مقبول خبریں
حضرت عثمان غنی ؓ نے دین اسلام کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا: علامہ ظفر محمود فراشوی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس،ممبران برطانوی و یورپی پارلیمنٹ کی شرکت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
شریف فیملی کو فوری ریلیف نہ مل سکا، جولائی کے آخر تک سماعت ملتوی
اسلام آباد: نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر فوری ریلیف نہیں ملا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب اور تفتیشی افسر کو طلب کرتے ہوئے سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی۔سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سزا معطل کرنے کی درخواست پر دلائل میں کہا کہ استغاثہ نے لندن فلیٹس کی اصل مالیت جانے بغیر آمدن سے زائد اثاثہ قرار دیا۔ اس پر جسٹس گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا یہ تو آپ نے اپنی اپیل میں بھی لکھا ہے۔خواجہ حارث نے دلیل دی کہ نواز شریف کی ملکیت سے متعلق کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے، فیصلہ پڑھیں اس میں کہیں نواز شریف کی ملکیت کا ذکر نہیں ہو گا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کچھ ٹی وی انٹرویوز کا فیصلے میں حوالہ دیا گیا ہے۔دو رکنی بنچ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب پیش ہو کر قانونی نکات پر معاونت کریں۔ چاروں اپیلوں کی سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی گئی تاہم کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی۔یاد رہے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو 10 سال قید، ایک ارب 29 کروڑ روپے جرمانہ، مریم نواز کو سات سال قید، 32 کروڑ روپے جرمانہ، شریف فیملی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے کیس کے شریک ملزموں حسین اور حسن نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔