مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
میں نے لکھا جو’ دل‘ تو ورق لال ہوگیا!!!!!
امریکا میں معاملات کو ہماری نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ امریکا ہی نہیں، دنیا کے ہر ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے میں معاملات کو دیکھنے کا ایک الگ زاویہ ہوا کرتا ہے۔گذشتہ دنوںجب ہمارے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نجی دورے پر امریکا گئے تو ائرپورٹ پر انہیں عام مسافروں کی طرح تلاشی کے مراحل سے گذرنا پڑا، ایسا کیا جانا وہاں کے نظام کا حصہ ہے۔ جناب وزیر اعظم چونکہ نجی دورے پر وہاں گئے تھے اس لیے ان کے ساتھ معمول کے مسافروں کا سا سلوک کیا گیا تھا، یقینا شکایت تب ہوتی کہ جناب وزیر اعظم سرکاری دورے پر گئے ہوتے اور انہیں عام مسافر کی طرح ان مراحل سے گذارا جاتا۔بلکہ میں تو یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنے ملک میں بھی اسی طرح کا نظام قائم کرنا چاہیے کہ جس میں کسی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جاسکے۔ کوئی ریمنڈ ڈیوس نہ ہو جو راہ چلتے پاکستانیوں کو گولیوں سے بھون دے اور ہاتھ جھاڑتا ہوا واپس اپنے دیس چلا جائے، نہ ہی ایسے سفارت کار ہوں جو عالم بدمستی میں اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک سگنلز کو ٹھڈے پر رکھ کر بے گناہ موٹر سائکل سواروں کو روندتے نکل جائیں اور نہ ہی کوئی ایسے غیر ملکی انجینئر ہوں جو اپنی حفاظت پر مامو پاکستانی پولیس ملازمین ہی سے مار پیٹ اور توتکار پر آمادہ ہوجائیں۔ویسے بھی عقل کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جو لوگ ہمارے تحفظ کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہوں، ان سے محبت کی جانی چاہیے۔امریکا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی credibilityکھو چکے ہیں۔گذشتہ کئی برسوں تک پاکستان میں جاری رہنے والی دہشت گردی نے ایک طرف پاکستان کو بہت سا اقتصادی نقصان پہنچایا تو دوسری طرف پاکستان کی credibilityکو بھی شدید زک پہنچائی۔ پہلے پاکستان کو دہشت گردی کی وارداتوں میں کچھ اس طرح الجھایا گیا کہ دنیا ان وارداتوں کے ذمے داروں کا تعین کرتے ہوئے خود پاکستان کی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھنے لگی۔الزام تراشیوں کا ایک ایسا سلسہ شروع ہوگیا کہ جس کا دور دور تک کوئی اختتام ہی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ہماری غلطی یہ کہ مصلحتوں کا شکار ہو کر ہم نے پتھر کا جواب ہمیشہ پھول سے دیا۔جسے ہم مصلحت اندیشی کا نام دیتے رہے، دنیا اسے ہماری بزدلی سمجھتی رہی۔ہمارے بارے میں طے کر لیا گیا کہ ہم کبھی کسی کو کچھ نہیں کہیں گے۔ہماری اسی مصلحت انگیز خاموشی نے ہمیں ہر میدان میں مشکوک کردیا۔شکوک و شبہات کی یہ فضا ابھی تک قائم ہے۔بمباری افغانستان میں ہوتی ہے، ڈو مور کا مطالبہ پاکستان سے کیا جاتا ہے۔ کبھی نام نہاد امداد بند کرنے کی دھمکیاں تو کبھی سفری پابندیوں کا ڈراوا۔صورت حال کو بگاڑنے میں وہ چند میڈیا ہائوسز بھی بہت پیش پیش رہے جو دعوی تو پاکستانی ہونے کا کرتے ہیں لیکن ان کی ڈوریاں کہیں اور سے کھینچی جاتی ہیں۔ان میڈیا ہائوسز کا کام یہ رہا کہ جس خبر کو حکومت پاکستان نے قو می مفاد کے برعکس جانا ان ہائوسز نے اسی خبر کو بریکنگ نیوز بناکر دنیا بھر کی پاکستان مخالف مہم کو مضبوط کیا۔برطانیہ میں کرائے کی ٹیکسیوں پر اگر چند مفاد پرستوں نے بلوچستان کے حوالے سے چند پاکستان مخالف بینر لہرادیے تو اس عمل کو تو ان میڈیا ہائوسز نے بھرپور انداز میں ہائی لائٹ کیا لیکن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف لندن شہر کی سڑکوں پر احتجاج ہوا اور پاکستان سے الحاق کے حق میں نعرے لگائے گئے تو اس کی معمولی سی بھی خبر نہیں دی۔ محبت کرنے والوں کی سرزمین پاکستان کا چہرہ انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کے طعنوں سے سیاہ کرنے میںایسے میڈیا ہائوسز نے جو مکروہ کردار ادا کیا اسے کوئی بھی غیرت مند پاکستانی کبھی معاف نہیں کر سکے گا۔ غیرت مندوں اورعزت داروں کے لیے ساکھ، بھرم اور بھروسے سے بڑھ کر قیمتی شاید اور کچھ بھی نہیں ہوتا، قومی ساکھ اور بھرم کو نقصان پہنچانے والوں کی حیثیت قومی مجرم کی سی ہوتی ہے۔ ہم پاکستانیوں کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاملات میں Unity of Time and Actionکا خیال نہیں رکھتے۔وقت پر علاج نہ ہو تو زخم ناسور بن جاتے ہیں۔انگریزی میں محاورہ ہے کہ Nip the evil in the bud۔ ہمارے معاشرتی نظام میں اکثر و بیشتر خرابیاں ایسی ہیں کہ اگر انہیں ابتداء میں روک لیا جاتا تو وہ معاشرتی لعنت کا روپ کبھی بھی اختیار نہیں کرتیں۔دہشت گردی بھی ایسے ہی معاشرتی ناسوروں میں سے ہے کہ جسے بالکل ابتداء میں نہ روکا جائے تو لاعلاج ہوجاتا ہے۔ہمارے سامنے سوات کی مثال ہے۔ سوات میں رہنے والے پہلے بھی نماز روزے کے پابند اور خوف خدا رکھنے والے آسان سے لوگ ہوا کرتے تھے، وہاں آج بھی اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ لیکن آپ کو یاد ہوگا کہ محض چند برس پہلے سوات میں ہر طرف موت کی حکمرانی تھی، سوات جو دنیا بھر میں اپنی فطری خوبصورتی اور دلکش مناظرکے سبب سیاحوں کی جنت کے طور پر جانا جاتا تھا، خوف کی وادی پرخار میں تبدیل ہوگیا۔ سیاحوں کی آمدو رفت ختم ہونے سے مقامی لوگوں کے پاس روزگار کے امکانات معدوم ہوگئے۔دہشت گردوں کے لیے بے روزگار اور ضرورتوں کے مارے نوجوانوں کو ورغلانا اور بھٹکانا آسان ہوگیا۔معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ حکومتی رٹ بالکل ختم ہوگئی۔عملی طور پر سوات ایک ایسا علاقہ بن گیا جو جغرافیائی طور پر تو پاکستان کا حصہ تھا لیکن وہاں حکومت پاکستان کی کوئی رٹ نہیں تھی۔ مجبوراً پاکستان آرمی کو مداخلت کرنا پڑی۔ دہشت گرد بحرحال دنیا کے کسی بھی حصے میں ایک منظم فوج سے مقابلہ نہیں کرسکتے، بالخصوص اگر وہ فوج پاکستان کی ہو۔سوات میں بھی ایسا ہی ہوا۔آج صورت حال یہ ہے کہ جس سوات میں پاکستان کا جھنڈا ڈھونڈے سے نہیں ملتا تھا، اسی سوات میں آرمی پبلک سکول اور کالج قائم ہے جس میں 3600سے زائد طلباء کے لیے حصول علم کی گنجائش ہے۔ بلکہ بقول آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، یہ سکول و کالج پاکستان آرمی کے زیر اہتمام چلنے والے چند بہترین اداروں میں سے ایک ہے۔ وہ تمام مدرسے، سکول اور دیگر تعلیمی ادارے جنہیں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا تھا، آج پہلے سے بھی کہیں بہتر حالت میں رواں دواں ہیں۔نئی سڑکیں بن رہی ہیں ، موٹروے سے سوات کو جوڑا جارہا ہے، پل بن رہے ہیں ، ہسپتال تعمیر ہورہے ہیں، سوات ایک بار پھر سیاحوں کی جنت میں تبدیل ہورہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ بنی بنائی دنیا کو دوبارہ سے بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اگر ابتداء ہی میں مقامی حکومت، مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کے تدارک کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیتی تو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت کبھی نہ پڑتی۔بحرحال ہم وہ قوم ہیں کہ جس کی ڈکشنری میں مایوسی اور نا امیدی کا مطلب گناہ ہوتا ہے۔حالات چاہے جو بھی ہوں، ہمیں اس گناہ سے بچتے رہنا ہوگا۔ زندہ رہنے کے لیے زندگی کی خواہش کے ساتھ ساتھ زندگی کا یقین بھی ضروری ہوتا ہے۔ یقین کی اعلی ترین صورت یہ ہے کہ کاغذ پر بنائے پھول مہکنے لگیں اور کہیں دل کا لفظ لکھ دیں تو دھک دھک سنائی دینے لگے۔