مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
خواہشوں کے صحرا میں خواب چھائوں کرتے ہیں
ہم پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ضرورت سے زیادہ رحم دل ہوتے ہیں، ترس کھانے میں دیر نہیں کرتے۔کسی کو ذرا سا دکھ میں دیکھا تومدد کی غرض سے ممکن حدوں کو بھی پار کرجاتے ہیں۔ساری فلم میں لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والا ولن، جب فلم کے آخری چند منٹوںمیں خود کسی مشکل کا شکار ہوکر، اپنے سیاہ کرتوتوں پر اظہار ندامت کے ساتھ مدد کے لیے آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو سارے تماشائی سینما ہال میں بیٹھے بیٹھے اس کے ساتھ شامل دعا ہوجاتے ہیں۔ یقینا یہ سب نیک دل لوگوں کی علامتیں ہیں لیکن ایسا بھی بارہا ہوتا ہے کہ جسے ہم ظلم اور زیادتی سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ اصل میں ظلم ہوتا ہے نہ زیادتی۔ ایک ذرا سا سروے کر لیں، آپ کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بھی ایسے کئی ہمدرد مل جائیں گے جن کا خیال ہوگا کہ پڑھا لکھا آدمی ہے، غلطی کر بیٹھا، اب جانے دیا جائے لیکن ہماری ڈاکٹر عافیہ کے لیے آپ کو امریکا میں ایسا کوئی ہمدرد دکھائی نہیں دے گا۔ایسا ہی معاملہ آپ کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی دیکھنے کو ملے گا۔ وہاں نوجوان گولیوں سے چھلنی ہوتے رہیں، لڑکیوں کی عزت کا جنازہ نکلتا رہے، دکانیں نذر آتش ہوتی رہیں، پہاڑوں اور وادیوں میں مسخ شدہ لاشوں کا ملنا معمول بن جائے، لیکن دنیا بھر میں نہ تو کوئی صدائے احتجاج بلند ہوگی نہ ہی ان مظلوموں کے ساتھ کسی قسم کا اظہار یکجہتی۔غیر ضروری نیک دلی کے ساتھ ساتھ ہمارا اصل جرم ہے جرم ضعیفی۔ہم نے ماضی میں امن پسندی اور ہمسایہ گیری کے نام پر سرجیت سنگھ،کشمیر سنگھ جیسے بھارتی جاسوسوں کو پھولوں بھرے ہار پہنا کر واپس بھیجنے کی روایت قائم نہ کی ہوتی تو آج امریکا ہم سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا بھیجنے پر اصرار نہ کرتا۔شکیل آفریدی کے کیس میں تو یہاں تک سننے میں آ رہا ہے کہ امریکی حکام بالا بارہا دبے چھپے لفظوں میں مبینہ طور پر شکیل آفریدی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی پیشکش کر چکے ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ ایک طرف تو شکیل آفریدی کے حوالے سے میٹھی میٹھی باتیں کی جاتی ہیں مگر دوسری طرف کمانڈو ایکشن کے ذریعے اسے جیل توڑ کر بھگا لے جانے کے منصوبے بھی بنائے جاتے رہتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور کی جیل سے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تو یہ بات منظر عام پر آئی کہ پاکستان کی سپریم انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ ڈاکٹر شکیل کو چھڑوانے کے لیے جیل توڑ پروگرام کے تحت منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے اور بہت جلد اس پر عمل بھی ہوجائے گا۔ اسی سازش کا توڑ کرنے کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کسی اور محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔شکیل آفریدی کی منتقلی کو پاکستان کا انتہائی اندرونی معاملہ ہونے کے باوجود بین الاقوامی میڈیا نے ا س انداز میں بڑھا چڑھا کر بیان کیا کہ جیسے یہ انسانی حقوق کی کوئی بہت بڑی پامالی ہو۔سوال یہ ہے کہ کیا امریکا میں بھی امریکاکے خلاف جاسوسی کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی، نرمی اور محبت کا سلوک ہوتا ہے۔1983سے2002کے دوران، تقریباًًٍٍ انیس بیس سال کے عرصے میں تیرہ سے زائد امریکی جاسوسوں کو دوسرے ملکوں کو قومی راز فراہم کرنے پر سخت ترین سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں سے اکثر سوویت یونین اور جرمنی کے لیے کام کرتے رہے۔ان میں جیمز ہال نام کا ایک سگنل اینلسٹ بھی ہے جس نے 1983سے1988کے درمیان مشرقی جرمنی اور سویت یونین کو سگنل سسٹم کے کوڈ فروخت کیے۔ اس امریکی کو چالیس برس قید کی سزا سنائی گئی۔ان ہی جاسوسوں میں رابرٹ ہینسن نام کا ایک امریکی بھی شامل ہے جس نے 1979سے2001تک امریکی مفادات کے خلاف روسی انٹیلی جنس سروسز کو اہم قومی راز فراہم کیے۔ اس شخص کو عمر قید کی سزا سنائی گئی اور وہ بھی ایسی کہ کسی بھی قسم کے پیرول پر رہائی کی پابندی تھی۔ دھرتی کے دشمنوں کے ساتھ یقینا اس سے بھی برا سلوک ہونا چاہیے۔ دھرتی ماں کا دوسرا نام ہے، ماں کو اجاڑنے یا برباد کرنے والے کو کسی صورت میں معاف نہیں کیا جاتا۔ امریکی زندہ قوم ہیں، طاقتور بھی ہیں اور مزید ترقی کے خواہاں بھی، انہیں جینا بھی آتا ہے۔دنیا بھر میں انسانی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر ہر سال اربوں کھربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن جہاں اپنے ملک اور اپنی قوم کی بقاء اور سلامتی کا معاملہ ہو، وہاں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے۔ان کی نظر میں امریکا کے دشمن کی ایک ہی سزا ہے اور وہ ہے موت یا پھر موت سے بد تر زندگی۔تاہم کیا ہی اچھا ہو اگر امریکا دیگر ملکوں کے لیے بھی اسی اصول کو معیار بنا لے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے پاکستانی ہوتے ہوئے، کسی دوسرے ملک کے مفادات کے لیے کام کیا اور وہ مفادات بھی ایسے جن کا پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے معاملات سے براہ راست تعلق تھا۔پھر یہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان نے قبائیلی علاقوں کے عمائدین ،دینی راہنمائوں اور علمائے کرام کی مدد اور معاونت سے مقامی لوگوں کو بڑی مشکل سے قائل کیا تھا کہ وہ پولیو جیسے موذی مرض سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے حفاظتی قطروں پر اعتماد کریں۔ مقامی لوگوں کے اس حوالے سے بہت سے تحفظات تھے، حکومت پاکستان کو ان تحفاظات کو دور کرنے میں بڑی محنت کرنا پڑی لیکن ایک مسیحا خود اس آبادی کا حصہ ہوتے ہوئے ایک ایسے گھنائونے کھیل کا حصہ بن گیا کہ جس کے نتیجے میں اگلی نسل کو بہت سے خوفناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اعتماد ، بھرم اور بھروسے کی عمارت تعمیر کرنے میں عمریں بیت جاتی ہیں لیکن اس عمارت کو گرانے میں ایک لمحہ نہیں لگتا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی نے اعتماد، بھرم اور بھروسے کی نہایت محنت سے بنائی عمارت کو ایک لمحے میں گرا دیا۔ اور ہمارے امریکی بھائی کہتے ہیں، شکیل آفریدی کو امریکا بھیج دو۔ہم کریں تو کیا کریں جائیں تو کہاں جائیں۔امریکا ایک بہت اچھا ملک ہے، اس ملک کو دیکھنے کی خواہش ہمارے ملک میں بہت عام ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ امریکا جانے کا سب سے آسان راستہ وہی ہے جو شکیل آفریدی نے اختیار کیا تو معاملات بہت مشکل ہوجائیں گے۔اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنے ملک کو بھی امریکا کی طرح مضبوط اور خوشحال کرنا پڑے گا تاکہ یہاں آنے کی خواہش میں بھی دوسرے ملکوں کے لوگ ہر جائز ناجائز راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ہمیں پاکستان کو بھی ایک خواہش کا روپ دینا ہوگا۔