مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دولت مشترکہ ممالک لیگ کے زیراہتمام تعلیمی امداد کیلئے نمائش میں پاکستان کی شرکت
لندن ... دولت مشترکہ ممالک لیگ جسکی اصل بنیاد1929میں بانی ایلس ہیمنگ او۔بی۔ای نے ڈالی، یہ تنظیم کئی مقاصد کیلئے کام کر رہی ہے۔اس میں تعلیمی مدد بے حد اہمیت کی حامل ہے ۔ انسانی زندگیوں میں شعور،آسودگی اور ترقی کیلئے ایک زینہ فراہم کرنے کیلئے یہ لیگ ترقی پزیر ممالک کو تعلیم کی مد میں بے انتہا مدد فراہم کرتی ہے۔ اس سلسلے میں ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی لندن بارو آف چیلسی اینڈ کینزنگٹن میں ایک نمایش کا اہتمام کیا گیا، جس میں اس تنظیم کے تمام ممالک کے ہائی کمیشن کی بیگمات کو اپنے اپنے ملک کی دستکاری اور کھانوں کے سٹال لگا کر چیزیں فروخت کر کے چندہ جمع کرنے کی دعوت دی گئی،بازار میں اس سال بھی پاکستان ہائی کمیشن کی بیگمات اور اپوا یو کے نے حسب معمول پاکستان دستکاری اور کھانوں کے اسٹال پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کی اہلیہ بیگم زرینہ واجد حسن کی سرپرستی میں لگائے۔ بیگم زرینہ واجد حسن اپوا یوکے کی چیئرمین بھی ہیں۔ پاکستان کی دستکاری اور کھانوں کو تمام ممالک ہمیشہ پسند کرتے ہیں اور شوق سے خریدتے ہیں،تمام چیزوں کو فروخت کر کے انکا منافع کامن ویلتھ کنٹریز لیگ(سی سی ایل)کو دیا جاتا ہے۔یہ تنظیم جمع شدہ رقم سے ممبرز ممالک میں سے پسماندہ ممالک کی ہائی سکول کی ان ہونہار لڑکیوں کو مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے وظائف دیتی ہے جو مالی تنگدستی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کی اسطاعت نہیں رکھتیں تاکہ وہ تعلیم حاصل کر کے نا صرف شعور حاصل کر سکیں بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اپنی اور خاندان کی کفالت ،غربت کا خاتمہ کرنے اور آئندہ نسلوں کیلئے تعلیمی مدد اور اچھی تربیت کا ذریعہ بھی بنیں اور ملک و قوم کیلئے ترقی کا سبب بنیں۔ اس میلے میں لندن کے لارڈ میئر نے بھی شرکت کی اور پاکستانی چیزوں کو بہت پسند کیا،پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور ڈپٹی ہائی کمشنرعمران مرزانے بھی شرکت کی اور دیگر اسٹالوں کے علاوہ اپنے ملک کے اسٹالوں پر گئے اس میلے میں ریفل ٹکٹوں پر انعامات بھی تھے،ہائی کمشنر واجد شمس الحسن صاحب نے اپنی جانب سے ریفل انعام کیلئے پاکستان کا بنا ہوا قالین عطیہ میں دیا۔پاکستان کے اسٹالوں پر پاکستان ہائی کمیشن کی جن بیگمات نے حصہ لیا ان میں ہائی کمشنر کی اہلیہ بیگم زرینہ واجدکے علاوہ ڈپٹی ہائی کمشنر کی اہلیہ بیگم عائشہ عمران مرزا،سعدیہ مشتاق،مدیحہ شاہ زیب،فریدہ خالد،ڈاکٹر روبینہ،راحت پاشا،ناصرہ انجم،نتاشہ ذوالفقار،ہما لیاقت اور شائستہ بیگ شامل تھیں۔ جبکہ نغمہ بٹ نے اس نمایش میں سٹال کیلئے بھر پور مدد کی۔اپوا یوکے کی جنرل سیکرٹری شاہدہ خان اور پریس سیکرٹری قمر مرتضیٰ قریشی اسٹالوں پر موجود تھیں اور کام میں مصروف رہیں۔