مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر بحث شروع ہو گئی
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ملکی مسائل حل کرنے میں ناکامی پر حزب اختلاف نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی، حکمران جماعت بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اسے 314 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔اجلاس شروع ہوا تو بِجوجنتا دَل پارٹی نے واک آؤٹ کیا جبکہ شیو سینا بھی ایوان سے غیر حاضر رہی۔ اس موقع پر کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران حکومت پر کھل کر وار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے بھارت میں تشدد کو فروغ دیا، اس کے بعد راہول گاندھی نے اچانک وزیرِاعظم مودی کی نشست پر جا کر انہیں گلے لگا لیا۔یاد رہے کہ بھارت کی اسمبلی کے ایوان زیریں لوک سبھا کے مون سون سیزن کے اجلاس کے پہلے روز تیلگودیشم پارٹی نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں عدم برداشت، قتل و غارت گری بڑھی ہے اور وزیرِاعظم مودی اسے کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اتحادی مودی سے ناراض ہیں اور تحریک کامیاب ہو جائے گی جبکہ بی جےپی کا دعوی ہے کہ اسے 314ارکان کی حمایت حاصل ہے۔