مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہم آپکی کالونی نہیں آزاد ملک ہیں،انسانی حقوق کا معاملہ نہ چھیڑیں تو بہتر،سری لنکا کا کیمرون کو انتباہ
کولمبو ... دولت مشترکہ سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے آنے والے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو سری لنکن حکام نے پہلے سے متنبہ کر دیا ہے کہ وہ 2009 کے حکومت اور تامل باغیوں کی جھڑپوں میں مارے جانے والے افراد کے معاملے میں نہ پڑیں تو بہتر ہوگا۔ واضح رہے کہ کینیڈا اور ماریشش کے وزرائے اعظم اس اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔ یہ دونوں سری لنکا میں صدر مہندا راج پکشے کے ذریعے چار سال قبل تامل باغیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب کی مخالفت میں اس اجلاس کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم اپنے ملک میں بھاری تامل ووٹ بنک کی خاطر پہلے ہی اس دولت مشترکہ اجلاس میں شرکت سے معزرت کرچکے ہیں جبکہ برطانوی وزیر اعظم کو حزب اختلاف لیبر پارٹی کی طرف سے دبائو تھا کہ وہ بھی اس اجلاس کا بائیکاٹ کریں لیکن ڈیوڈ کیمرون نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اجلاس میں شامل ہو کر سری لنکا میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائیں گے۔ لیکن سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھیں اس کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ انھیں اس ضمن میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ سری لنکا کے حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم ایک خود مختار ملک ہیں۔ کسی کو سری لنکا سے اس طرح کی بات کرنے کا حق نہیں۔ ہم ان کی کوئی کالونی نہیں ہیں۔ ہم ایک آزاد ملک ہیں۔ دریں اثنا پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف دولتِ مشترکہ کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے سری لنکا پہنچ گئے ہیں۔ جہاں وہ دولتِ مشترکہ کے 15 سے 17 نومبر تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی کریں گے۔ اس اجلاس کا موضوع ’’مساوی نمو ، مجموعی ترقی‘‘ ہے۔