مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیدنا امام حسین نے خاموش تماشائی بننے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنا کرخدا کی راہ میں سب کچھ لٹا دیا
لندن ... دنیا بھر کی طرح برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیندت و احترام سے منایا گیا۔ دارالحکومت لندن میں مجالس عزا منعقد کی گیئں جہاں علما حضرات نے حضرت امام حسین کے فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالتے ہوئے امت مسلمہ کو یزیدیت کے آگے ڈٹ جانے اور حق سچ کا علم بلند رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ والتھم اسٹو کے دارالعلوم قادریہ جیلانیہ میں منعقدہ محفل میں پیر مظہر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا سیدنا امام حسین  ابن علی  نے ملوکیت کا راستہ روکنے کے لئے آواز بلند کی تھی ۔اسلام کو اس کی صحیح روح میں سمجھا جائے تو اس امرمیں ذرہ برابر شک نہیں رہ جاتا کہ اسلام نے انسانیت کو ملوکیت کے منافی نظام عطا کیا۔انہوں نے کہا کہ یزید اپنی ذاتی حثیت اور کردار کے لحاظ سے بھی خلافت کا کسی صورت اہل نہیں تھا ،پھر اس کے تقرر اور نامزدگی کا طریقہ بھی موروثی بادشاہت کا اثبات اور مشاورت و اہلیت کا انکار تھا ۔اس وجہ سے سیدنا امام سیدنا امام حسین نےحسین نے فیصلہ کیا کہ نظام اسلام کے ایک اہم ترین رکن کے خاتمے پر خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنایا جائے۔ اس موقع پر پیر صابر حسین شاہ، اخترشاہ اور حافظ شاہ محمد نے بھی اظہار خیال کیا اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا، جبکہ مشرقی لندن سے لوگوں کی بڑی تعداد نی اس محفل میں شرکت کی۔ السکینہ اسلامک ٹرسٹ میں علامہ ساجد سید نے عزاداران حسین کو خوب رلایا، میدان کربلا کا تقشہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے دی جانے والی قربانی رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہی مجلس شام غریباں برپا ہوئی جس میں عزاداروں نے اپنے آنسوؤں، ہچکیوں کے ساتھ حضرت زینب اور حضرت سکینہ کو پرسہ دیا۔