مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے مرکزی راہنما راجہ یاسین کے اعزاز میں چوہدری محمد بشیر رٹوی اور ساتھیوں کا استقبالیہ
بیسٹ وے گروپ کے سربراہ سرانور پرویز کی جانب سے کمیونٹی رہنمائوں کے اعزاز میں استقبالیہ
نبوت بھی اﷲ کی عطا ہے اور صحابیت بھی، نبوت بھی ختم ہے اور صحابیت بھی: ڈاکٹر خالد محمود
شریف فیملی کو فوری ریلیف نہ مل سکا، جولائی کے آخر تک سماعت ملتوی
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا ،احتجاج،جھڑپیں
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
مسئلہ کشمیر پرقوم کا نکتہ نظر اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پکچرگیلری
Advertisement
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
برداشت اور تحمل اصل میں ایک ہی صفت کے دو نام ہیں۔جہاں تک میدان سیاست کا تعلق ہے برداشت اور تحمل کے بغیر اس میدان میں کامیابی کا کوئی تصور ہی نہیں۔ لوگوں کی باتیں ، احسان فراموشیاں،اقرباء کی ناجائز فرمائشیں اور بے جا الزامات کی بارشیں، سیاست دان کی جھولی ان چیزوں سے ہمیشہ بھری رہتی ہے۔مخالفین تاڑ میں رہتے ہیں کہ کب کہاں پائوں میں ذرا سی لغزش آئے۔ سیاستدان کو کوئی بھی معاف کرنے یا پھر درگذر کو تیار نہیں ہوتا۔پھر یہ بھی ہے کہ سیاستدان کو، بالخصوص ، شامل اقتدار سیاستدانوں کو سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ ان ساتھ چلنے والوں میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر وقت لڑنے مرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں، کبھی کسی سے جھگڑا تو کبھی کسی سے فساد، ایسے لوگوں کے نزدیک زندگی کے ہر مسئلے اور ہر معاملے کا حل لڑائی مار کٹائی میں ہوتا ہے۔سڑک پر گاڑی کے پچھلے بمپر سے کوئی سائکل چھو جائے یا پھر گلی میں کھیلتے بچوں کا چوکے یا چھکے کی حد بندی پر کوئی جھگڑا ہوجائے یا پھر محلے کی کسی دکان پر اخبار پڑھتے ہوئے کسی دوسرے سے کسی سیاسی نکتے پر اختلاف رائے ہوجائے ، آپ کو ہر جگہ ایسے لوگ ضرور ملیں گے جو آستین لپیٹ کر فورا ہی مار پیٹ پر اتر آتے ہیں۔ سیاستدانوں کو ایسے سر پھروں کو بھی پیار پیار سے رکھنا پڑتا ہے۔ یقینا سیاست کوئی آسان کام نہیں۔ سال ہا سال عوامی خدمت کرنے کے بعد بھی یقین نہیں ہوتا کہ کوئی پارٹی ٹکٹ دے گی یا نہیں۔ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ مشکل کام ہمارے ہاں بہت سے لوگ کرتے ہیں اور بڑی کامیابی سے کرتے ہیں۔ایسے لوگ جنہیں کامیابی کے لیے کسی پارٹی پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں ہوتی انہیں سیاست کی لغت میں الیکٹبلز کہا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں کچھ دل جلے ایسے لوگوں کو ازراہ مذاق ایک اور نام سے بھی پکارتے ہیں۔تاہم اس بات کا کریڈٹ بحر حال سیاستدانوں کو ہی جاتا ہے کہ عوام انہیں جس نام سے بھی پکاریں وہ اپنے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیتے۔دلچسپ بات یہ کہ سیاستدانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک صرف پاکستان ہی میں نہیں ہوتا۔ امریکا برطانیہ جیسے انتہائی ترقی یافتہ معاشروں میں بھی سیاستدان ، حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، عوامی قہر کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو ہی دیکھ لیں، انہیں ان ہی کے لوگوں نے مزاج اور کردار کے حوالے سے ہر طرح کی تنقید اور تمسخر کا نشانہ بنایا، سوشل میڈیا پر ان کی ایسی فلمیں اپ لوڈ کی گئیں جس سے ظاہر ہو کہ ان سے بڑھ کر پورے امریکا میں اخلاقی گراوٹ کا شکار دوسرا کوئی بھی نہیں، لیکن صدر ٹرمپ مسکراتے رہے، سنجیدہ سے سنجیدہ بات کا بھی مزاق سے جواب دیا، کہیں بھی اپنا درجہ حرارت بے قابو نہیں ہونے دیا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مقبول سے مقبول تر ہوتے چلے گئے۔لوگوں نے ان کے کردار کے ہر جھول کو ان کی قوت برداشت کے سامنے نظر انداز کردیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آجکل امریکا میں سابق صدر براک اوباما کی اہلیہ مشعال اوباما اور سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جارج ڈبلیو بش اور مشعال اوباما کے درمیان پچھلے آٹھ برسوں میں اتنی قربت بڑھی ہے کہ لوگ شک میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اگر چہ مشعال اور صدر بش کا کہنا ہے کہ ان کے درمیان صرف اور صرف دوستی کا رشتہ ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں لیکن ناقدین کبھی بھی کسی کے قابو میں نہیں ہوتے۔ تاہم اچھی بات یہ کہ میڈیا کی جانب سے انتہائی قابل اعتراض الزامات کے باوجود مشعال اور مسٹر بش نے کسی لمحے بھی غصے میں آکر بدتمیزی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں مسٹر اوباما کا کردار بھی قابل تحسین ہے کہ وہ لوگوں کے بھڑکانے میں نہیں آئے اور سوشل میڈیا پر ان کی ایسی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں جن میں وہ اپنی اہلیہ کو مسٹر بش کے ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ اکثر معاملات زندگی بلکہ بہت سے سانحات زندگی میں بھی اصل کردار ہمیشہ جذباتی پن اور عدم برداشت کا ہوتا ہے۔سنا ہے کہ اشتعال محض دس سیکنڈ پر مشتمل ایک دورانیے کا نام ہے، اگر اشتعال دلائے جانے یا غصہ آنے کی صورت میں توجہ کو تھوڑا سا کسی اور سمت منتقل کر لیا جائے تو انسان ان دس سیکنڈز کو بحفاظت گذار سکتا ہے۔شاید اسی لیے ہمارے بڑے بوڑھوں نے ہمیشہ یہی تربیت دی کہ غصہ آئے تو فوراًً درود پاک یا پھر اسمائے الہی کا ورد شروع کردو، غصہ خود بخود ختم ہوجائے گا۔تاہم کچھ معاملات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن ہماری بے صبری اور عدم برداشت بہت سی بدگمانیاں پیدا کر دیتی ہے۔پاکستان اور بھارت کے بیچ پانی کی تقسیم کے معاملات کو ہی دیکھ لیں۔ 21مئی2018کو ورلڈ بنک کے کے صاحبان اختیار اور پاکستانی نمائندگان کے درمیان ایک ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کو درپیش پانی کے بحران اور اس بحران کو سنگین بنانے میں بھارت کے کردار کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔یہ ملاقات کوئی فیصلہ کن ملاقات نہیں تھی، یعنی کوئی ایسی عدالتی پیشی نہیں تھی جس میں حتمی فیصلہ کیا جانا تھا لیکن ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے ایسا تاثر دیا جیسے پاکستان ورلڈ بنک کے سامنے اپنا کیس ہار گیا۔ اس غلط پراپگینڈے سے اور تو کسی کو نقصان نہیں پہنچا، ہمارے اپنے پاکستانی پریشان ضرور ہوئے۔صورت حال یہ ہے کہ ورلڈ بنک کی طرف سے پاکستان کو حال ہی میں ایک خط لکھا گیا ہے جس میں نہایت واضح لفظوں میں پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی مشورہ دیا گیا ہے کہ اس معاملے کے حل کے لیے کسی غیر جانبدار ایکسپرٹ کا چنائو کر لیں تاکہ مسائل کی مزید پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔ اس خط میں یہ تذکرہ یا حوالہ کہیں بھی نہیں کہ پاکستان ورلڈ بنک کے عالمی فورم پر اپنا کیس ہار گیا ہے۔پاکستان کوئی گیا گذرا ملک نہیں کہ اسے جس لاٹھی سے چاہیں اور جس طرف چاہیں ہانک لیں۔پاکستان کا مسئلہ صرف ایک ہے کہ ہماری قوم کو یہ بات ابھی تک کسی نے نہیں سکھائی کہ اتحاد اور اتفاق کی ضرورت صرف حالت جنگ ہی میں نہیں ہوتی، حالت امن میں بھی قدم سے قدم ملا کر چلنا، سفر کی دلکشی میں اضافہ کرتا ہے۔