مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنرل نکولسن کا بیان من گھڑت، مذاکرات نہیں ہو رہے: افغان طالبان
کابل: طالبان ترجمان نے امریکی جنرل نکولسن کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے ساتھ کوئی پسِ پردہ مذاکرات نہیں ہو رہے، ان کا بیان بے بنیاد ہے۔طالبان نے کابل کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔ طالبان کے جاری کردہ ایک بیان میں امریکی جنرل نکولسن کے بیان کو قطعی مسترد کر دیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد افغان میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل جان نکولسن نے جو دعویٰ کیا تھا، وہ قطعی طور پر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ طالبان اس کی سرے سے تردید کرتے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل نکولسن ایسے من گھڑت دعوے اس لیے کر رہے ہیں تا کہ وہ افغانستان میں اپنی عسکری ناکامی کو چھپا سکیں۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق پالیسی کی ناکامی کو منظرِ عام پر لانے کے بجائے واشنگٹن میں میڈیا کے ذریعے جھوٹے دعوے کرنے اور غلط تاثر دینے میں مصروف ہیں۔یاد رہے کہ جنرل جان نکولسن نے دعویٰ کیا تھا کہ کابل ور افغان طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں اس جنگ زدہ ملک میں ممکنہ فائر بندی کے موضوع پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہو گا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مابین اس بات چیت کی تفصیلات کب تک خفیہ رہتی ہیں۔