مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
خزاں رسیدہ درختوں پے پھل نہیں لگتا!!!!
ابھی چند روز پہلے کی بات ہے، مجھ جیسے غیر سیاسی آدمی کو قومی اسمبلی کے ایک امیدوار نے اپنی کارنر میٹنگ میں شرکت کے لیے بہت اصرار سے مدعو کر لیا۔الیکشن لڑنے والوں کا ایک نفسیاتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ کامیابی سے پہلے ہی خود پر وہ حلیہ مسلط کر لیتے ہیں جو ان کے خیال میں ممبران اسمبلی کا ہونا چاہیے یعنی کاٹن کاکلف لگا سفید شلوار قمیض اور اس پر گہرے رنگ کی واسکٹ۔الیکشن لڑنے والے کئی امیدواروں نے ایم پی اے یا ایم این اے کے گیٹ اپ کو مکمل رنگ دینے کے لیے کرائے پر پراڈو اور پجارو قسم کی گاڑیاں بھی کرائے پر لے رکھی ہیں۔ بحر حال میں جن امیدوار کی کارنر میٹنگ میں شریک ہوا ان کے پاس اس طرح کی بارعب گاڑی تو نہیں تھی مگر باقی آئٹم پورے تھے۔میں سمجھا تھا کہ امیدوار مذکورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی،دفاعی حکمت عملی،امن و امان کی صورت حال، اقتصادی اور معاشی منصوبہ بندی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کی فراہمی اور پانی کی قلت جیسے اہم قومی مسائل پر بات کریں گے اور حاضرین کو بتائیں گے کہ کامیاب ہونے کی صورت میں پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے وہ پاکستان کی ترقی استحکام اور خوشحالی کے لیے کیا کیا اقدامات کریں گے مگر صاحب موصوف کی ساری گفتگو گلیاں پکی کرانے، گلی کوچوں سے کوڑا اٹھوانے اورگندی نالیاں صاف کروانے کے وعدوں کے گرد ہی گھومتی رہی۔کھمبوں پر سٹریٹ لائٹ کے بلب لگوانے کا بھی انہوں نے نہایت پکا وعدہ کیا۔میٹنگ کے اختتام پر میزبان نے مجھ سے کہا، جناب آپ تو اخبار میں لکھتے ہیں، آپ بھی کچھ نہ کچھ ضرور کہیے۔میں پہلے ہی اس سارے منظر سے اکتایا ہوا اور بیزار بیٹھا تھا، میزبان نے نہایت اصرار کیا تو بس ایک جملہ بولا اور کمرے سے باہر آگیا،’ میں تمام حاضرین کی موجودگی میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ ہی کو ووٹ دوں گا اگر آپ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کونسلر کا الیکشن لڑیں گے۔‘ اسے حالات کی ستم ظریفی کہیے یا پھر ہماری اجتماعی قومی بدقسمتی کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہماری نمائیندگی کے خواہاں بہت سے امیدوار اس حقیقت سے آشنا ہی نہیں ہیں کہ ایک ممبر قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے فرائض اور ذمے داریاں بلدیاتی کونسلر سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ایم این اے یا پھر ایم پی اے کا کام نالیاں صاف کروانا نہیں ہوتا نہ ہی ان معزز حضرات کا کام گلیاں پکی کرانا ہوتا ہے۔ یہ لوگ تو قومی اور ملکی پالیسیاں تشکیل دینے کے لیے ہوتے ہیں، قانون سازی کے معاملات نمٹاتے ہیں۔ اس قسم کی غلط فہمیوں کو فروغ دینے کی ذمے داری بحرحال ان سابقہ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی پر بھی عائد ہوتی ہے جن کے حلقہ چنائو میں ہر نالی، ہر سیوریج سسٹم، ہر پختہ گلی حتی کہ قبرستانوں کے داخلی دروازوں تک لگے افتتاحی بورڈوں پر ان کا نام لکھا ہوتا ہے۔ویسے بھی یہ ہمارے نظام کی انتہائی مضحکہ خیز روش ہے کہ ہمارے ہاں قومی املاک کو زندہ افراد کے نام سے موسوم کردیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر فروغ پاتا ہے کہ ہماری تاریخ قابل فخر ناموں کے معاملے میں بنجر ہو چکی ہے۔یقینا ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا جب ہمارے قانون ساز ادارے اس طرف بھی توجہ دیں گے کہ قومی املاک صرف ان ناموں سے موسوم کی جائیں جو کسی تاریخی اہمیت کے حامل ہوں۔ سیاسی بنیادوں پر قومی املاک کے نام رکھے جائیں تو وہی حشر ہوتا ہے جو آج ڈھاکہ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کا ہورہا ہے۔1980میں تکمیل کے آخری مراحل کی طرف بڑھنے والے اس ہوائی اڈے کا رسمی افتتاح اس وقت کے صدر بنگلہ دیش مسٹر ضیا الرحما ن نے کیا تھا، تب اس کا نام ڈھاکہ انٹرنیشنل ائر پورٹ تھا۔مسٹر ضیا الرحمان کو 1981میں قتل کردیا گیا۔ دو سال بعد جب اس ائر پورٹ کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس وقت کے صدر مسٹر عبدالستار نے اس کا نام ضیا الرحمن ائر پورٹ رکھ دیا۔ سنہ 2010میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے اس ائر پورٹ کا نام شاہ جلال انٹرنیشنل ائر پورٹ رکھ دیا۔حضرت شاہ جلال بنگال کے ایک بہت بڑے صوفی بزرگ تھے جنہوں نے اس خطے میں ترویج اسلام کے لیے بہت سی خدمات سر انجام دیں۔تاہم شیخ حسینہ واجد نے اس ائرپورٹ کا نام ان صوفی بزرگ سے لگائو اور عقیدت کی بناء پر تبدیل نہیں کیا۔اس تبدیلی کی واحد وجہ بیگم خالد ضیاء تھیں جو کہ مرحوم صدر ضیا الرحمان کی اہلیہ ہیں اور 1991سے 1996تک بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہنے کے بعد2001سے2006تک ایک بار پھر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ان کا تعلق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے جس کی وہ آج بھی چیر پرسن ہیں۔بیگم خالدہ ضیا اور ان کی پارٹی پر ہمیشہ سے پاکستان نواز ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے ۔ اگرچہ بیگم خالدہ ضیاء آجکل پس زندان ہیں اور پانچ سال قید بھگت رہی ہیںلیکن موجودہ وزیر اعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجدان سے اس قدر خوزدہ ہیں کہ ان کی راتوں کی نیند تک حرام ہو چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بی این پی کے کارکنان جیل میں اپنی لیڈر سے ملنے کے لیے جاتے ہیں تو انہیں نہایت توہین آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرز ا فخر اسلام نے دو تین روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ ہماری پارٹی کے جو لیڈرز اور کارکنان بیگم خالد ضیاء سے ملاقات کے لیے جیل جاتے ہیں جیل سپرٹنڈنٹ انہیں آئی جی جیل خانہ جات سے اجازت نامہ لانے کو کہتا ہے، آئی جی صاحب وزیر جیل خانہ جات سے اجازت نامہ لانے کو کہتے ہیں اور وزیر جیل خانہ جات وزیر اعظم سے منظوری لانے کی فرمائش کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ سب مل کر کوشش کر رہے ہیں کہ خالدہ ضیاء کو قید تنہائی کی کیفیت میں دھکیل دیا جائے تاکہ وہ نفسیاتی دبائو کا شکار ہوکر پاکستان کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔ شیخ حسینہ اور ان کی جماعت کا یہ عمل اگرچہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے ذمرے میں آتا ہے لیکن قومی سطح پر اگر آپ کسی ملک کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو اس دشمنی کو نبھانے اور دشمنی کو انجام تک پہنچانے کے لیے اسی طرح کی انتہا پسندی کی ضرورت ہوتی ہے۔یاد رکھیے ملکوں کی ملکوں سے دشمنی ہوتی ہے افراد سے نہیں البتہ اس دشمنی کا نشانہ انفرادی سطح پر افراد کو بھی بننا پڑتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے شہید سراج رئیسانی اور ان کے 128بے گناہ ساتھیوں کو بھارت دشمنی اور پاکستان سے وفاداری کے جرم میں موت کو گلے لگانا پڑا۔ہم شہید سراج رئیسانی اور اس کے بے گناہ ساتھیوں کی حفاظت تو نہیں کر سکے مگر ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ کسی مرکزی شاہراہ یا پھر کسی قومی اہمیت کی عمارت کو اس کے نام سے موسوم کردیں، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایسی شاہراہ یا عمارت بلوچستان میں ہی ہو،بنجاب، سندھ، کے پی کے یا پھر گلگت بلتستان میں بھی ہو سکتی ہے۔الفت کے پھول اگائے بنا محبت کی خوشبو کا پھیلائو کبھی ممکن نہیں ہوتا۔