مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنرل نکولسن کا بیان من گھڑت، مذاکرات نہیں ہو رہے: افغان طالبان
کابل: طالبان ترجمان نے امریکی جنرل نکولسن کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل کے ساتھ کوئی پسِ پردہ مذاکرات نہیں ہو رہے، ان کا بیان بے بنیاد ہے۔طالبان نے کابل کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔ طالبان کے جاری کردہ ایک بیان میں امریکی جنرل نکولسن کے بیان کو قطعی مسترد کر دیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد افغان میڈیا کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنرل جان نکولسن نے جو دعویٰ کیا تھا، وہ قطعی طور پر جھوٹا اور کھوکھلا ہے۔ طالبان اس کی سرے سے تردید کرتے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل نکولسن ایسے من گھڑت دعوے اس لیے کر رہے ہیں تا کہ وہ افغانستان میں اپنی عسکری ناکامی کو چھپا سکیں۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق پالیسی کی ناکامی کو منظرِ عام پر لانے کے بجائے واشنگٹن میں میڈیا کے ذریعے جھوٹے دعوے کرنے اور غلط تاثر دینے میں مصروف ہیں۔یاد رہے کہ جنرل جان نکولسن نے دعویٰ کیا تھا کہ کابل ور افغان طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں اس جنگ زدہ ملک میں ممکنہ فائر بندی کے موضوع پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار زیادہ تر اس بات پر ہو گا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مابین اس بات چیت کی تفصیلات کب تک خفیہ رہتی ہیں۔