مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سری لنکا میں جنگ اوردہشتگردی ختم ہو چکی، اب فراخدلی اورعالی ظرفی کی ضرورت ہے: ڈیوڈ کیمرون
کولمبو ... اپنے ملک میں آباد جنوبی ایشیا کے ایک انتہائی اہم ملک سری لنکا کے دورے پر گئے برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دولت مشترکہ سربراہ اجلاس میں شرکت کے علاوہ مجموعی ملکی صورتحال اور انسانی حقوق کی پابندیوں کا جائزہ لینے کیلئے متعدد مقامات کا دورہ کیا۔ انہوں نے جافنا کی اس لائبریری کا دورہ کیا جو جنگ کے دوران کئی بار تباہ اور بحال ہوئی۔ وزیر اعظم کے ہمراہ گیا وفد جب جافنا لائبریری سے باہر آ رہا تھا کہ چیختی ہوئی عورتوں کا ایک گروہ پولیس کے گھیرے کو توڑتا ہوا وزیر اعظم تک پہنچ گیا۔ عورتیں اپنے گمشدہ پیاروں کے کوائف اور تصاویر برطانوی وزیر اعظم کےحوالے کرنا چاہتی تھیں۔ ان عورتوں کے علاوہ حکومت کے حامی سنہالی باشندوں نے بھی ایک مظاہرہ کیا۔ مظاہرین 1948 سے پہلے برطانوی دور میں ہونے والی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا حقیقت یہ ہے کہ سری لنکا کے لیے کامیابی کا ایک موقع ہے۔ جنگ ختم ہو چکی ہے، دہشتگردی ختم ہو چکی ہے۔ اب فراخدلی اور عالی ظرفی کی ضرورت ہے۔ واضع رہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے دولت مشترکہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ وہ اس دورے کے ذریعے سری لنکا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم نے شمالی سری لنکا کا دورہ کیا اور تامل مظاہرین سے ملاقات کی۔ ڈیوڈ کیمرون پہلے غیر ملکی رہنما ہیں جنھوں نے سنہ 2009 میں تامل باغیوں کی شکست کے بعد شمالی سری لنکا کا دورہ کیا ہے۔ان علاقوں کے دورے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انھیں تامل اقلیت کےمسائل کو اجاگر کرنے کا موقع ملا ہے۔ جبکہ تامل اقلیت اس تاثر سے مطمئن نظر نہیں آتی اس کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی حکومت کے خلاف تامل اقلیت کی جانب سے بغاوت کی وجہ ان کے سکیورٹی فورسز پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں جن میں عام شہریوں کی ہلاکت، خواتین کا ریپ اور جنسی تشدد شامل ہے جو خاص کر 2009 کے آخری مہینوں میں تامل باغیوں کے جنگ کے دوران ہوئیں۔ ان جرائم میں مخالفین کو زبردستی لاپتہ کرنا اور صحافیوں کا قتل شامل ہے۔