مقبول خبریں
مدر فائونڈیشن گوجرخان کے روح رواں راجہ عرفان کی برطانیہ آمد پر انکے اعزاز میں استقبالیہ
ماحولیاتی آلودگی کے باعث بچہ ماں کے رحم میں مر جاتا ہے یا اسکی افزائش رک جاتی ہے: ایک تحقیق
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
سیدنا امام حسین نے خاموش تماشائی بننے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنا کرخدا کی راہ میں سب کچھ لٹا دیا
لندن ... دنیا بھر کی طرح برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی یوم عاشور انتہائی عقیندت و احترام سے منایا گیا۔ دارالحکومت لندن میں مجالس عزا منعقد کی گیئں جہاں علما حضرات نے حضرت امام حسین کے فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالتے ہوئے امت مسلمہ کو یزیدیت کے آگے ڈٹ جانے اور حق سچ کا علم بلند رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ والتھم اسٹو کے دارالعلوم قادریہ جیلانیہ میں منعقدہ محفل میں پیر مظہر حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا سیدنا امام حسین  ابن علی  نے ملوکیت کا راستہ روکنے کے لئے آواز بلند کی تھی ۔اسلام کو اس کی صحیح روح میں سمجھا جائے تو اس امرمیں ذرہ برابر شک نہیں رہ جاتا کہ اسلام نے انسانیت کو ملوکیت کے منافی نظام عطا کیا۔انہوں نے کہا کہ یزید اپنی ذاتی حثیت اور کردار کے لحاظ سے بھی خلافت کا کسی صورت اہل نہیں تھا ،پھر اس کے تقرر اور نامزدگی کا طریقہ بھی موروثی بادشاہت کا اثبات اور مشاورت و اہلیت کا انکار تھا ۔اس وجہ سے سیدنا امام سیدنا امام حسین نےحسین نے فیصلہ کیا کہ نظام اسلام کے ایک اہم ترین رکن کے خاتمے پر خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اپنایا جائے۔ اس موقع پر پیر صابر حسین شاہ، اخترشاہ اور حافظ شاہ محمد نے بھی اظہار خیال کیا اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا، جبکہ مشرقی لندن سے لوگوں کی بڑی تعداد نی اس محفل میں شرکت کی۔ السکینہ اسلامک ٹرسٹ میں علامہ ساجد سید نے عزاداران حسین کو خوب رلایا، میدان کربلا کا تقشہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے دی جانے والی قربانی رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہی مجلس شام غریباں برپا ہوئی جس میں عزاداروں نے اپنے آنسوؤں، ہچکیوں کے ساتھ حضرت زینب اور حضرت سکینہ کو پرسہ دیا۔