امن کی ضرورت ہے، وہاں امن ہوگا تو پاکستان میں امن ہوگا۔ ہماری کوشش ہوگی ہر طرح امن لائیں گے، چاہتا ہوں افغانستان سے ایسے تعلقات ہو جیسے یورپی یونین کے اوپن بارڈر ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے افغانستان سے اچھے تعلقات نہیں رہے۔دیگر ممالک سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکا سے برابری کے تعلقات چاہتے ہیں، ایران ہمارا ہمسایہ ملک، مزید تعلقات بہتر کریں گے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، مڈل ایسٹ میں ثالثی کا رول ادا کریں گے۔ پوری کوشش کریں گے کہ مڈل ایسٹ میں لڑائیوں کو ختم کریں۔ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا، الیکشن کمپین کے دوران افسوس ہوا بھارتی میڈیا نے مجھے ولن کے طور پر پیش کیا۔ وہ پاکستانی ہوں جس نے پورا بھارت دیکھا ہے، پاک بھارت تعلقات بہتری سے برصغیر کی بہتری ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کو تجارت کرنی چاہیے دونوں ملکوں کو فائدہ ہوگا۔ ہمارے درمیان کور ایشو کشمیر ہے، کشمیر کا حل فوجی نہیں ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، مسئلہ ٹیبل پر حل کرنا چاہیے۔ کسی بھی فوج کا شہری آبادی میں ظلم ڈھانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہمیں بلیم گیم نہیں کرنا چاہیے، اگربھارت کی لیڈر شپ تیارہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ بھارت ایک قدم ہماری طرف آیا تو ہم دو قدم جائیں گے۔ بھارت سے اچھے تعلقات برصغیر کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی ہونی چاہیے، مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہیں۔عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ دھاندلی کے الزام لگانے والوں کی پوری مدد کروں گا۔ آج سیاسی جماعتیں دھاندلی کا کہہ رہی ہے، موجودہ الیکشن کمیشن کو (ن) لیگ، پیپلزپارٹی کی مشاورت سے بنایا گیا۔ جو بھی حلقہ کہیں گے چیک کرا دیں گے۔ 2013 میں ہم نے چار حلقے کھولنے کا کہا تمام جماعتوں نے میری مخالفت کی تھی، مخالفین کوئی حلقہ کھولنا چاہتے ہیں جہاں دھاندلی ہوئی ہم اس میں مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے شفاف الیکشن ہوا ہے۔ میرے لیے دعا کریں کہ اپنے وعدوں کو پورا کروں۔واضح رہے کہ عام انتخابات 2018 میں برتری حاصل کرنے کے بعد یہ عمران خان کا پہلا خطاب تھا، جس میں انہوں نے تمام اہم ملکی معاملات پر بات کی۔ عمران خان کے اس خطاب کو ملکی اورغیر ملکی میڈیا نے براہ راست نشر کیا۔