مقبول خبریں
جامع مسجد اولڈہم میں جشن عیدمیلادالنبیؐ کے حوالہ سے محفل کا انعقاد ،حامد سعید کاظمی و دیگر کی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شر پسنددنیا میں مذاہب کوتفریق، افتراق، امتیاز اور ایذا رسانی کیلئے استعمال کر رہے ہیں:بیرونس وارثی
نیویارک ...کمیونیٹیز کی سینیئر برطانوی وزیر بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ اقلیتیں دنیا بھر میں غیر محفوظ ہیں تاہم مسلم ممالک میں یہ شرح اس لئے زیادہ ہے کہ یہ ممالک میڈیا کی نظر میں ہیں۔ اس سلسلے مین انہوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم اکثریتی آبادی کا ملک نہیں لیکن ایسے واقعات وہاں بھی سامنے آئے جب وہان عیسائیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تاہم پاکستان سمیت، عراق اور شام کو دیکھیں تو وہاں تواتر کے ساتھ ایسے واقعات رو نما ہو رہے ہیں۔ اپنے دورہ امریکہ میں جارجیا ٹائون یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی جانب سے اقلیتوں کی ایذا رسانی کی صورتحال پر توجہ دے، انھوں نے کہا کہ بعض لوگ مذہب کو لوگوں میں تفریق، افتراق، امتیاز اور ایذا رسانی کیلئے استعمال کر رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمیں اس بڑے چیلنج کاسامنا ہے۔ بیرونس وارثی نے کہا مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے بعض ممالک میں مسیحی اقلیتوں کو خطرات کا سامنا ہے مسیحی اقلیتیں شام اور عراق سے جہاں سب سے پہلے مسیحی مذہب پروان چڑھا ، ملک بدری کے خوف سے دوچار ہیں، شام میں جاری خانہ جنگی اور عراق میں عدم استحکام کی وجہ سے بہت سے مسیحی ان ممالک سے ترک وطن کرچکے ہیں، انھوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائیں اور مذہبی رواداری کی اپیل کریں۔ برطانوی وزیر دورہ امریکہ کے سلسلے واشنگٹن پہنچیں تو سب سے پہلے وہاں کے معروف ریڈیو "این پی آر" گیئں اور دنیا بھر کی اقلیتوں کو درپیش خطرات اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا آج کی دنیا میں میرے جائزے کے مطابق میرے اتحادی اور دشمن کا تعین جغرافیائی، سیاست یا رنگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ مذہب کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، انتہا پسند تاریخ کو اپنے افتراق کیلئے مسخ کر رہے ہیں، لیکن میرے خیال میں دنیا میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور صہیونیوں، مسلمانوں، ہندوئوں سکھوں اور کیتھولک اور پروٹسٹنٹس یا سنی اور شیعہ کے درمیان کوئی ایسا فرق نہیں کوئی ایسی خلیج نہیں جسے ختم نہ کیا جاسکے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسرے فرقے یا مذہب کے ساتھ ہم آہنگی سے آپ چھوٹے مسلمان نہیں بن جائیں گے، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی، سیاسی اور مذہبی شناخت قائم رکھنے کی خواہش سے دوسروں کو ختم کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ پاکستانیوں کیلئے اپنے پیغام میں انہوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا جنھوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں آپ اپنی مساجد، مندروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہوں گے، آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ انتہا پسندوں نے پاکستان کے اس ویژن کو دھند لا دیا ہے اور پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت ایک دوسرے کے ساتھ اسی طرح مل جل کر رہنا چاہتے ہیں جس طرح وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں، انھوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ بقائے باہم کو اجاگر کرے۔