مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
خاک اغیار میں دفن قومی ہیرو
سید جمال الدین افغانی گزشہ صدی کی دنیائے اسلام کی بڑی عظیم شخصیت تھیں۔ کابل کے نواحی قصبہ اسد آباد میں غالباً 1838ء میں پیدا ہوئے۔ تکمیل تعلیم کے بعد ہندوستان میں قیام بھی کیا اور حجاز کا سفر بھی کیا۔ وطن واپس آکر والی افغانستان امیر دوست محمد کی ملازمت اختیار کرلی۔ امیر دوست محمد کی وفات کے بعد جانشینی کا جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ نتیجتاً انہیں وطن کو خیرآباد کہنا پڑا اور قسطنطینیہ چلے گئے وہاں مفتی اعظم کی مخالفت اور شیخ الاسلام کی ریشہ دوانیوں کے باعث انہیں یہاں سے جلا وطن ہونا پڑا سید جمال الدین افغانی اسلامی ممالک کی اندرونی اصلاح اور پان اسلام ازم کے زبردست حامی تھے۔ وہ یورپی حکومتوں کی مسلسل سازش اور ان کے مشرقی ملکوں پر قبضہ رکھنے کے شدید مخالف تھے۔ اسی مقصد سے انہوں نے جلا وطنی کے ایام میں پیرس سے اپنا رسالہ نکالا۔ جس کے ایڈیٹر مصر کے معروف مفکر اور سیاسی رہنما اور ان کے رفیق کار شیخ محمد عبدہ نصری تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ وہاں سے دوبارہ قسطنطنیہ آگئے۔ مگر یہاں آتے ہی انہیں گرفتار کرکے قصبہ بلدیز کے قریب نشانتاش میں نظربند کردیا گیا۔ پانچ برس کی قید کے بعد یہیں 9 مارچ 1897ء میں انتقال کرگئے اور نشانتاش ہی میں امانتاً دفن ہوئے۔ دسمبر 1944ء میں اس کی غیرت مند قوم کے لوگ نعش کو کابل لے آئے اور 6 جنوری 1945ء کو کابل یونیورسٹی کے احاطہ میں اپنے عظیم سپوت کو بڑے اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔ حسن اتفاق سے جس سال سید جمال الدین کا انتقال ہوا اسی سال 16 نومبر 1897ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور کی تحصیل گڑھ شنکر میں ایک متوسط زمیندار کے ہاں چوہدری رحمت علی نے جنم لیا۔ یہ وہی چوہدری رحمت علی تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو سب سے پہلے عظیم تر آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کی راہ دکھائی تھی۔ چوہدری رحمت علی بھی اسلام کی نشاة ثانیہ کے زبردست حامی تھے۔ وہ ریاست مدینہ کی طرز پر اسلام کی مکمل عکاسی کرنے والی خیرخواہ ریاست کے خواہشمند تھے۔ جس کے اندر انسانوں کی فلاح و بہبود کا ایسا نظام ہو کہ ریاست ماں کا درجہ ہی نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے لیے ماں کا جذبہ بھی رکھتی ہو جہاں بلا تفریق انسان کی آبرو مقدم ہو۔ عدم موجودگی میں بھی اس کی عزت عزیز ہو۔ وطن عزیز کے حوالے سے جب بھی کوئی قومی دن آتا ہے اس کو ہم بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس دن تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ملک کے اندر اور ملک سے باہر چھوٹی بڑی تقریبات ہوتی ہیں۔ جہاں ان رہنماؤں کی خدمات کو اجاگر کیا جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، تاکہ نئی نسل کو آج کل کے مفاد پرست حکمرانوں اور ابن الوقت سیاستدانوں سے تنگ آکر سیاست جیسے مقدس پیشہ اور خدمت خلق ایسے افضل شغل کو برا سمجھنے لگے ہیں۔ نوجوانوں کو ان بے داغ سیرت و کردار کے مالک ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینے والے باضمیر رہنماؤں کی خدمات سے روشناس کروایا جائے آج کل کی پود ان لوگوں کو رول ماڈل بناکر میدان سیاست میں اترکر ملک و قوم کو گھٹیا سوچ کے حامل سیاستدانوں سے نجات دلاکر پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنایا جائے۔ تاریخ گواہ ہے جن لوگوں نے اپنے اچھے اور سچے محسنوں کو بھلایا ہے۔ ان کا اپنا وجود بھی مٹ گیا ہے اور وہ بے وقعت ہوکر رہ گئے ہیں۔ مگر پاکستان کے نقاش اور اس کے لفظ کے خالق کو بھول جاتے ہیں۔ جس وقت ہمارے بڑے بڑے رہنما انڈین فیڈریشن کے تذبذب کا شکار تھے چوہدری صاحب اس وقت بھی اپنے موقف پر بڑے ایوان کے ساتھ ڈٹے ہوئے تھے۔ چوہدری صاحب کو غیر منصفانہ تقسیم اور کھوٹے سکوں پر مشتمل کابینہ کی تشکیل پر آواز اٹھانے پر فراموش کردیا۔ چوہدری رحمت علی کو نظر انداز کیے جانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق ایک درمیانہ طبقہ سے تھا۔ غیر ملکیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں بھی انہیں غرباء اور متوسط لوگوں نے دی تھیں اور تعمیر پاکستان میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا۔ مگر افسوس پاکستان بن جانے کے بعد اقتدار ان لوگوں کے پاس آگیا جن کے ہاتھ کارکنان آزادی کے خون سے رنگے ہوئے تھے اور ان کا کارواں جہد مسلسل سے دور کا بھی واسطہ نہیں رہا تھا۔ ہنوز یہی جاگیردار اور سرمایہ پرست کلاس حکمران چلی آرہی ہے اور عوام انہیں کی چیرہ دستیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد چوہدری رحمت علی کی خواہش تھی کہ باکردار اور پڑھے لکھے لوگوں کو ساتھ ملاکر اس بچے کچھے پاکستان کو مہذب ملک بنانے کے لیے (اب یا کبھی نہیں) کی بنیاد پر ازسرنو محنت کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی متنبہ کیا تھا کہ اگر ان غدار لوگوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا گیا تو اس کے بھیانک اثرات نکلے گئے۔ قوم سود، شرک، بے حیائی اور فرقہ بندی ایسے گناہوں میں پھنسا دی جائے گی کہ جن کے نتائج رونگٹے کھڑے کردیتے ہیں۔بنا برین چوہدری رحمت علی نے کہا تھا موجودہ مسخ شدہ ماحول میں عام آدمی کی تو کیا بات ہے کہ وہ تو اسلام کے نظام کو سنجیدہ موضوع ہی نہیں سمجھتا۔ بڑے علما و فضلاء کے نزدیک بھی اسلامی نظام ازکار رفتہ اور گزرے وقتوں کی ناقابل عمل کہانی متصور ہوتی ہے۔ چوہدری رحمت علی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سرفرازی انہیں نصیب کرتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق یعنی پورے کا پورا اسلام میں داخل ہوجاؤ، کے تحت متوازن اور منضبط اللہ تعالیٰ کے خالص عطا کردہ قوانین پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور جو اللہ سے روگردانی کرتے ہی اور اس کے قانون کو لاگو کرنے کی سعی نہیں کرتے وہ پگڈنڈیوں میں سرگرداں اندھیروں میں ٹامک ٹویاں مارتے پوری عمر گزار دیتے ہیں۔ آج ہماری ذلت و سکنت کا بڑا سبب بھی یہی ہے کہ ہم نے دین حنیف کو سنجیدہ لیا ہی نہیں۔ مسلمانوں کو انقلاب آخریں پیغام دینے والا چوہدری رحمت علی پاکستان آنا چاہتا تھا۔ مگر ایک خاص کنفیوژ لابی نے چوہدری صاحب کو اپنے وطن میں نہیں آنے دیا۔ 3 فروری 1951ء کو شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کی غیرت ایمانی کا امین چوہدری رحمت علی آسودہ خاک ابدی ہوگیا۔ (تحریر : عبدالرحمن باگڑی … ڈربی)