مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اسلامک سرکل آئر لینڈ کے زیر اہتمام مسجد دارارقم میں استقبالیہ، مولانا عبد الحکیم کا خطاب
مانچسٹر :اسلامک سرکل آئر لینڈ کے زیر اہتمام استقبالیہ رمضان المبارک کی تقریب مسجد دارارقم ڈبلن میں منعقد کی گئی۔تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا،اس تقریب میں اسلامک سرکل آئر لینڈ کی مرکزی و صوبائی قیادت کے علاوہ دیگر اسلامی تحاریک یورپین و لوکل کمیونٹی کی کثیر تعداد میں شرکت کی۔جن میں علماء کرام،ڈاکٹرز،نوجوان مرد و خواتین شامل تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب مولانا عبد الحکیم نے ماہ رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت و برکات پر قرآن و احادیث کی روشنی میں دل افروز بیان کرتے ھوئے کہا کہ رمضان المبارک توبہ و استغفار ، رحمت، بخشش و مغفرت، دعاؤں کی قبولیت ،اللہ کا خاص قرب حاصل کرنے اور نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رمضان المبارک امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخشنے کا بہانہ اور ذریعہ ہے لہٰذا ہمیں اس ماہ مبارک میں عبادت و ریاضت اورتوبہ و استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہوئے اپنی بخشش اور مغفرت کا سامان کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے سابقہ امتوں کی طرح امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی روزے فرض کیے تاکہ یہ امت تقویٰ اور پرہیز گاری حاصل کرے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب کم از کم ستر گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مہینے میں امت محمدیہؐ کیلئے جہنم کے دروازے بند جبکہ جنت کے دروازے کھول کر دیئے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو بھی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ روزہ وہ مبارک عمل ہے جس کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ خالص میرے لیے ہے اور میں ہی اپنے بندے کو اس کا اجر دونگا۔اس لیے روزہ ہی و ہ مبارک عمل ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کی وجہ سے ذہنی وقلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے، خواہشاتِ نفس دب جاتی ہیں، دل کا زنگ دور ہو جاتا ہے جبکہ انسان گناہوں، فواحشات اور بے ہودہ باتوں سے بچ جاتا ہے اور روزہ کے ذریعے مساکین و غرباء سے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ ام المو منین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک آتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدل جاتا تھا، نماز میں اضافہ ہو جاتا تھا ، دعا میں بہت عاجزی فرماتے تھے اور خوف غالب آجاتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ رب العزت رمضان المبارک میں عرش اٹھانے والے فرشتوں کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی اپنی عبادت چھوڑ دو اور روزہ داروں کی دعا پر آمین کہا کرو لہٰذا رمضان المبارک میں اللہ کو یاد کرنے والا نامراد نہیں ہوتابلکہ اس کی بخشش یقینی ہے ۔ایک روایت میں ہے کہ رمضان المبارک کی ہر رات میں ایک منادی (فرشتہ) پکارتا ہے کہ اے خیر کی تلاش کرنے والے متوجہ ہو اور آگے بڑھ اور اے برائی کے طلب گار بس کر (بازرہ) اور آنکھیں کھول ۔ منادی کہتا ہے کہ کوئی مغفرت کا چاہنے والا ہے کہ اس کی مغفرت کی جائے، کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کی جائے، کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور کوئی مانگنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کیا جائے۔رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل فرمائی جو قیامت تک آنے والے لوگوں کیلئے رشد و ہدایت کا ذریعہ ھے۔اخر میں امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔اور منتظمین مسجد دارارقم و اسلامک سرکل آئر لینڈ کے قائدین و ممبران نے شرکاء استقبالیہ رمضان المبارک کو کھانا بھی کھلایا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر