مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو بھارت کا وہی حال ہو گا جو امریکہ کا ویتنام میں ہوا : محبوبہ مفتی
مقبوضہ...کشمیر کے لیڈروں کو کبھی کبھی بھارت سرکارپر غصہ آجاتا ہے جیسا کہ آجکل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتٰ آیا ہوا ہے کہ اگر کشمیر کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا تو ایک دن بھارت کا وہی حال ہو سکتا ہے جو امریکہ کا ویتنام میں ہوا تھا۔ محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ کشمیر پر 65 برسوں سے فوج اور پولیس فورس کے سہارے راج کیا جا رہا ہے۔ کشمیری خود کو پہلے سے کہیں زیادہ الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں اور بہ ایں سبب آئندہ سال امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کے اثرات کشمیر پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں عسکریت پسندی کم ہوئی ہے لیکن عام نوجوانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ ملک کی مین سٹریم سے مزید کٹ کر رہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’اگر اسے روکا نہ گیا تو بھارت کا وہی حال ہوگا جو امریکہ کا ویتنام میں ہوا اور افغانستان میں ہو رہا ہے۔بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہا تھا کہ کشمیر میں جمہوریت کمزور ہے۔ کشمیر کا انتظام بس کسی طرح کر لیا جاتا ہے اور کشمیر میں سیلكٹیو ڈیموکریسی چلائی جاتی ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ ملک کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اچھے قدم کو کشمیر میں نافذ نہیں کیا جاتا۔ مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ جب ملک بھر میں ووٹنگ مشین پرنو ووٹ کا اختیار دیا گیا تو پورے ملک نے اس کا استقبال کیا، لیکن کشمیریوں کو یہ سہولت نہیں دی گئی۔وہ کہتی ہیں ’لوگ ڈر گئے ہیں۔ کشمیری پہلے ہی انتخابات کا بائیکاٹ کرتے آئے ہیں۔ اگر لوگوں نےنو ووٹ کا بٹن دبایا تو یہ اس بات کا اشارہ سمجھا جائے گا کہ وہ انتخابات کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ بھارت کے سابق وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی 54 سالہ محبوبہ مفتی کے مطابق کشمیریوں کو ملک کی مین سٹریم سے جوڑنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ذریعے شروع کیے جانے والی امن کی بحالی کے عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیریوں اور بھارتی حکومت کے درمیان ایک دوسرے کے لیے اعتماد کی کمی ہے جسے دور کرنا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے بارے میں کہا کہ اگر وہ انتخابی مہم کے لیے کشمیر آتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی حمایت وہ اس لیے نہیں کریں گی کیونکہ بی جے پی کشمیر کے لیے دفعہ 370 کی مخالفت کرتی ہے۔