مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسلم نوجوان کو بچانے والے سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں
اتراکھنڈ: حال ہی میں مسلم نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچا کر ہیرو بننے والے بھارتی سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت عروج پر، ہندو شدت پسندوں نے اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کردی۔ حال ہی میں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں مسلم لڑکے کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد جہاں سکھ پولیس اہلکار کی تحسین کی جارہی ہے تو دوسری طرف ہندو انتہا پسند انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔سکھ پولیس اہلکار جگندیپ سنگھ کی یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔ تاہم ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کہ بعد حکومت نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ اس حوالے سے جگندیپ کا کہنا تھا کہ میں صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ اگر میں وردی میں نہ بھی ہوتا تو بھی میں ایسا ہی کرتا اور ہر انڈین کو یہی کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ انتہا پسندوں کے حملے کا شکار ہونے والے مسلم نوجوان پر الزام تھا کہ وہ ہندو لڑکی سے ملنے مندر آیا تھا۔