مقبول خبریں
lets talk گروپ کے زیر اہتمام کمیونٹی کو ذہنی امراض کی آگاہی کے لیے ورکشاپ کا انعقاد
صادق خان رسوائی کا باعث اور برطانیہ کے دارالحکومت لندن کو تباہ کررہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
سابق صدر پی ٹی آئی یارکشائر اینڈ ہمبر ریجن طاہر ایوب خواجہ کا اپنی رہائش گاہ پر محفل کا انعقاد
رنگ خوشبو سے جو ٹکرائیں تو منظر مہکے!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حب الوطنی کے قانون کا سہارہ لیکر امریکی سی آئی اے رقوم کی عالمی ترسیل کا جائزہ لیتی رہی ہے!!
نیویارک ...امریکی سیکورٹی ادارے این ایس اے کی عالمی جاسوسی کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ امریکی میڈیا نے انکشاف کر دیا ہے کہ سی آئی اے بھی این ایس اے والے قانون کا سہارا لیکر رقوم کی عالمی ترسیل بارے معلومات اکٹھی کرتا رہا ہے۔ اس مخصوص قانون کا نام ہے "پیٹریاٹ ایکٹ" یعنی حب الوطنی کا قانون۔ معروف امریکی اخبارات دی نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس پروگرام کی تصدیق کی ہے کہ خفیہ ادارہ سی آئی اے بھی اسی قانون کو استعمال میں لاتے ہوئے رقوم کی بین الاقوامی ترسیل کا ریکارڈ جمع کرتا رہا ہے جس قانون کے تحت نیشنل سکیورٹی ایجنسی "این ایس اے" نے عالمی رہنمائوں کی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ریکارڈ کی تفصیلات اکٹھا کی تھیں۔ پیٹریاٹ ایکٹ 11 ستمبر 2001ء کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمزکے مطابق رقوم کی ترسیل کے لیے ایک کمپنی ویسٹرن یونین کا ذکر کیا گیا۔ کمپنی نے اس پروگرام میں اپنی شمولیت کی تصدیق نہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ وفاقی قوانین پر عمل کرتی ہے جن کے تحت بینکوں کو مشتبہ ترسیلات زر کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ وفاقی قوانین کے تحت رقوم کی ترسیل کی چھان بین سے قبل یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ متعلقہ عمل کا تعلق کسی دہشت گرد تنظیم ہے۔ اس قانون کا سہارا لیکر سی آئی اے نے محض عالمی ترسیلات زر کی ہی نہیں بلکہ کروڑوں افراد کی ذاتی اور معاشی زندگی میں دخل اندازی کی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس نئے انکشاف کے بعد الزامات کا ایک نیا پنڈورا باکس کھل سکتا ہے۔