مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نے کمیونٹی کی خدمات کیلئے دن رات کوشش کی ہے:پیر ابو احمدمحمدمقصود مدنی
کونسلر محمد صادق نے دوسری بار میئر لندن بارو آف سٹن کا حلف اٹھالیا، کمیونٹی کی مبارکباد
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پلیک گیٹ ہا ئی سکول بلیک برن میں تعینات ٹیچر کیتھرین نے روزے رکھنے شروع کر دیے
مظلوم کے ساتھی ہو کہ ظالم کے طرفدار؟؟؟؟
پکچرگیلری
Advertisement
بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پر بحث شروع ہو گئی
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی ملکی مسائل حل کرنے میں ناکامی پر حزب اختلاف نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی، حکمران جماعت بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ اسے 314 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔اجلاس شروع ہوا تو بِجوجنتا دَل پارٹی نے واک آؤٹ کیا جبکہ شیو سینا بھی ایوان سے غیر حاضر رہی۔ اس موقع پر کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے لوک سبھا میں اپنی تقریر کے دوران حکومت پر کھل کر وار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت نے بھارت میں تشدد کو فروغ دیا، اس کے بعد راہول گاندھی نے اچانک وزیرِاعظم مودی کی نشست پر جا کر انہیں گلے لگا لیا۔یاد رہے کہ بھارت کی اسمبلی کے ایوان زیریں لوک سبھا کے مون سون سیزن کے اجلاس کے پہلے روز تیلگودیشم پارٹی نے تحریکِ عدم اعتماد پیش کی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں عدم برداشت، قتل و غارت گری بڑھی ہے اور وزیرِاعظم مودی اسے کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں۔حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا کہ اتحادی مودی سے ناراض ہیں اور تحریک کامیاب ہو جائے گی جبکہ بی جےپی کا دعوی ہے کہ اسے 314ارکان کی حمایت حاصل ہے۔