مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھا رت کی علی گڑھ یونیورسٹی سےقائد اعظم کی تصویر ہٹانا مودی کیلئے چیلنج بن گیا
علی گڑھ:بھارت کی علی گڑھ یونیورسٹی سے قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹانا مودی سرکار کے لیے لوہے کے چنے چبانا ثابت ہوئی، مشتعل طلباء کو ڈنڈے کے زور سے روکا تو سوشل میڈیا پر سٹینڈ وِد اے ایم یو کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ بھارتی انتہا پسندوں کے کہنے پر علی گڑھ یونیورسٹی سے قائد اعظم کی تصویر غائب کر دی گئی۔ بھارتی پولیس نے طلباء کو ڈنڈے کے زور پر روکا تو سوشل میڈیا پر مہم چل پڑی۔کیا مسلمان کیا ہندو، مختلف فرقوں کے لوگ اس غنڈہ گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ سٹینڈ وِد اے ایم یو کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ بھارت کی نامور یونیورسٹیوں پر حملے کرنا بند کرو، علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، طلباء مجرم نہیں، ان پر حملہ بھارت کے مستقبل پر حملہ ہے۔ صارفین سوشل میڈیا پر بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔بی جے پی کے وزیر سوامی پرساد نے قائد اعظم کو تقسیم ہند کے دوران عظیم ہستی قرار دیا ہے جس پر انہیں بھی تنقید کا سامنا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں روایت رہی ہے کہ تمام تاحیات ممبرز کی تصاویر سٹوڈنٹس یونین آفس میں آویزاں کی جاتی ہیں۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر بھی یونیورسٹی کے اسی اصول کے تحت یونین آفس میں آویزاں تھی۔