مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شر پسنددنیا میں مذاہب کوتفریق، افتراق، امتیاز اور ایذا رسانی کیلئے استعمال کر رہے ہیں:بیرونس وارثی
نیویارک ...کمیونیٹیز کی سینیئر برطانوی وزیر بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ اقلیتیں دنیا بھر میں غیر محفوظ ہیں تاہم مسلم ممالک میں یہ شرح اس لئے زیادہ ہے کہ یہ ممالک میڈیا کی نظر میں ہیں۔ اس سلسلے مین انہوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم اکثریتی آبادی کا ملک نہیں لیکن ایسے واقعات وہاں بھی سامنے آئے جب وہان عیسائیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تاہم پاکستان سمیت، عراق اور شام کو دیکھیں تو وہاں تواتر کے ساتھ ایسے واقعات رو نما ہو رہے ہیں۔ اپنے دورہ امریکہ میں جارجیا ٹائون یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی جانب سے اقلیتوں کی ایذا رسانی کی صورتحال پر توجہ دے، انھوں نے کہا کہ بعض لوگ مذہب کو لوگوں میں تفریق، افتراق، امتیاز اور ایذا رسانی کیلئے استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمیں اس بڑے چیلنج کاسامنا ہے۔ بیرونس وارثی نے کہا مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے بعض ممالک میں مسیحی اقلیتوں کو خطرات کا سامنا ہے مسیحی اقلیتیں شام اور عراق سے جہاں سب سے پہلے مسیحی مذہب پروان چڑھا ، ملک بدری کے خوف سے دوچار ہیں، شام میں جاری خانہ جنگی اور عراق میں عدم استحکام کی وجہ سے بہت سے مسیحی ان ممالک سے ترک وطن کرچکے ہیں، انھوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائیں اور مذہبی رواداری کی اپیل کریں۔ برطانوی وزیر دورہ امریکہ کے سلسلے واشنگٹن پہنچیں تو سب سے پہلے وہاں کے معروف ریڈیو "این پی آر" گیئں اور دنیا بھر کی اقلیتوں کو درپیش خطرات اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا آج کی دنیا میں میرے جائزے کے مطابق میرے اتحادی اور دشمن کا تعین جغرافیائی، سیاست یا رنگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ مذہب کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، انتہا پسند تاریخ کو اپنے افتراق کیلئے مسخ کر رہے ہیں، لیکن میرے خیال میں دنیا میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور صہیونیوں، مسلمانوں، ہندوئوں سکھوں اور کیتھولک اور پروٹسٹنٹس یا سنی اور شیعہ کے درمیان کوئی ایسا فرق نہیں کوئی ایسی خلیج نہیں جسے ختم نہ کیا جاسکے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسرے فرقے یا مذہب کے ساتھ ہم آہنگی سے آپ چھوٹے مسلمان نہیں بن جائیں گے، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی، سیاسی اور مذہبی شناخت قائم رکھنے کی خواہش سے دوسروں کو ختم کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ پاکستانیوں کیلئے اپنے پیغام میں انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا جنھوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں آپ اپنی مساجد، مندروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہوں گے، آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ انتہا پسندوں نے پاکستان کے اس ویژن کو دھند لا دیا ہے اور پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح مل جل کر رہنا چاہتے ہیں جس طرح وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں، انھوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ بقائے باہم کو اجاگر کرے۔