مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مصرمیں مدت پوری ہونے کے باوجود ایمرجنسی قائم، محمد مرسی کا جنرل کے خلاف مقدمے کا اعلان
قاہرہ ...محمد مرسی کی منتخب حکومت ختم کرنے والی مصر کی موجودہ حکومت ایمرجنسی کی مدت پوری ہونے کے باوجود اس صورتحال کے خاتمے کے اعلان میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ ایک عدالتی حکم کے باوجود ملک سے ایمرجسنی نہیں ہٹائی جا رہی۔ گو کہ دنیا بھر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مصر کے فوجی حکام کی آشیرباد سے برسراقتدار عبوری حکومت جمعرات تک ایسا کر دے گی مگر ایسا ہوا نہیں۔ جیل سے اپنے وکیل کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں برطرف صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ مصر کو اُس وقت تک استحکام نصیب نہیں ہوگا جب تک اُس انقلاب کی بساط نہیں لپیٹی جائے گی، اور ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں نہ لا کھڑا کیا جائے گا۔ انہوں نے جولائی میں اپنی معطلی کے خلاف احتجاج کرنے پر اپنے حامیوں کو سراہا، اورمصر کے فوجی سربراہ، جنرل عبد الفتاح السیسی پر غداری کا الزام لگایا۔ نظر بند صدر کے وکیل محمد الدماتی نے میڈیا کو بتایا کہ محمد مرسی ابھی بھی خود کو مصر کا صدر مانتے ہیں اور ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد خود کو ہٹانے والوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ درج کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس میں اِس جنرل کے اقدامات کو کالعدم دینے کی استدعا کی جائے گی۔ ادھر معروف امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اہمرجنسی تو منگل کے روز سے ہٹالی گئی تھی۔ تین ماہ قبل نافذ کی جانے والی ہنگامی حالت میں ان لوگوں کے خلاف مہلک کارروائی ہوئی تھی جو فوج کی طرف سے جمہوری طور پر منتخب، اسلام پرست صدر محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ حکام اخوان المسلمین کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کی زیادہ تر قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق فوج کی حمایت سے چلنے والی حکومت ایک عبوری منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوشاں ہے، جس کے تحت آئندہ سال نئے صدر اور نئے پالیمان کے لیے انتخابات ہونے والے ہیں۔