مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسلم نوجوان کو بچانے والے سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں
اتراکھنڈ: حال ہی میں مسلم نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچا کر ہیرو بننے والے بھارتی سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت عروج پر، ہندو شدت پسندوں نے اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کردی۔ حال ہی میں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں مسلم لڑکے کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد جہاں سکھ پولیس اہلکار کی تحسین کی جارہی ہے تو دوسری طرف ہندو انتہا پسند انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔سکھ پولیس اہلکار جگندیپ سنگھ کی یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔ تاہم ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کہ بعد حکومت نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ اس حوالے سے جگندیپ کا کہنا تھا کہ میں صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ اگر میں وردی میں نہ بھی ہوتا تو بھی میں ایسا ہی کرتا اور ہر انڈین کو یہی کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ انتہا پسندوں کے حملے کا شکار ہونے والے مسلم نوجوان پر الزام تھا کہ وہ ہندو لڑکی سے ملنے مندر آیا تھا۔