مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
علامہ محمد اقبال نہ ہوتے تو پاکستان بھی نہ ہوتا ،آج ہم ایک غلام قوم ہوتے: لارڈ نذیر، مولانا چشتی
لندن ... شاعر مشرق علامہ محمد اقبال صرف پاکستان کے ہی محسن نہیں بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں، آپ نے اپنی سوچ، فکر اور فلسفے سے امت مسلمہ کو جینے کی نئی راہ دکھائی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے یوم اقبال کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں کیا جسکا اہتمام معروف کشمیری رہنما مولانا محمد یعقوب چشتی نے ٹی کے سی سائوتھ آل لندن میں کیا۔ برطانیہ میں کمیونٹی کی سرکردہ شخصیت لارڈ نزیر احمد اور برطانیہ کے دورے پر آئے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سابق سپیکر شاہ غلام قادر مہمان خصوصی تھے۔ مولانا محمد یعقوب چشتی نے انتہائی جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بزرگوں کی بے مثل قربانیوں کے عوض حاصل کئے گئے پاکستان پر دشمن کی بری نظر ضرور ہے مگر ہم بحیثیت قوم بھی اپنی ملی ذمہ داریوں کو بھول چکے ہیں، انہوں نے کہا علامہ محمد اقبالؒ نہ ہوتے تو پاکستان بھی نہ ہوتا اور خدانخواستہ آج بھی ہم ہندوئوں کے غلام ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا کرم تھا کہ اس نے ہمیں اقبالؒ دیا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ہمیں خودی نہ بیچنے کا درس دیا، ہمیں اپنی خودی پر قائم رہنا اور قائداعظمؒ و علامہ محمد اقبالؒ کا پیروکار بننا ہو گا۔ لارڈ نذیر احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال وہ تاریخ ساز شخصیت ہیں کہ حصول پاکستان کیلئے ہم انکی ان گنت کاوشوں کا شمار ہی نہیں کر سکتے آپ وہی شخصیت ہیں جو بانی پاکستان قائداعظم کو لند سے واپس لیکر گئے جو یہاں کے حالات سے مایوس ہو کر وہاں چلے گئے تھے کہ وہ واپس آکر قوم کی رہنمائی فرمائیں اور مسلم لیگ کی قیادت کریں چنانچہ قائداعظمؒ آپ کے کہنے پر واپس تشریف لائے اور 1940ء میں اسی لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اگرچہ اس سے دو سال قبل علامہ محمد اقبالؒ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے تھے لیکن ان کی دعا سے قائداعظمؒ نے سات سال کی مختصر مدت میں ہمیں پاکستان بنا کر دیدیا۔ بعدازاں ہم نے اس کے دو ٹکڑے کر دئیے اور ایک ٹکڑا بنگلہ دیش کی صورت میں آج ہمارے سامنے موجود ہے جہاں 90 سال کے بزرگوں کو نوے نوے سال کی سزا دی جا رہی ہے۔ پاکستان ہمارا اپنا وطن ہے لیکن وہاں کے حالات دیکھ کر بھی دل خون کے آنسو روتا ہے، پتہ نہیں یہ شخصیات کی خامیاں ہیں یا عالمی دبائو کہ ہمارے حکمران ایٹمی قوت ہونے کے باوجود کیوں بار بار بھارت یاترہ کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں علامہ محمد اقبالؒ کی تعلیمات سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری میں جابجا نوجوانوں کوان کی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔ آج نوجوانوں کو آگے بڑھ کر اقوام کی رہنمائی کا بیڑہ پار لگانا ہو گا۔ سابق سپیکر آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا مسلمانوں کی شان و شوکت اور عظمت کے بارے میں علامہ محمد اقبالؒ کا تصور یہ ہے مسلمانوں کو صاحب قوت ہونا چاہئے، مسلمانوں کو غالب ہونا چاہئے مغلوب نہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ کے تصور عشق کو صحیح معنوں میں سمجھے بغیر ہم کبھی غالب نہیں ہو سکتے۔ آج ہمیں مغلوبیت سے نکل کر غالب ہونا چاہئے۔ بیرونی استعمار کے غلبے سے نکل کر اور مکمل آزاد ی حاصل کر کے ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ تقریب سے کونسلر زاہدہ نوری اور خواجہ ظہور نے بھی خطاب کیا۔ (پورٹ و تصاویر: اکرم عابد)