مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ساجد جاوید کی کامیابی کا راز
برطانیہ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ ۴۹ سالہ پاکستانی نژاد ساجد جاوید جنہیں پارلیمنٹ میں منتخب ہوئے محض آٹھ سال ہوئے ہیں برطانیہ کی تاریخ میں ، نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد ہیں جو وزیر داخلہ کے عہدہ پر فایز ہوئے ہیں۔ اس عہدہ کی راہ ، ان کی پیش رو وزیر داخلہ امبر رڈ کے استعفی سے کھلی ہے جنہیں پارلیمنٹ میں غلط بیانی کا خمیازہ بھگتنا پڑاہے۔ ساجد جاوید برسٹل کے بس ڈرایؤر کے بیٹے ہیں جو سن ساٹھ کے عشرہ میں روزگار کی تلاش میں، پاکستان سے نقل وطن کر کے برطانیہ آئے تھے۔ ساجد جاوید اپنے والدین اور پانچ بھائیوں کے ساتھ برسٹل میں ایک دکان کے اوپر دو کمروں میں رہتے تھے۔ مقامی اسکول میں اور ٹیکنیکل کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایکسیٹر یونیورسٹی سے معاشیات اور سیاسیات کی ڈگری حاصل کی اور امریکا میں مین ہٹن چیز بنک میں ملازمت کی جہاں سے ترقی کر تے ہوئے وہ جرمن ڈوایچ بنک کے عالمی شعبہ کے سربراہ کے عہدہ پر فایز ہوئے۔ ان کی کامیابی کا ایک بڑا راز بینکاری کے امور میں ان کی زبردست مہارت ہے جس کے سہارے وہ ارب پتیوں کی صف میں شامل ہوگئے اور وافر دولت جمع کرنے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا ۔ کامیابی کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ انہوں نے بر وقت چڑھتے ہوئے سورج کا ساتھ دیا ہے ۔ ۲۰۱۰ میں پہلی بار پارلیمنٹ میں منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم کیمرون سے وفا داری اور برطانیہ میں شمولیت کے موقف کی حمایت کے عوض انہیں کابینہ میں جگہ ملی، اور ثقافت ، میڈیا اور کھیلوں کا وزیر مقرر کیا گیا ۔ ریفرینڈم میں شکست کے بعد کیمرون کے رخصت ہونے کے بعد ساجد جاوید ، یورپ میں شمولیت کی حمایت ترک کر کے ٹریسا مے کے حلیفوں میں شامل ہوگئے ۔ اس کا انعام ٹریسامے نے انہیں کابینہ میں کمیونٹیز کے وزیر کے عہدہ کے صورت میں دیا۔ حکمران ٹوری پارٹی میں غیر معمولی ترقی اور ان کی مقبولیت کا اصل راز ان کی کھلم کھلا اسرائیل نوازی ہے۔ ٹوری پارٹی میں فرینڈز آف اسرائیل گروپ میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ ۲۰۱۲ میں اس گروپ کے ایک ظہرانے میں تقریر کرتے ہوئے ساجد جاوید نے کہا تھا کہ اگر انہیں برطانیہ چھوڑ کر مشرق وسطی میں سکونت اختیار کرنی پڑی تو وہ اسرائیل کو منتخب کریں گے کیونکہ صرف اسرائیل میں ان کے بچے ، آزادی اور لبرٹی کی گرمایش محسوس کریں گے۔ ساجد جاوید کا کھلم کھلا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے بایکاٹ کے سخت مخالف ہیں۔ حزب مخالف لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کے خلاف یہودیوں کی مہم میں بھی ساجد جاوید پیش پیش رہے ہیں اور ان پر انٹی سیمیٹیزم ، یہودیوں کی مخالفت کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ساجد جاوید کی ۱۹۹۷ میں ایک عیسائی خاتون لورا کنگ سے شادی ہوئی تھی جن سے ان کے ایک لڑکا اور تین لڑکیاں ہیں۔ ساجد جاوید کا کہنا ہے کہ گو ان کا تعلق مسلم گھرانے سے ہے لیکن ان کی کسی مذہب سے عملی وابستگی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ عیسایت برطانیہ کا مذہب ہے۔ پاکستانی بس ڈرائیور کے بیٹے ساجد جاوید جب ۲۰۱۰ میں پہلی بار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے تو اسی وقت سیاسی پنڈتوں کا کہنا تھا کہ یہ بہت تیزی سے اوپر جائیں گے۔ ریفرینڈم کے بعد جب ڈیوڈ کیمرون نے وزارت اعظمے سے استعفی دیا تھا تو ساجد جاوید نے پینشن کے وزیر اسٹیفن کریب کے ساتھ مل کر ٹوری پارٹی کی قیادت کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بعد میں جب ساجد جاوید نے ٹریسا مے کا سورج چڑھتے دیکھا تووہ اس مقابلہ سے الگ ہوگئے اور ٹریسا مے کا بھر پور ساتھ دیا ، جس کا ثمر انہیں اب وزیر داخلہ کے عہدے کی صورت میں ملا ہے۔ وزیر اعظم ٹریسا مے اس وقت امیگریشن کے جس مسلہ میں گرفتار ہیں اورسابق وزیر داخلہ کی حیثیت سے ان پر کیریبین سے نقل وطن کر کے برطانیہ آنے والوں کی نسل کے ساتھ ظالمانہ سلوک اور انہیں جبری برطانیہ سے ملک بدرکرنے کا جو سنگین الزام ہے ،کہا جاتا ہے کہ ٹریسا مے نے اس مسلہ میں اپنی ڈھال بنانے کے لئے ساجد جاوید کو وزیر داخلہ مقرر کیا ہے لیکن یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کب تک وہ ڈھال بنے رہیں گے؟