مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر بحث شروع ہو گئی
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ملکی مسائل حل کرنے میں ناکامی پر حزب اختلاف نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی، حکمران جماعت بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اسے 314 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔اجلاس شروع ہوا تو بِجوجنتا دَل پارٹی نے واک آؤٹ کیا جبکہ شیو سینا بھی ایوان سے غیر حاضر رہی۔ اس موقع پر کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران حکومت پر کھل کر وار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے بھارت میں تشدد کو فروغ دیا، اس کے بعد راہول گاندھی نے اچانک وزیرِاعظم مودی کی نشست پر جا کر انہیں گلے لگا لیا۔یاد رہے کہ بھارت کی اسمبلی کے ایوان زیریں لوک سبھا کے مون سون سیزن کے اجلاس کے پہلے روز تیلگودیشم پارٹی نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں عدم برداشت، قتل و غارت گری بڑھی ہے اور وزیرِاعظم مودی اسے کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اتحادی مودی سے ناراض ہیں اور تحریک کامیاب ہو جائے گی جبکہ بی جےپی کا دعوی ہے کہ اسے 314ارکان کی حمایت حاصل ہے۔