مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
2004 میں مشرقی یورپ کے باشندوں کیلئے کھولی جانے والی امیگریشن غلط فیصلہ تھا: سابق وزیر داخلہ
بلیک برن ... برطانوی حزب اختلاف لیبر پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیر داخلہ جیک سٹرا نے نو سال قبل2004 میں اپنی پارٹی کے دور حکومت میں مشرقی یورپ کے باشندوں کیلئے کھولی جانے والی امیگریشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کا ایک انتہائی نامناسب اور غلط فیصلہ تھا۔ اپنے علاقے کے معروف مقامی اخبار لنکا شائر ٹیلیگراف میں خصوصی مضمون ضبط تحریر لاتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ اسوقت یورپی یونین میں شامل ہونے والے ملکوں پولینڈ ہنگری و دیگر کے باشندیوں کو فوری طور پر ورکنگ رائٹس دینا ایک سوچی سمجھی پالیسی تھی۔ جیک سٹرا نے کہا کہ میں نے ایک غلطی میں حصہ لیا لیکن میں اس میں اکیلا نہیں تھا ہم نے یہ سوچا تھا کہ یہ برطانیہ کے لئے فائدہ مند ہوگا کہ اگر یہ لوگ 2004ءمیں برطانیہ آکر کام کریں۔ لیکن یورپی یونین کے دیگر ملکوں خصوصاً فرانس اور جرمنی نے جنرل رولز پر کاربند رہنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے ان ملکوں میں 2011 تک نئی یورپی رکن ریاستوں کے باشندے کام کا حق حاصل نہیں کر پائے۔ برطانوی ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق 2010ءتک 5 ہزار سے 13 ہزار امیگرنٹس سالانہ کا اضافہ ہوا جس نے یہ ثابت کیا کہ ہمارے اندازے بے معنی رہے۔ جیک سٹرا کا کہنا ہے کہ2010ءمیں نیٹ مائیگریشن تقریباً ڈھائی لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ ان کے یہ خیالات انکےبعد آنے والے وزیر سابق وزیر داخلہ، شفیلڈ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والے ڈیوڈ بلینکٹ کے اس انتباہ کے بعد سامنے آئے کہ روما مائیگرنٹس کی بھرمار سے برطانیہ میں فسادات کے خدشات ہوسکتے ہیں، انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلواکیہ سے تعلق رکھنے والے روما گروپس جو شفیلڈ کے ڈسٹرکٹ میں آباد ہیں کا رویہ ایسا ہے جیسے وہ انتہائی پسماندہ علاقے یا جنگل میں رہتے ہوں کیونکہ ان میں سے بہت سے ایسی جگہوں پر نہیں رہے جہاں ٹوائلٹ کی سہولت ہو، انہوں نے کہا کہ ہمیں یہاں آنے والی کمیونٹیز خصوصاً روما گروپس کے رویئے اور کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا بصورت دیگر یہ ہمارے لئے دھماکہ ثابت ہوں گے۔ ڈپٹی پرئم منسٹر برطانیہ اور شریک اقتدار پارٹی لب ڈیم کے سربراہ نے بھی سابق ہوم سیکرٹری ڈیوڈ بلنکٹ کے اظہار تشویش کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے مائیگرنٹس کی آمد کے بارے میں کنٹرولز دوبارہ متعارف کرانے کی حمایت کی ہے۔ کیونکہ میں کشیدگی سے آگاہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوڈ بلنکٹ اس بارے میں صاف گو اور منہ پھٹ ہیں اور ان کو اپنے حلقے کے حوالے سے جو تشویش ہے وہ درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈیوڈ بلنکٹ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کے اگر آپ برطانیہ آئے ہیں اور یہاں قیام کر رہے ہیں، اپنی فیملیز کو یہاں لا رہے ہیں تو آپ کو پھر اس ملک کے طرزِ زندگی کے بارے میں بھی آپ کو احساس ہونا چاہے اور اس کا احترام کرنا چاہئے۔