مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا، القاعدہ کے ایک گروپ کا اپنے ہی ساتھی کا سرقلم کرنے کا اقرار !
شام ... عراق اور شام میں امریکی استعمار کے مخالف کام کرنے والی قوت اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ الشام (آئی ایس آئی ایس) کے نمائندوں نے عوامی میڈیا کی معروف ترین ویب سائٹ یو ٹیوب پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اقرار کیا گیا ہے کہ انہوں نے غلطی سے اپنے ہی ایک ساتھی کا سر قلم کر دیا ہے جس پر انہیں افسوس ہے، یہ ویڈیو جاری کرتے ہوئے ایک شخص نے قلم کیا ہوا سر ایک ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا جبکہ اسکے دوسرے ہاتھ میں چاقو تھا۔ ان کا کہنا تھا شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا یہ شخص حکومت کی طرف سے لڑتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ لیکن باغیوں کے بعض ارکان نے یہ ویڈیو دیکھ کر اس کی شناخت کر لی اور کہا کہ جس شخص کا سر قلم کیا گیا ہے وہ تو ان کا اپنا ایک کمانڈر تھا۔ اس ویڈیو میں شام کے شہر حلب میں دو باغیوں کو ایک کٹا ہوا سر اور ہاتھ میں خنجر اٹھائے دکھایا گیا جس میں ہلاک ہونے والے کو وہ صدر اسد کی حکومت کا رضاکار قرار دے رہے تھے۔ شامی حکومت اور باغیوں کی طرف سے ہر روز تشدد اور بربریت کی کئی ویڈیوز شائع کی جاتی ہیں جن کا مقصد فریقِ مخالف کے حامیوں میں خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔ حرکت احرار الشام نامی ایک شدت پسند گروہ کا کہنا ہے کہ قتل کیا جانے والا شخص حکومت کا حامی نہیں تھا بلکہ ان کا اپنا ساتھی محمد فارس تھا اور گروپ کا کمانڈر تھا جو حلب میں ایک فوجی چوکی پر حملے کے دوران زخمی ہو گیا تھا اور اس کو طبی امداد کے لیے باغیوں کے ایک کیمپ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ لیکن بعض لوگوں کو یہ خیال گزرا کہ وہ حکومت کے حامی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ پکڑے جانے کے بعد زخمی فارس نے جس انداز میں دعا مانگی اس سے باغی سمجھے کے وہ شیعہ ہے اور اس کا تعلق حکومت سے ہے۔