مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنرل نکولسن کا بیان من گھڑت، مذاکرات نہیں ہو رہے: افغان طالبان
کابل: طالبان ترجمان نے امریکی جنرل نکولسن کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے ساتھ کوئی پسِ پردہ مذاکرات نہیں ہو رہے، ان کا بیان بے بنیاد ہے۔طالبان نے کابل کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔ طالبان کے جاری کردہ ایک بیان میں امریکی جنرل نکولسن کے بیان کو قطعی مسترد کر دیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد افغان میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل جان نکولسن نے جو دعویٰ کیا تھا، وہ قطعی طور پر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ طالبان اس کی سرے سے تردید کرتے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل نکولسن ایسے من گھڑت دعوے اس لیے کر رہے ہیں تا کہ وہ افغانستان میں اپنی عسکری ناکامی کو چھپا سکیں۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق پالیسی کی ناکامی کو منظرِ عام پر لانے کے بجائے واشنگٹن میں میڈیا کے ذریعے جھوٹے دعوے کرنے اور غلط تاثر دینے میں مصروف ہیں۔یاد رہے کہ جنرل جان نکولسن نے دعویٰ کیا تھا کہ کابل ور افغان طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں اس جنگ زدہ ملک میں ممکنہ فائر بندی کے موضوع پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہو گا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مابین اس بات چیت کی تفصیلات کب تک خفیہ رہتی ہیں۔