مقبول خبریں
lets talk گروپ کے زیر اہتمام کمیونٹی کو ذہنی امراض کی آگاہی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد
صادق خان رسوائی کا باعث اور برطانیہ کے دارالحکومت لندن کو تباہ کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مسلم نوجوان کو بچانے والے سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں
اتراکھنڈ: حال ہی میں مسلم نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچا کر ہیرو بننے والے بھارتی سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت عروج پر، ہندو شدت پسندوں نے اقلیتوں کے لیے زمین تنگ کردی۔ حال ہی میں شمالی ریاست اتراکھنڈ میں مسلم لڑکے کو مشتعل ہجوم سے بچانے والے سکھ پولیس اہلکار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد جہاں سکھ پولیس اہلکار کی تحسین کی جارہی ہے تو دوسری طرف ہندو انتہا پسند انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔سکھ پولیس اہلکار جگندیپ سنگھ کی یہ ویڈیو گزشتہ ہفتے انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی۔ تاہم ان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کہ بعد حکومت نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا ہے۔ اس حوالے سے جگندیپ کا کہنا تھا کہ میں صرف اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ اگر میں وردی میں نہ بھی ہوتا تو بھی میں ایسا ہی کرتا اور ہر انڈین کو یہی کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ انتہا پسندوں کے حملے کا شکار ہونے والے مسلم نوجوان پر الزام تھا کہ وہ ہندو لڑکی سے ملنے مندر آیا تھا۔