مقبول خبریں
مسلم کانفرنس کے مرکزی راہنما راجہ یاسین کے اعزاز میں چوہدری محمد بشیر رٹوی اور ساتھیوں کا استقبالیہ
بیسٹ وے گروپ کے سربراہ سرانور پرویز کی جانب سے کمیونٹی رہنمائوں کے اعزاز میں استقبالیہ
نبوت بھی اﷲ کی عطا ہے اور صحابیت بھی، نبوت بھی ختم ہے اور صحابیت بھی: ڈاکٹر خالد محمود
شریف فیملی کو فوری ریلیف نہ مل سکا، جولائی کے آخر تک سماعت ملتوی
مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوج نے نوجوان کا سر تن سے جدا کر دیا ،احتجاج،جھڑپیں
شیر خدا نے نبی پاک کی آواز پر لبیک کہہ کر اسلام سے محبت اور وفا کی عمدہ مثال قائم کی
پیپلزپارٹی ہی آئندہ انتخابات میں چاروں صوبوں میں اکثریت حاصل کریگی:میاں سلیم
مسئلہ کشمیر پرقوم کا نکتہ نظر اور قربانیاں رنگ لا رہی ہیں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
نیا موسم تمہارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پکچرگیلری
Advertisement
مدینہ مسجد یو کے اسلامک مشن راچڈیل میں فضیلت معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان
راچڈیل : مدینہ مسجد راچڈیل کے امام مولانا عبدالحکیم نے واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن و حدیث کی روشنی میں خوبصورت بیان فرمایا۔ " اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز "سجدہ کرتی ہے سحر جس کو وہ ہے آج کی رات" "رہ یک گام ہے ہمت کیلے عرش بریں " کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات معراج کے معنی ہیں عروج اور بلندی کی رات۔یہ رات اس لیے با برکت اور عروج کی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمانوں کی سیر فرمائی اور اللہ رب العزت کی تجلی سے سرفراز ہوئے۔امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک براق لایا گیا جو سفید رنگ کا تھا۔وہ اتنا تیز رفتار تھا۔کہ جتنی دور تک انسانی نظر پڑتی ہے اتنی دور اس کا ایک قدم پڑتا تھا۔میں اس پر سوار ہو گیا اور بیت المقدس پہنچا۔پھر دو رکعت نماز ادا کی۔میں مسجد اقصیٰ سے باہر آیا تو حضرت جبرائیل آمین علیہ السلام نے مجھ کو دو پیالے پیش کیے ایک میں شربت اور دوسرے میں دودھ۔میں نے دودھ کو پسند کیا۔تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فطرت کو پسند فرمایا۔اس کے بعد ھم آسمان پر پہنچے۔وہاں میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا۔جنھوں نے مجھے مرحبا کہا اور دعائے خیر دی۔اس کے بعد دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ علیہ السلام اور تیسرے آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا جنھوں نے مجھے مرحبا کہا اور دعائے خیر دی۔پھر چوتھے آسمان پر حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا۔اس کے بعد پانچویں پر ہارون علیہ السلام کو دیکھا۔چھٹے آسمان پر حضرت موسٰی علیہ السلام اور ساتویں پر حضرت ابرہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے مجھے دعائیں دیں۔پھر وہ گھڑی آگئی جب اللہ رب العزت نے اپنے دیدار کروایا۔ساتھ ہی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز اور مغفرت کے تحائف عطا کیے۔اور اپنے نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مرتبہ کل کائنات میں بلند کر دیا۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر