مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بارہ سال عمر کے بچوں کی آدھی سے زائد تعداد لائیو اسٹریم مواد شائع کرتی ہے:سروے رپورٹ
لندن (خصوصی رپورٹ: اکرم عابد) بارہ سال کی عمر کے بچوں کی آدھی سے زائد تعداد لائیو اسٹریم مواد شائع کرتی ہے،بارہ سال کی عمر کے آدھے سے زائد بچے ایسی ویب سائٹ اور ایپلیکیشن پر لائیو اسٹریم کرتے ہیں جو کہ بڑی عمر کے افراد کیلئے مختص ہیں، برنارڈو کے اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کی حفاظت کیلئے جلد اقدام اٹھانا ہوں گے،برنارڈو کی خاطر یو گوو کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ستاون فیصد بارہ سال کے بچوں اور ایک چوتھائی (اٹھائیس فیصد) دس سال کے بچوں نے انٹرنیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کااعتراف کیا ہے،اندرون برطانیہ بچوں کی خیراتی تنظیمیوں کیلئے سروے کرتے ہوئے اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ دس سے سولہ سال کے تقریبا چوتھائی فیصد (چوبیس فیصد) بچوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یا ان کے دوست نے ویب سائٹ اور ایپلیکیشن پر لائیو مواد ڈالا تھا جس پر وہ پچھتا رہے ہیں۔برنارڈو کیلئے یو گوو کی جانب سے دس سے سولہ سال کے ایک ہزار بچوں کے ساتھ آن لائن سروے کیا گیا جس کے نتائج سامنے آئے کہ تیرہ سال سے کم عمر کے ہزاروں بچے ویب سائٹس پر اپنی لائیو ویڈیوز شیئر کرکے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔ جن میں اسنیپ چیٹ، یوٹیوب،انسٹاگرام اسٹوریز، فیسبک لائیو، میوزک لی اور لائیو لی شامل ہیں جہاں حفاظتی اقدام اور پابندی کی سہولیات ناکافی ہیں،ثقافتی سیکریٹری میٹ ہین کوک کے اس حالیہ بیان کے باوجود کہ حکومت آن لائن سیفٹی کیلئے ایک وائٹ پیپر شائع کر ے گی، برنارڈو کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کیلئے ابھی فوری اقدام کی ضرورت ہے ۔اس بات کی امید کی جار ہی ہے کہ حکومت کی جانب سے وائٹ پیپر نکلنے کے بعد بڑی بڑی ٹیکنالوجیکل اداروں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ بچوں کی حفاظت کیلئے خصوصی اقدام اٹھائیں جس میں صار ف کی عمر کی تصدیق کرنا شامل ہے۔برنارڈو کے چیف ایگزیکٹو جاوید خان نے کہا کہ لائیو اسٹریمنگ کا استعمال شکاریوں کی جانب سے کیا جا رہاہے جو اپنی طلب کے مطابق بچوں کو تیار کر رہے ہیں۔ ہمیں برطانیہ بھر میں ماہر انہ خدمات کے بعد یہ پتا چلا ہے کہ بچے آن لائن پلیٹ فارم پر "لائیو گرومنگquot; کا شکار ہو رہے ہیں،ٹیکنالوجیکل کمپنیاں بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے بہتر طرز پر کام نہیں کر رہیں ۔ ہماری ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی کہ بچے ایسی لائیو اسٹریمنگ کی ایپلیکیشن استعمال کر رہے ہیں جو ان کی عمر کیلئے مناسب نہیں ہیں، اس لیے یہ تمام ٹیکنالوجیکل ادارے اس بات یقینی بنائیں کہ عمر کی تصدیق کرنے کے اصول کو مضبوط بنایا جائے گا،تھریسا مے نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ وہ آن لائن میں برطانیہ کو سب سے محفوظ ملک بنائیںگے۔ ہم میٹ ہین کوک کے اس عزم کو خوش آئند سمجھتے ہیں لیکن یہ نئے قوانین کم از کم دو سال تک نہیں لاگو ہوں گے جو کہ ان بچوں کیلئے اتنا اچھا عمل نہیں ہے جنہیں فوری تحفظ کی ضرورت ہے،ہمیں آنے والی نسل کے بچوں کے تحفظ کیلئے فور ی اقدا م اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی قسم کی تاخیر سے ایک اور نسل آن لائن کے خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔آن لائن جنسی شکاریوں اور نقصان دہ مواد کے سامنے آنے کے ساتھ ساتھ کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ خود تشکیل دیا گیا ایسا مواد بھی شائع کر چکے ہیں جس کے بارے میں ان کی خواہش ہے کہ وہ نہ کرتے۔ پولنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ تیرہ سال کے تیس فیصد بچے اور سولہ سال کے اڑتیس فیصد نوجوانوں نے خود یا ان کے کسی دوست نے آن لائن مواد شائع کرنے پر پچھتاوے اور ندامت کا اظہار کیا تھا۔ساتھ ہی دس سے سولہ سال کے انتالیس فیصد صارف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ فکر مند ہیں یا ہوںگے کہ لائیو مواد شائع کرنے کے بعد کوئی اجنبی ان سے رابطہ کر سکتا ہے ۔صرف چودہ فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں لائیو اسٹریمنگ سے متعلق کوئی بات فکر مند نہیں کر تی جبکہ ا ن میں سے آدھے جواب دہندہ نے کہا کہ وہ لائیو مواد شائع نہیں کرتے برطانیہ میں پھیلی بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف خدمات فراہم کرنے والی برنارڈو نے سالہاسال مدد حاصل کرنے والو ں کی تعداد میں اڑتیس فیصد اضافہ دیکھا ہے،ادارہ تحفظ اطفال کے چیف کونس لیڈ سائیمن بیلی نے کہا کہ پولیس فورسز بچوں کو آن لائن تیار ہونے سے روکنے کیلئے پہلے سے زیادہ اقدام اٹھا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے مسائل کا کوئی حل نہ نکل سکا۔ جب تک کوئی استحصال کا کیس ہمارے سامنے آتا ہے، نقصان پہلے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔والدین کو اپنے بچوں سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے کہ کس طریقے سے وہ آن لائن محفوظ رہ سکتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر کوئی اجنبی ان سے بات کرے تو وہ یہ بات والدین کو بتانے کا اعتماد رکھیں،انٹرنیٹ کمپنیوں کو اس بات کی یقین دہانی کروانی ہوگی کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر ہونے والی زیادتیوںکو روکنے کیلئے ضرور اقدامات اٹھائیں گے۔