مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
خواب جھلستے جاتے ہیں اک معصوم سی لڑکی کے
کسی بھی عورت اور اس کے متعلقین کے لیے سب سے مقدس اور سب سے اہم چیز اس کی عفت اور عزت ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے انتہائی وحشی معاشروں میں ر یپ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کی مثال ہمیشہ سر فہرست رہتی ہے کہ جہاں قابض بھارتی فوجی مقامی لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور خود مختاری کے مطالبے سے باز رکھنے کے لیے خواتین کی عزت پامال کرتے رہتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی صاحبان دل کے لیے شدید دکھ کا باعث ہوگی کہ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملیں گے جن میں قابض بھارتی فوجیوں نے جنسی درندگی کی ’انمول‘ مثالیں رقم کرتے ہوئے چھ سال کی نابالغ بچی سے لے کر حاملہ عورتوں تک کسی کو بھی نہیں بخشا، ایسا بھی بارہا ہوا کہ ساٹھ اور ستر سال کی عمر رسیدہ خواتین کو بھی درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔حال ہی میں اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ دنیا بھر میں بھارت کا منہ کالا کرنے کا باعث بنا جس میں بھارتی فوجی براہ راست تو شریک نہیں ہوئے لیکن انہوں نے وہاں ہندو مسلم فسادات کو ہوا دینے کے لیے کچھ ہندو انتہا پسندوں کو اپنے ہرکارے کے طور پر سامنے کردیا۔تفصیلات کے مطا بق اس سال کے ابتدائی دنوں میں،ریاست جموں کشمیر کے علاقے کاٹھوا کی ایک وادی سے آٹھ سالہ آصفہ بانو کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی جسے بدترین جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔۔اس بچی کا تعلق وہاں کے مسلمان خانہ بدوش گھرانے سے تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس بچی سے گینگ ریپ کرنے والے اسے ورغلا کر دیوی ستھان نامی ایک ویران مندر کی طرف لے گئے اور اسے وہاں بند کردیا۔اس کے بعد اسے بے ہوشی کے انجکشن لگائے گئے اور پھر لگاتار کئی روز تک آٹھ سے زائد افراد نے اسے اپنی حوس کا نشانہ بنایا۔ آصفہ بانو کے ساتھ یہ ظلم کرنے والوں میں بی جے پی کا ایک مقامی سیاستدان بھی شامل تھا۔بتایا جاتا ہے کہ اس بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے تمام کے تمام لوگ ہندو تھے اور انہوں نے اس کے ساتھ یہ ظلم کرکے اصل میں مسلمانوں سے انتقام لیا ہے۔قابل شرم بات یہ کہ گذشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کی اس عدالت کے باہر ہندو وکیلوں کا ایک گروہ جمع ہوگیا جس عدالت میں آصفہ ریپ اور مرڈر کیس کی سماعت ہورہی ہے۔ ان وکیلوں نے مسلمانوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ آصفہ کیس میں ہندوئوں کو بدنیتی کی بنیاد پر گھسیٹا جا رہا ہے۔تاہم اسی دوران سوشل میڈیا پر کچھ مقامی لوگوں نے آصفہ کے ساتھ ہونے والے اس ظلم پر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا۔انہوں نے فیس بک اور ٹوئیٹر پر اپنی پروفائل پکچر کی جگہ یہ جملہ لکھ دیا، ’ میںہندوستانی ہونے پر شرمندہ ہوں۔‘ جنسی جرائم کے حوالے سے بدنام ترین ممالک کی فہرست بنائی جائے تو بھارت کا شمار شروع کے دو چار ممالک میں ہوگا۔خود بھارتی عوام اپنے ملک میں جنسی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر شرمندہ بھی ہیں اور پریشان بھی۔ان کے لیے زیادہ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ مودی صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور دیگر سیاستدان جنسی جرائم میں کثرت سے ملوث پائے جارہے ہیں۔عوام ان کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یا پھر پولیس انہیں قانون کے شکنجے میں لانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ سیاستدان معاملے کو سیاسی رنگ دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اتر پردیش کے علاقے اونائو میں ایک سیاستدان کے ہاتھوں اپنی عزت گنوانے والی سترہ سالہ ہندو لڑکی کے معاملے کو ہی دیکھ لیں۔اس واقعے میں بھی بی جے پی سے ہیتعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینیگر کا نام لیا جارہا ہے۔ جون 2017میں ہونے والے اس واقعے میں نامزد ملزم کا تعلق اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی سے ہے۔مذکورہ لڑکی اپنے حلقے کے رکن اسمبلی کے گھر اس امید کے ساتھ گئی کہ ملازمت کے حصول میں اس کی مدد کی جائے گی لیکن وہاں کلدیپ اور اس کے بھائی اتل سنگھ سینیگر نے اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا۔ظلم کی بات یہ کہ پولیس نے مذکورہ رکن اسمبلی کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے لڑکی کے باپ کو حراست میں لے لیا۔رات کے کسی پہر رکن اسمبلی کے حامیوں نے تھانے پر حملہ کر کے لڑکی کے باپ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بے چارہ باپ اس تشدد کو برداشت نہیں کرسکا اور چند ہی روز میں اس کا انتقال ہوگیا۔ پولیس کی بے رحمی کی انتہا یہ کہ نہ تو لڑکی کو ریپ کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی نہ ہی اس کے باپ کی جان لینے والوں کو پکڑا گیا۔ مجبورا اس بے بس لڑکی نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیا ناتھ کے گھر کے سامنے خود کو آگ لگانے کی دھمکی دے دی جس پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آگئے اور ان سب کی مداخلت پر لڑکی کی عصمت دری کے الزام میں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کہ اگر اس کیس میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد مذکورہ رکن بی جے پی کے ساتھ کوئی رعایت برتی گئی تو ایسا کرنا مودی صاحب کی سیاسی موت کے مترادف ہوگا۔دیکھنا یہ ہے کہ مسٹر مودی اپنی پارٹی کے ایک معتبر رکن اسمبلی کو بچاتے ہیں یا پھر اپنی سیاسی خودکشی کا اہتمام کرتے ہیں۔ 2012میں ممبئی کی ایک بس میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی 23سالہ جیوتی سنگھ کی داستان الم سے کون آشنا نہیں، انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے یہ ایک انتہائی خوفناک واقعہ تھا، اخباری اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں ملوث مجرمان کو بچانے کے لیے بھی مبینہ طور پر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاسی لوگوں نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کامیابی نہیں ہو سکی۔اس ساری صورت حال میں مودی سرکار کو عالمی سطح پر شدید لعن طعن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست جموں کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی خود اس صورت حال سے اتنی پریشان ہیں کہ حال ہی میں انہوں نے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ان دو وزیروں کو اپنی کا بینہ سے باہر نکال دیا جن پر آصفہ بانو کی عزت پامال کرنے والے مجرمان کی پشت پناہی کا الزام تھا۔اگر مودی صاحب نے اپنی آستین میں پلنے والے اس طرح کے زہریلے سانپوں کو دودھ پلانے کا عمل جاری رکھا تو بھارت مذہبی اقلیتوں اور کم ذات کے ہندوئوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی ایک غیر محفوظ سرزمین بن جائے گا۔